آنکھ سے چھلکاآنسو اورجا ٹپکا شراب میں : قاری محمدعبدالرحیم

سستے علاج سے محروم کرکے : قاری محمدعبدالرحیم

پاکستان دنیا کاواحدملک ہے جہاں کام کم اوراحتیاطین زیادہ کی جاتی ہیں۔دنیا بھرکے ترقی پذیرممالک اپنے ملکی اورقومی ہنراورپیشوں کوتحفظ دیتے،انہیں ملکی کاروباراورضروریات میں اپناحصہ ڈالنے کے لیے اپنے روایتی طریقوں سے کام کرنے دیتے ہیں تب جاکے،وہ اپنی ملکی وقومی اکانومی کوبڑاھاوادے سکتے ہیں،چائینہ نے اپنے ملکی کھانوں،پکوانوں،انٹرٹینمنٹ کی چیزوں کوملکی پراڈکٹ سے ہی بنایااورچلایا، علاج ومعالجہ کے اپنے اصولوں،اورطریقوں پرقوم کو چلایا،اپنازرِمبادلہ ادویات اورایسی چیزوں پرضائع نہیں کیا،تب جاکے وہ دوڑتی ہوئی معیشت ہمارے جیسے شاہ دماغوں کوصدیوں پیچھے چھوڑگئی، آج ہم ان کے محتاج ہیں کہ وہ سی پیک بنائیں توہم بھی اپنی معیشت کواس سے بھتہ لے کربہترکرپائیں،لیکن بھتہ پھروہی چندلوگ لے کریورپ وامریکہ کی معیشت میں حصہ ڈال لیں گے۔یہ قوم پھرسی پیک کے چوکوں چوراہوں میں کھڑی بھیک مانگ رہی ہوگی،کیوں؟اس لیے کہ ہم سب کچھ کھانا پینااوڑھناپہننایورپ کے ڈانوں یاہیپیوں کی نقل میں کررہے ہیں،ہمارے شاہ دماغ یورپی ڈانوں،عالمی سرمائیہ داروں،بنیوں، انسانوں کے خون پینے والوں کے طریقوں پرملک کوترقی کی راہ پرچلانا چاہتے ہیں،جس کے لیے وہ الیکشن جیتنے کے لیے کروڑوں روپے صرف ٹکٹ حاصل کرنے پرلگاتے ہیں،اورالیکشن جیتنے پرکتنے لگاتے ہوں گے؟اورکیا یہ اتنے پیسے اس قوم کی مرفہ حالی کے لیے خرچ کررہے ہیں،اورکیوں؟اوریہ لوگ اتنا پیسہ کہاں سے اورکیسے لاتے ہیں،یہ کسی کونہیں پتا،اسی طرح سے ہمارے اعلیٰ آفیسران اورصاحبانِ اختیاربھی کسی عالمی منظورنظری سے اورخاصی انسویٹ منٹ سے اپنی پوسٹیں حاصل کرتے ہیں،پسندیدہ عہدے اورجگہوں پرتبادلوں کے ریٹ جوابھی پچھلے بزداری دورمیں جاری ہوے،کیاوہ کسی غریب قوم کے لوگوں کے ہوسکتے ہیں،لیکن یہ سب کچھ کرنے کے بعدیہ لوگ کرتے کیا ہیں،قوم کے لیے نہایت دردکے ساتھ ایسے قوانین بناتے ہیں،جن میں قوم عالمی معیارکی آسائیشوں میں مدہوش جاتی ہے،بلکہ بے ہوش ہوجاتی ہے۔عالمی معیارکے کھابوں جن میں فاسٹ فوڈز،اورسوفٹ ڈرنکس،پیزے ہٹ،برگرز،عالمی مصالحوں والی بریانیاں،سویٹس،اورکئی قسم کی رنگین منرل والی چیزیں، شیشہ مخصوص سیگریٹ ڈرنک بارز شراب کے پرمٹ،فائیوسٹارہوٹلزاورپتا نہیں اورکیا کیاچیزیں جنہیں پاکستان میں چلانے کے لیے قانون بنایا جاتا ہے،اوراس قانون کے تحت پہلے مقامی پراڈکٹ پکوڑے سموسے،بریانی برف کے پیڑے قلفیاں اوراسی طرح کے مقامی مشروب اور فالودے وغیرہ پر اس حوالے سے پابندیاں لگتی ہیں کہ یہ مضرِ صحت ہیں،یہ کھلے بازارمیں بنتی ہیں،گردوغبار،مکھیاں وغیرہ صفائی کا فقدان،اس سب کے لیے وہ پیسے خرچ کرکے عہدے لینے والے استعمال ہوتے ہیں،اوروہ پہلے تواپناخرچہ پورا کرنے کے لیے نقدجرمانے لیتے ہیں، پھرلوگوں کومجبورکیا جاتا ہے کہ وہ اپنی پراڈیکٹ کوچھوڑکرعالمی بنیوں کی کمائی کے لیے کام کریں،۔ہمارے ملک میں لوگ احتجاجوں میں بائیکاٹ مہم چلاتے ہیں، تویہودی پراڈکٹ یافلاں چیز کا بائیکاٹ کرو، لیکن یہودی پراڈکٹ کے مثل اگرکوئی مقامی لوگ بنارہے ہوں توکہتے ہیں یہ ملاوٹ والی اورمضرِ صحت چیزیں ہیں، کہ ایک طرف ہم یہودیوں اورقادیانیوں کومخلص ِ انسانیت سمجھتے ہیں اوردوسری طرف ہم ان کے خلاف بائیکاٹ کی مہم چلاتے ہیں۔ اب صرف سوال یہ ہے کہ کیایہودی پراڈکٹ صرف چندعام استعمال والی اشیاء ہی ہیں، یہودی پراڈکٹ میں کیا ہماری تمام میڈیکل کی اشیاء نہیں ہیں؟جب کہ ہمارے حکمرانوں اوربااختیارلوگوں نے اپنی طبی پراڈکٹ پر پابندی اس طرح لگادی ہے کہ ہمارے اکثرادارے جوطب یونانی کی ادویات بناتے تھے، انہیں عالمی معیارکے نہ ہونے کی وجہ سے بندکردیا، باقی دنیا میں ایلوپیتھک کے علاوہ جومقامی ادویات تھیں جیسے آیورویدک اورچائینی طبی ادویات اور الیکٹروہومیوپیتھک ادویات کی درآمدات بندکردیں کہ ان کی فارمیسیاں ہمارے یہاں نہیں،حالانکہ یہی ادویات انگلینڈ جیسے ملک میں بھی دستیاب ہیں، ان کے ہاں توسوائے ایلوپیتھی کے کوئی اورفارمیسی ہے ہی نہیں،اورنہ وہاں ایلوپیتھی کے علاوہ کوئی علاج سرکاری طورپرمنظورشدہ ہے، لیکن وہاں بھی روایتی علاج کی ادویات کی درآمدپرپابندی نہیں،لیکن پاکستان میں یہ ایکٹ بنادیا گیا کہ سوائے چندمشہوردواخانوں کے باقی لوگ دواسازی نہیں کرسکتے، اورپھر سوائے ان طریقہ علاج کے جن کی فارمیساں ملک کے اندرہیں جیسے ہومیوپیتھک کے اس کی ادویات درآمدبھی کی جاسکتی ہیں،اسی طرح شایدطبِ یونانی کی بھی اجازت ہو،لیکن الیکٹروہومیوپیتھک،جوہومیو پیتھک سے ایڈوانس اورنہایت موثراورسستا علاج ہے،وہ ملک میں درآمدکرنا ممنوع ہوگیا جبکہ پاکستان بننے سے لے کراس ایکٹ کے بننے تک وہ باقاعدہ در آمدہی نہیں ہوتا تھا بلکہ ہزاروں روایتی معالج اس سے باقاعدہ عوام کی خدمت کررہے تھے،اسی طرح آیورویدک اورچائینی طب کی ادویات جوانڈیااورچائینہ سے آرہی تھیں، وہ بھی بندہوگئیں۔ادھرہم نے ایلوپیتھک کی خدمت میں کینسرہسپتال، دل کے ہسپتال،جگرٹرانسپلائٹ کرنے ولے ہسپتال،گردے لگانے والے، گردے واش کرنے والے ہسپتال،اب صرف رہ گیا ہے مردانہ قوت کے ہسپتال وہ نہیں بنائے جاسکے،اوروہ رہ سہہ کرہمارے حکیموں کی روزی روٹی کاسہارا رہ گیا ہے۔حالانکہ باقی امراض کاعلاج بھی روایتی طریقہ ہائے علاج میں موجودہے،اوروہ ہرغریب اوردوردرازکے علاقوں کوبھی دستیاب ہوتا ہے۔روایتی طریقہ علاج میں مرض کی تشخیص حکیم یاہومیوڈاکٹرکی ذمہ داری ہوتی ہے،جسے وہ اپنے علم اورتجربے سے کرلیتا ہے،ایلوپیتھک میں مریض کی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈاکٹرکواپنی مرض تشخیص کرکے دے یعنی لیبارٹریوں سے رپورٹیں کرائے،جو غریبوں کے بس کی بات نہیں،لہذاغرباروایتی معالجیں سے افادہ کرلیتے ہیں۔ لیکن ہواکیا کہ پیسے لگا کرحکومت میں آنے والوں نے اپنے پیسے پورے کرنے کے لیے، صحت انشورنس کارڈکا جوا ڈالاجوان کی اوران کے پارٹی ورکروں کے لیے چاندی بن گیا،سرکاری ہسپتال ویران ہوگئے، اورپرائیویٹ ہسپتال دن بدن رونق افروزہونے لگے،مفت ادویات کے بجائے عوام کوانشورنس کی زد میں آنے والی امراض کا علاج صحت کارڈ پرہونے لگا،اورعام امراض جن کی ادویات اسپتالوں سے مفت دستیاب ہوسکتی تھیں، وہ دوایاں نہ ہسپتالوں میں رہیں نہ سٹوروں سے دستیاب ہورہی ہیں،لوگ عام امراض میں ڈوبے بالآخر ان جان لیواامراض میں مبتلا ہونے لگے جوصحت کارڈ کی زدمیں آسکتے ہیں،اورپھراللہ کے حوالے۔اس طرح عوام متنفرہورہے ہیں کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرلاکھوں روپے تنخواہ لے کربیٹھے ہیں اوردوا لکھ کردیتے ہیں جاواپنی خرید لاو،تووہ کہاں سے خریدلائیں صحت کارڈسے تووہ ملتی نہیں۔لہذاحکومت روایتی طریقہ علاج کوبندشوں سے آزاد کرے کہ عوام اپنی حیثیت کے مطابق علاج معالجہ کراسکے،اورقومی خزانہ بھی ان اللوں تللوں سے لٹنے سے بچ سکے۔ لیکن حکمران اب بھی عوامی حالات کوسمجھنے کے بجائے عالمی اداروں کی پیروی میں ملک میں انارکی پھیلتے دیکھ رہے ہیں،اورترقی کے لیے پریشان ہیں۔ ترقی کبھی بھی ملکی وقومی ہنرو روایات کے برعکس کرنے سے حاصل نہیں ہوسکتی، اللہ تعالیٰ اس قوم کوعالمی ایجنٹوں سے بچائے اورملک وقوم کو اپنی مذہبی اوروایتی راہ پہ چلائے آمین وماعلی الاالبلاغ۔

تعارف: قاری محمد عبدالرحیم

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*