" میجی مٹھی بولی ہسنڑکی"  صائمہ سیلاچی

” میجی مٹھی بولی ہسنڑکی”  صائمہ سیلاچی

ہر قوم اپنی شناخت، ثقافت اور بقا کے لیے دو بنیادی سہاروں پر قائم ہوتی ہے: ایک اپنا آبائی علاقہ اور دوسرا اپنی مادری زبان۔ یہی عناصر کسی قوم کے درمیان انسیت، اپنائیت اور باہمی ربط کو مضبوط بناتے ہیں۔ مادری زبان نہ صرف اظہار کا ذریعہ ہوتی ہے بلکہ قوم کی پہچان بھی سمجھی جاتی ہے. تلی، جو بلوچستان کا سب سے بڑا دیہی علاقہ ہے، مختلف بلوچ قبائل کا مسکن ہے۔ تلی میں سب سے زیادہ آبادی سیلاچی قوم کی ہے، اسی وجہ سے اس علاقے کو سیلاچستان بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم یہاں دیگر بلوچ قبائل جیسے کہ رند، بگٹی،مگسی اور دیگر بھی رہائش پذیر ہیں. سیلاچی قبائل دیگر بلوچ قبائل کی طرح اپنے روایتی رسم و رواج پر عمل کرتے ہیں، تاہم ان کی ایک نمایاں خصوصیت اپنی مادری زبان ہسنڑکی سے  گہرا لگاؤ ہے جو ان کی قومی شناخت کو مضبوط بناتا ہے.

مادری زبان کسی بھی قوم کی پہچان ہوتی ہے جو اسے بھیڑ میں منفرد ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ یہ ایک اپنائیت اور انفرادیت کا احساس پیدا کرتی ہے جو انسان کو یہ بتاتا ہے کہ قدرت  نے ہر انسان، قبیلے، قوم اور نسل کو مختلف ناموں،,زبانوں اور علاقوں سے نوازا ہے. انسان اپنی مادری زبان کے ذریعے اپنی شناخت پر فخر محسوس کرتا ہے اور اعتماد کے ساتھ کہتا ہے کہ یہ میری زبان ہے اور یہ میرا علاقہ ہے۔ یہ وہ قیمتی ورثہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے اور انسان کو
قدرت کی عطا کردہ اس انفرادیت پر شکر گزار بناتا ہے۔
میں نے ہسنڑکی زبان اپنے لوریوں میں سنی ، اپنے بچپن سے اسے اپنی کہانیوں میں سجایا ، میری خوبصورت یادیں ہسنڑکی میں ہیں میں جب پیچلر ڈگری کر رہی تھی وہاں کوئی بھی اسٹوڈنٹ جو میری زبان بولتی تو مجھے ایسے لگتا جیسے کوئی اپنا فرد ہے مجھے میرے بچپن کی لوریاں ، اپنے بچپن کی یادیں تازہ ہوجاتیں۔ میری ہسنڑکی زبان کی اپنی ایک تاثیر ہے اسکا اپنا ایک اثر ہے۔ ۔

بلوچ قوم میں بلوچی اور براہوی کے بعد ہسنڑکی تیسری بڑی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے۔ ہر باشعور قوم کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی مادری زبان کی حفاظت کرے، اس کی ترویج کرے اور آنے والی نسلوں تک اسے محفوظ انداز میں منتقل کرے۔ مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں مادری زبانوں، خصوصاً ہسنڑکی، کو وہ توجہ اور سرپرستی حاصل نہیں ہو سکی جو اس کا حق ہے۔

.آخر میں اپنے تمام سیلاچی اقوام سے اتنا کہوں گی کہ اپنی زبان کو بچائیں ، اپنی زبان میں لکھیں ، شاعری لکھیں ، غزلیں لکھیں ، اسے کتابی شکل دیں اپنے بچوں کو ہسنڑکی سکھائیں کیونکہ سبی وہ شہر ہے جہاں مادری زبانیں متروک ہورہی ہیں۔ مادری زبانوں سے لوگ دور ہوتے جارہے ہیں مجھے دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے لوگ بھی اپنی ہسنڑکی زبان کہیں چھوڑ نہ دیں۔

آئیے اپنی زبان کا تحفظ کریں ، اپنی زبان کو جب تک اپنے گھروں میں ، اپنی روز مرہ کی زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے آنے والی نسلیں اپنی مادری پیاری بولی ہسنڑکی ترک کردیں گے.

تعارف: raztv

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*