تحریر : قاری محمدعبدالرحیم
پاکستان کی غریب عوام اورامیر اشرافیہ کی پوری داستان اس مصرع کے اندر سموئی ہوئی ہے،پاکستان کے وجود پذیر ہونے کے ساتھ ہی غریب اور محبِ اسلام عوام آگ اور خون کے دریا عبور کرکے کٹے پھٹے، بچھڑے اجڑے، بھاگتے گھسٹتے، جب اس حدوداربعہ کے اندرداخل ہوئے تو انہوں نے اسے حرم کعبہ کی طرح چوما،اوراپنے تمام دکھ درد ایسے بھول گئے جیسے جنتی دنیاکی صعوبتوں کو بھول جائیں گے۔لیکن یہ جنت نہیں دنیاتھی یہ وہ مکروفریب کا گھرتھا جس نے اپنے اندر ہر بسنے والے کو دھوکے میں رکھ کر خوشیاں دکھا کر غموں میں پھنسانا تھا، سووہی ہوا، نفس کے پجاری شیطان کے ہاتھوں میں کھیلنے والے، وہ جو دنیا ہی کو اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں، انہوں نے اس قوم پر تسلط جمالیا،کہیں ہمدرد بن کر کہیں سردرد بن کر،سیاست دان ہمدرد بن کر اس قومِ مساکین پر مسلط ہوتے رہے، اور سرکاری لوگ سردرد بن کر مسلط رہے۔وہ غریب وسادہ مسلمان جو اسلام کی محبت میں اپنی دنیا کو تج آیا تھا، وہ کسی مسلمان حکمران کے آگے سرِ تسلیم خم کیسے نہ کرتا، کہ وہ تو اسی وقت کے لیے سب کچھ قربان کرکے آیا تھا،کہ میرا بھائی عنانِ اقتدار سنبھالے ہوگا، میرے دین کا سربلند ہوگا،میراجھنڈاہوگا، دنیا مجھے ایک اسلامی ملک کا آزاد مسلمان دیکھے گی،لہذاوہ اس کے لیے پہلے تو گھربار رشتے ناطے،سب چھوڑ آیاتھا اور اب اپنے خون پسینے کو اس ملک وقوم کی خاطر بہانے لگا، اس کے بچے بٹھے پر دسمبرکی سردی میں سرپاوں سے ننگے اینٹوں کے لیے گارا اٹھارہے تھے، کوئی کھیتوں میں کپکپاتے ہوے پانی لگا رہا تھا،کوئی سڑکوں پر صفائی کررہاتھا، کوئی کارخانے میں تپتی دوپہروں میں جھلس رہا تھا، کوئی اونٹوں کے کاروانوں کوجھلستے صحراوں میں کھینچے جارہاتھا،یہ سب کس کے لیے کررہے تھے کہ میرا ملک آزاد رہ کر سربلندرہے، لیکن افسوس اس اتنے خلوص سے ملک کی خدمت کرنے والوں کے خون پسینے اور اور آنسووں کے قطرے، مدھ مست حکمرانوں، ملک پر مسلط سرکاری ملازموں کی بادہ آشامیوں کی نظر ہوتے رہے، دنیا کا واحد ملک ہے جس میں مزدور کی مزدوری ساری دنیا کے ممالک سے کم ہے،اورافسر کی تنخواہ ساری دنیا کے افسروں سے زیادہ ہے، اورملک تقریباپوری دنیا سے زیادہ وسائل رکھتا ہے بقول ہمارے سابقہ وزیرِ اعظم کے کہ یہا ں اللہ نے بارہ موسم دے رکھے ہیں،لیکن یہ مے پرست حکمران اور اس ملک کے مقتدران جو اس ملک کے وسائل صرف اپنی جاگیر سمجھتے ہیں، اوریہ اس قوم کے مزدور کسان اورکسی بھی کام میں مشغول انسان کو سوائے ووٹ دینے اور ٹیکس دینے کے اورکسی کام میں اس ملک کا حقدار نہیں سمجھتے، کبھی کسی صاحبِ اقتدار نے کسی افسر نے، کسی سرمائیہ دار نے، کسی جاگیردار نے، کسی کارخانہ دار نے، اس ملک کے ان گونگے بہروں کا شکریہ ادانہیں کیا کہ یہ بے زبان مخلوق جو ہمارے لیے سامانِ تعیش مہیا کررہی ہے، ہم اس کا احسان ہی مان لیں، دیں کچھ نہ، لیکن ایسا کیونکر ہوکہ ملک اسلام کے لیے بنا تھا، یہاں مسجدیں توبن گئیں، لیکن اسلام کا قانون نہ بن سکا، کہ اسلام انسانوں کو ایک جیسا سمجھتا ہے، وہ پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ، اس کی ضروریات ایک جیسی ہیں، اس کی خوراک ایک جیسی ہے، یہ نہیں کہ ایک کے کھانے کے لیے سوروپے اوردوسرے کے کھانے کے لیے دس ہزار دئیے جائیں، اسلام مزدور اور خلیفہ کی تنخواہ ایک جتنی رکھتا ہے، لیکن یہاں جو اس قوم کے خون پسینے کی کمائی سے پڑھتا ہے اسے تنخواہ پھر اسی قوم کے خون پسینے سے اتنی دی جاتی ہے کہ قوم دن بھر پسینے بہاتی رہے تو شام کو صاحب کے عیش کو پھر حکومت آئی ایم ایف سے قرضہ لے جب جاکے شامِ عیش منائی جاتی ہے۔ ہرماں جو بچوں کو جنتی ہے تو اللہ سے یہ امید رکھتی ہے کہ اس کا بچہ اس کا نام روشن کرے گا، بچہ تو یہی کرتا ہے، لیکن ماں کا نام تو روشن ہوتا ہے کہ پاکستانی مائیں اتنے جفا کش بچے پیدا کرتی ہیں لیکن بچہ تو یہ سب کچھ کرکے بھی مفلسی کے اندھیروں میں ڈوبا کہیں دنیا ہی سے ڈوب جاتا ہے، اورماوں، بہنوں، بیٹیوں کے ٹپ ٹپ گرتے آنسوان شراب کی بوتلوں میں جاگرتے ہیں جو میرے ملک کے اعلیٰ عہدے داروں، ملک کے حکمرانوں، ملک کے سرمائیہ داروں، ملک کے جاگیرداروں،کی لذتِ عیش کے لیے مے کدوں میں کھلی رکھی ہوتی ہیں، کیا اس قوم کے لوگوں میں کوئی ایک بھی ایسا ہے جو اس بات کے لیے اٹھ کھڑا ہو کہ وہ ان تمام غیر اسلامی تفاوات کو ختم کرے گا،یہ تنخواہوں کی ریل پیل، یہ اداروں کی تزین وارائش، یہ صاحب لوگوں کے لیے کروڑوں کی گاڑیاں، یہ افیسران کے لیے پرٹوکول، یہ ان کے اختیارات، یہ ان کی اولادوں کے لیے خصوسی تعلیم، یہ ان کی رہائش گاہوں کے لیے سیکورٹی، ان اللوں تللوں کوختم کرسکے،بالخصوص ملک کے اندر تعلیمی نظام کو ایک جیسا اورقومی اور مذہبی نصاب پر محیط کوئی بنا سکتا ہے، ہرگزنہیں،کیوں کہ یہ انگریزوں کے دئیے قانون ہی کی برکت ہے، کہ ایک نک کٹا آفیسر کا بیٹا بھی آفیسر ہی لگتا ہے، ایک سیاست دان کا بیٹاچاہے وہ برگرہی ہو،سیاست دان بنتا ہے،اگر تعلیم ایک جیسی ہوجائے تو ایسے برگر بچے تو پھریتیم خانوں ہی میں رہیں نا۔لیکن اس کے باوجود اس قوم کو بے وقوف بنانے والے ہر پانچ دس سال بعد ایک نئی قیادت کو اٹھا لاتے ہیں،جس کو ٹارگٹ دیا جاتاہے کہ پہلی قیادت کے خلاف ہر الزام اور برائی کو سرعام کرو، اور نادان عوام ایک کے بعد ایک شخصیت کے خلاف تو میدان میں کود پڑتی ہے لیکن ان قوانین کو جن کی وجہ سے اس ملک کا نظام درہم برہم ہے ان کے خلاف نہ کوئی قیادت آواز بلند کرتی ہے نہ ہی عوام واویلا کرتی ہے، جس نے ان کا ناطقہ بندکررکھا ہے،کیوں اسلیے کہ پاکستان کے اندر کوئی بھی قیادت عالمی اشیر باد کے بغیر زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی،اور نظام وہ لوگ تبدیل کرسکتے ہیں، جو اپنے دین اپنی ثقافت سے منسلک ہوں جوعالمی شیطانی منصوبوں کو تنقید کی نظر سے دیکھ سکتے ہوں، لیکن یہاں تو عام سیاسی لیہڈر سے لے کر مذہبی سیاسی لیڈر تک سب ملک اور قوم اور بالخصوس اپنی بقا عالمی ایجنڈے کی تکمیل میں دیکھتے ہیں،، اورعالمی ایجنڈاہی یہ ہے کہ عوام کا خون چوسواور چند ضمیرفروشوں کی تجوریوں کو بھرو، اس سرمائیہ داری کو تحفظ دینے کے لیے،سرکاری آفیسران کو بے تحاشہ اختیاردو،اور تنخواہیں بھی اتنی دوکہ عوام اس کا نام سن کر ہی کانپ جائیں۔ اس لیے یہ تمام اللہ کے ولی محب وطن ملازمیں، اورحکمران اس عالمی ایجنڈے کوخداکاحکم اور اس کی تقسیم سمجھ کر اس قوم کا خون پینے میں مصروف ہیں، اورعوام آج بھی اپنی بے کسی کے آنسووں سے ان کی شرابِ عیش کی لذت کو بڑھا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اس قوم کو صالحہ قیادت، اورخداخوفی والی سرکار عطافرمائے، جسے ڈر ہوکہ اس کوقیامت میں پوچھا جائے گا۔وماعلی الاالبلاغ۔
راز ٹی وی اردو