آنکھ سے چھلکاآنسو اورجا ٹپکا شراب میں : قاری محمدعبدالرحیم

سیاست بھی سیکھو! قاری محمدعبدالرحیم

تحریر : قاری محمدعبدالرحیم

حکمرانی یا شہرت اکثر ستارے کی بلندی  پر منحصر ہوتی ہے،یعنی تقدیرمیں ہوتی ہے۔پرانے زمانے کی حکایات میں ہے کہ ایک دفعہ عقل اورکرم میں تقرار ہوگئی عقل نے کہا کہ اگر میں ساتھ نہ دوں توتم کسی کوسربلندنہیں کرسکتے۔کرم یعنی تقدیرنے کہا توکسی سے علیحدہ ہوجادیکھو میں پھر بھی اسے سربلندکردوں گی۔اسی بات کوواضح کرتے ہوے میاں محمدبخش نے کہا ہے،”بے عقلاں  دے نوکرویکھے دانشمند سیانے“۔کہاجاتاہے کسی عیالی کے گھرپیداہوابچے کے کرم ایسے ہوگئے کہ وہ پتھرکو ہاتھ لگائے توسونا ہوجائے،اس نے جواربیجی لیکن اس کودانوں کے بجائے موتی لگنے لگے، اب اس عقل سے عاری کویہ سمجھ نہ تھی کہ موتی کتنے قیمتی ہوتے ہیں، اس نے ان موتیوں کوپتھرجان کرباجرے سے چڑیاں اڑاناشروع کردیں۔بادشاہ نے اس کے ہاتھوں میں یہ برکت دیکھی تواسے اپنے محل میں لے آیا اسے اپنی بیٹی کا رشتہ دے دیا، لیکن وہ اس سب کھیل کوکچھ نہ سمجھ پارہاتھا، حتیٰ کہ جب اسے دلہن نظر آئی تواس کے کمرے سے بھاگ کھڑاہوا،دلہن بیچاری بھی پیچھے بھاگی آگے تالاب تھا، وہ عقل سے عاری اس تالاب میں کود گیا۔کہتے اس وقت کرموں نے عقل سے معذرت کی اوراسے کہا اب توہی کچھ مدد کرتوعقل فورا اس بندے کے دماغ میں آگئی،اور وہ تالاب سے باہر نکلا دلہن نے پوچھا آپ مجھ سے بھاگے کیوں تھے، تو اس نے کہا میرے جسم سے بوآرہی تھی میں نے مناسب نہ سمجھا کہ آپ سے اسی گندی حالت میں ملوں توپردہ رہ گیا۔آج بھی دنیا میں ایسے کئی لوگ ہیں، جن کی تقدیر انہیں کہیں شہرت کی بلندیوں پر لے جاتی ہیں،کہیں کاروبار کی بلندیوں پر۔لیکن ہماراموضوع آج پاکستان کی سیاست ہے، پاکستان ایک سیاسی لیڈر کی ہمہ وقتی جدوجہد سے بنا تھا، اور اس قائدِ محترم نے کنکھیوں سے سیاسی حالات کو ہر طرف سے سامنے رکھا  صرف کام کرنے صرف اخلاص سے یہ مرحلہ انجام پذیر نہ ہوا،قائدِ اعظم کے بعد سیاسی داووپیچ کے ذریعے ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی شہرت کا فائدہ اٹھایا لیکن وہ جہاں سیاسی داووپیچ کے ماہر تھے وہاں ہی ان کی انا نے ملک کو ٹکڑے کرنے میں نادانستہ ہی سہی حصہ ضرور لیا، اس کے بعد سیاست میں ایک نیا سکندر داخل ہوا جو ایک کاروباری فیملی سے تھا، جسے کام سے عبادت کی حد تک لگن تھی، لیکن اکثر کاروباری لوگ سیاست نہیں کرسکتے،اسی طرح سے میاں نوازشریف بھی،کام کی لگن اور بلند ستارے کی وجہ سے آتے ہی حکومت کے سنگھاسن پر چڑھ بیٹھے، لیکن سیاست کی کن اکھیوں سے کچھ لاعلم ہی تھے کہ اٹھتے اور گرتے رہے، لیکن کام کی لگن اورسمجھ کی وجہ سے سوسیاسی کمزوریوں کے باوجودہر بار کچھ نہ کچھ نیا کرجاتے،لیکن اپنے کسی بھی کام کوسیاسی طور پرکیش نہ کرا سکے، حتیٰ کہ ایٹمی دھماکوں جیسے ایک  بہت بڑے کام کو بھی وہ کیش نہ کرا سکے بلکہ ایک سال کے بعدہی وہ اقتدار سے بھی گئے اور پھر ملک سے بھی نکال دئیے گئے،پھرجب ان دونوں معتوب پارٹیوں نے ایک میثاقِ جمہوریت کیا تو بمشکل ملک  میں انٹری ملی،لیکن الیکشن میں آنے کی اجازت نہ ملی الیکشن کے دوران محترمہ بے نظیر کوشہید کردیا گیا،اب میاں صاحب نے الیکشن بائیکاٹ کا ا علان کردیا جو صدمے میں پڑے آصف زرداری صاحب نے منع کردیا اورا س طرح الیکشن میں حصہ لینے کے عوض اقتدار پیپلز پارٹی کے حصے میں آگیا، 2013تک پیپلز پارٹی نے  اپنے سیاسی شعور کے مطابق اچھا یا برا ملک کو چلایا جب کہ انہیں ورثے میں ملے ملک میں آٹھ سالہ دور آمریت کا گزرا تھا۔ بقولِ عمران خان جس میں عوامی فلاح  کے کام نہ ہونے کے برابر ہوے تھے حتیٰ کہ بجلی ایک میگاواٹ تک بھی انہوں نے  نہ بنائی۔لا محالہ عوامی حکومت کوعوامی مسائل کے لیے قرضے بھی لینے پڑے  ایسے بھی کام کرنے پڑے جو نہایت مشکل فیصلے تھے۔اگلے الیکشن میں حکومت نوازشریف کو مل گئی لیکن ملک اسی طرح ڈگمگارہا تھا، حکومت نے اپنے کاروباری مہارت سے ملک کے اندر ایسے کام کئیے جو چلتی معیشت والے ممالک میں بھی کم ہوے تھے، عالمی معاشی استعمارکو یہ ہضم کرنا مشکل تھا، سی پیک کے سامنے آتے ہی عالمی سازشوں کا جال پھیل گیا۔ جس کو کوئی سیاست دان ہوتا تو کیش کرالیتا لیکن ایک صرف مخلص اور کام کی لگن والا بندہ اپنے لیے مصیبت بنا بیٹھا،حکومت سے ہی نہ نکالا گیا بلکہ تاحیات نااہل قرار دیا گیا۔کیوں؟اسلیے کہ سیاست نہ کرسکتا تھا، سابقہ چارسالوں سے ایک چال بازسیاست دان نے ملک کے وہ لتے لیے کہ میرے اللہ تیری دہائی، عوام جھولیاں اٹھا اٹھا کر دعائیں کررہے تھے، کہ اللہ اس سے نجات دے،لیکن جب وقتِ نجات آیا تو اس بندے  نے  عالمی استعمار جس کے ہاتھ اس نے پاکستان کو گروی رکھاہے۔ اس کے ذمے لگا دیا کہ اس نے مجھے نکالا ہے۔قوم اورملک آئی ایم ایف  کے گروی  پڑاہے اور ملک میں شور چل رہا ہے کہ امریکہ نے سازش کرکے صرف عمران کی حکومت ختم کرنے کا کہا ہے۔اوران کو لایا گیا ہے کہ یہ امریکہ  کے غلام ہیں،اور خود جس نے امریکہ کے کہنے پر کشمیر کو انڈیا کے حوالے کردیا،اورپھر کرفیومیں سسکتے کشمیریوں  کے زخموں پر انڈیا سے تین سال تک جنگ نہ کرنے کے معاہدہ کا نمک چھڑکا۔ یورپی یونین کے کہنے پر توہینِ رسالت قوانین کو ختم کرنے کی کوشش کی، توہین رسالت کے خلاف جدوجہد کرنے والی جماعت کو دہشت گرد اور کالعدم قرار دیا،وہ کہتا ہے،ہم کوئی غلام ہیں،اور لوگوں کو ان کے خلاف ابھار رہا ہے جنہوں نے ملک کو استحکام دیا، حالات کو کنٹرول کیا،کیوں؟ اسلیے کہ موجودہ حکومت جس نے ساڑھے تین سال سابقہ حکومت کے خلاف جمہوری جدوجہد کی،اور بالاخر جمہوری طریقے سے عدمِ اعتماد کرکے حکومت کو تبدیل کیا،اور آتے ہی اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا دفاع کرنے کے بجائے۔ کام کی طرف توجہ دینا شروع کردی، ابھی حکومت آدھی ہے کہ صدرزبردستی براجمان ہے، لیکن پھر بھی دوست ملکوں کے دورے کرکے ان سے مالی امداد لینے کی کوشش کی،جو شاید اسی وجہ سے بارا ٓور نہین ہورہی کہ حکومت آدھی ہے۔اور اس کی بین وجہ صرف سیاست  نہ کرنا ہے۔ شہباز شریف صاحب کو سب سے پہلے یہ چاہپیے تھا کہ وہ سابقہ حکومت کے ساڑھے تین سالوں کا وائٹ پیپر جاری کرتی کہ اس حکومت نے بیرون ممالک سے قرضے اور جو معاہدے کئیے ہیں،وہ کیا ہیں،اور آئی ایم ایف سے جو تین سال تک سالانہ بجٹ لیا وہ کن معاہدات اور شرائط پر لیا ہے، سٹیٹ بینک کو کیسے آئی ایم ایف کے حوالے کیا ہے،  اوراب ان حالات میں موجودہ حکومت کے پاس کیاآپشن ہیں کہ وہ کس طرح اور کتنی مدت میں ان سے نبرد آزام ہوسکتی ہے۔تویہ ہم کوئی غلام ہیں،کا چورن نہ بکتا۔عوام کو یہ سب کچھ اب بھی بتانے کاوقت ہے۔ اتحادی پارٹیوں کو بھی بتایا جائے کہ الیکشن قبل ازوقت اس حکومت کو کرانا ایسے ہی کہ جیسے کسی اندھے قتل کو اپنے سر لینا۔لہذاساری متحدہ حکومتی پارٹیاں اپنے اپنے  دائرہ کار میں اپنے حلقہ ہائے انتخاب میں عوامی اور ملکی مفاد کے کام کریں اور آئیندہ الیکشن کے لیے کسی جذباتی نہیں کارکردگی کی بنیاد پر قوم سے ووٹ لیں۔لہذااب بھی حکومتی پارٹیوں کے پاس وقت ہے کہ کسی بدتمیزی،اور کسی جذباتی الاوپر پکڑ دھکڑ کے بجائے۔سابقہ حکومت کی کارکردگی رپورٹ عوام کے سامنے رکھی جائے جو صرف تجزیہ نہ ہو بلکہ سرکاری اداروں کے  مصدقہ اعداد وشمارپر ہو،اور ساتھ ہی  ان سائیڈ کام جیسے ڈالر کو پر لگانا رئیل سٹیٹ  کا کارو بار چلانا،ملک کی زمینوں کو اونے پونے بیچنا،بیرونی سرمائیہ کارو ں کو ایمنسٹی دینا، ان سب پر پروگرام کرائیں جائیں، تاکہ عوام کو سمجھ آئے کہ کون کس کا غلام ہے، اداروں کے خلاف بولنا بھی جرم ہی ہے لیکن کیا قوم وملک کو اس طرح اپنے اختیار سے بیچنا کوئی جرم نہیں ؟۔ لہذاان اصل جرائم سے پردہ اٹھائیں اور قوم کو حقائق سے آگاہ کریں، اللہ آپ کا حامی وناصر ہووما علی الاالبلاغ۔ 

تعارف: قاری محمد عبدالرحیم

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*