پنجاب بلدیاتی انتخابات کیلئے تیار ہے : سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب

پنجاب بلدیاتی انتخابات کیلئے تیار ہے : سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب

لاہور: سی پی ڈی آئی کی جانب سے فریڈرک نومان فاونڈیشن (ایف این ایف) پاکستان کے تعاون سے”ماحولیاتی تبدیلیوں کے خاتمے اور موافق ماحول کی فراہمی میں مقامی حکومت کا کردار”کے عنوان سے صوبائی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا ۔جس میں ممبران صوبائی اسمبلی ،محکمہ لوکل گورنمنٹ اور ماحولیات کے افسران، ماہرین تعلیم، صحافیوں اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری محکمہ لوکل گورنمنٹ سید مبشر حسین نے موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو کم کرنے میں اپنے محکمے کے کردار کو اجاگر کیااور کہا کہ ہم نے ملک میں مقامی حکومت کو مضبوط نہیں کی،مکمل طور پر فعال،عوامی نمائندہ ،بھرپور وسائل کی حامی باختیار مقامی حکومت کا نظام ہی شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں کو ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے مقامی آبادی کو بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے تصدیق کی کہ پنجاب اگلے سال رمضان کے بعد بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈویلپمنٹ کنسلٹنٹ زبیر فیصل عباسی نے کہا کہ موسمیاتی طغیر اور اسکی شدت میں مزید اضافے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں خصوصاً کمزور اورغریب گروہوں کے لیے تباہی کا خطرہ بڑھ جائے گا اس حوالہ سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ آفات کے خطرے میں کمی کیلئے موثر اقدامات کیے جاسکیں۔ملک میں مقامی حکومتوں کے قوانین موسیماتی تبدیلی جیسے مسئلے سے نہیں نمٹ سکتے تاہم مقامی حکومتوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔قبل ازیں معظم علی جنجوعہ پراجیکٹ مینیجر سی پی ڈی آئی نے موسمیاتی بحران کو کم کرنے کے لیے مقامی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا او رکہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے میدان میں ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ کسی ایک ادارے یا محکمے کا کام نہیں ہے اس میں پبلک پرائیویٹ سیکٹر کا تعاون بھی ہونا چاہیے۔

سابق مئیر لاہور کرنل ریٹائرڈ مبشر نے کہا کہ تمام حکومتوں نے اپنے اپنے ادوار میں ظلم کیے ہیں شہروں کی آبادیاں کنٹرول نہیں کی گئیں،صحت و صفائی کی صورتحال بہتر کرنے پر توجہ مرکوز نہیں کی گئی ہمارے شہر آبادیاں بھیڑ کی شکل اختیار کر چکی ہیں یہ تمام مسائل موسمیاتی تبدیلی کی موجودہ صورتحال کا باعث ہیں وفاقی اور صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کو فعال کرنے کے حق میں نہیں ہے جس سے لوگوں کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ مقامی حکومتوں کا قیام ہی ان تمام مسائل کا حل ہے جس پر تمام حکومتوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔

سابق میئر ڈسٹرکٹ نارووال جناب احمد اقبال نےموسمیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے مقامی حکومتوں (LGs) کے کردار کی اہمیت پر زور دیا۔اور کہا کہ ہم تقریباً ہر سال سموگ، گرمی شدت اور مون سون کے سیلاب جیسے مسائل سے نمٹتے ہی۔اگر ائر کوالٹی انڈیکس کے آج کی سطح برقرار رہتا ہے تو لاہور میں پیدا ہونے والا ہر بچہ 10 سال کی متوقع عمر سے محروم ہو جائے گا جو 5 سال قبل 5 سے 7 سال تھا ۔ پاکستان میں موسمیاتی ایمرجنسی کا اعلان کرنے کا یہ بہترین وقت ہے۔ دنیا 15 منٹ کے شہروں کی بات کر رہی ہے جبکہ پاکستان میں ہمارے شہر حد سے تجاوز کرتے جارہے ہیں ۔ صرف ایک بااختیار اور مستحکم مقامی حکومت کانظام ہی ہمارے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کو موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے تیارکر سکتا ہے۔ جہاں پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات ور آب و ہوا کی تبدیلی کی تلافی کے لیے اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی انتظامات اور صلاحیت بہتر کریں ۔

محمود مسعود تمنا، ڈی جی شکایات اور انکوائری محکمہ لوکل گورنمنٹ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گرین ہاؤس گیس کا اخراج کل دنیا کا 0.8 فیصد ہے، لیکن پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے حوالے سے 8 ویں سب سے زیادہ خطرے والے ممالک میں شامل ہے۔ ضروری ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پالیسی کی سطح پر تبدیلیاں کی جائیں اس حوالہ سے مقامی حکومتوں کو ترقی پسند ہونا ہو گا۔ پروفیسر ڈاکٹر عارفہ طاہر چیئرپرسن انوائرمنٹل سائنس ڈیپارٹمنٹ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات ہماری صحت، ہماری کمیونٹیز، ہماری معیشت، ہماری سلامتی اور ہمارے مستقبل کو خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔ مقامی حکومتوں پر ماحولیاتی منصوبہ بندی کے ذریعے عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے تیاری اور موافق ماحول کی فراہمی کی ذمہ داری بڑھ رہی ہے۔

کانفرنس سے طاہر مہدی، ایڈووکیٹ مبین، ایم پی اے کنول لیاقت،ایم پی اے عظمی کاردار،ایم پی اے کنول پرویز اورایم پی اے ثانیہ کامران نے بھی خطاب کیا۔

0Shares

تعارف: رانا علی زوہیب

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

0Shares