آنکھ سے چھلکاآنسو اورجا ٹپکا شراب میں : قاری محمدعبدالرحیم

امرِ بالمعروف ونہی عن المنکر: قاری محمدعبدالرحیم

  تحریر : قاری محمدعبدالرحیم

اللہ پاک نے قرآن میں ایک عبرت انگیزواقعہ بیان فرمایاہے، کہ جب فرعون غرق ہونے لگا تو کہنے لگا  ”میں ایمان لاتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگروہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے،اور میں مسلمانوں میں سے ہوں (،تو  اللہ نے فرمایا) اب؟ پہلے تو نافرمان تھا،اورتو تھا مفسدین میں سے“۔ یعنی انسان کو جس کو اللہ نے فرمایا ہے،کہ ”وہ کمزورپیدا کیا گیا ہے“لیکن اس کو دماغ ایسادیا کہ وہ جب ذرا جوانی اور اختیار میں ہوتا ہے تو وہ انسان تو انسان اللہ کے مقابلے میں کھڑاہوجاتا ہے، جس طرح فرعون نے بیسیوں سالوں تک  اپنے آپ کو رب منوایا، اور اختیار کے دوران جب موسیٰ علیہ السلام نے اسے کہا کہ تو اللہ پر ایمان لے آتووہ اپنے وزیر ہامان سے کہنے لگا کہ تم میرے لیے مٹی کو آگ دو اور اس سے ایک مینار بناو کے میں اوپرچڑھ کر موسیٰ کے الٰہ کو دیکھوں مجھے لگتا ہے کہ وہ  (نعوذ باللہ)جھوٹ بول رہا ہے۔ لیکن جب موت نے آن پکڑاتو وہ کہا جو اوپردرج ہے۔تواللہ نے اس کا منہ بندکرکے فرمایا کہ اب نہیں،اورساتھ یہ فرمایا کہ ہم تیرے بدن کو بچارکھیں گے کہ لوگوں کے لیے عبرت ہو۔آج پاکستان میں ایک ایسی حکومت جس نے پاکستانی عوام کو مہنگائی بے روزگاری،لاقانونیت،فرعونیت کے ساتھ اس قدربے بس ولاچار کردیا کہ لوگ بچوں سمیت نہروں میں کودکرخودکشیاں کرنے لگے، کہیں بچوں کو مائیں بیچنے کے لیے لے آئیں،ٹیکس  اور مہنگائی اور غریب ماری کا یہ عالم ہوا کہ بجلی جس کی چوری اکثر سرکاری اوربااختیارلوگوں نے کی ، لاکھوں بااختیار لوگ بل  دیتے ہی نہیں، اوہزاروں سرکاری ملازموں کو تنخواہوں کے ساتھ بجلی فری ہے، لیکن نقصان پورا کرنے کے لیے وہ غریب عوام جو ایک وقت کا کھانا کھاتے،اورایک وقت کا بچا کر ماہانہ بل ادا کرتے ہیں، ان پر بلا جواز دوگنا بل ڈال کرپوراکیا گیا۔ پھر دوگنا بھی تو خیر تھی، جس کا بل پانچ سوروپے ماہانہ بنتا تھا، اس کو پندرہ سے پچاس ہزار تک  کے بل دئیے گے،جس پر بعض مجبور لوگوں نے بل کو دیکھ کر ہی خودکشی کرلی،اورکچھ نے گھر بار بیچ کر اس ملک کے نقصان کو پورا کیا۔پھر جب مہنگائی بڑھتی تو حکومتی وزرا ٹی وی پر آکر کہتے، کہ  دوکے بجائے ایک روٹی کھائیں، لیکن خود یہ سارے وزیر اورمقتدر دو کے بجائے چار گنا کھانے لگے۔ میرے نبی  ﷺنے فرمایا ہے کہ مظلوم کی فریاد سے ڈروکہ اس میں اور اللہ میں کوئی پردہ نہیں ہوتا۔پاکستانی قوم گنہگار ضرور ہے لیکن ہے تو اللہ کی مخلوق نا، اللہ کو اپنے کسی بندے کی مظلومیت  ایسے ہی دیکھی نہیں جاتی جیسے ایک ماں کو  اپنے نافرمان بچے کی تکلیف بھی برداشت نہیں ہوتی،کیونکہ میرے نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ اپنے بندے سے ستر ماوں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔اسی لیے فرعون کو کئی سالوں تک مہلت تو دئیے رکھی لیکن جب اس نے خود کو مسلمان کہا تو اللہ نے فرمادیا کہ اب؟توتو میرے بندوں کو میری نافرمانی کے ساتھ ستاتا رہا،اورفساد میں مصروف رہا،مجھے کسی کی تسلیم وعبادت کی ضرورت نہیں، چل منہ بندکر۔انسان کتنا ہی بڑافرعون ہو لیکن اسے پیداکمزورہی کیا گیا ہے،جب  وہ میرے رب کی پکڑمیں آتا ہے تو وہ اپنے نفس کو فریب دینے کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، لیکن اس عمر اوروقت میں جب وہ بے بس وکمزور ہوچکا ہو، شاید اس کا یمان تو قبول کرلیا جائے لیکن اس کے ذمے وہ حقوق العباد، اورظلم وجبر تو معاف نہیں ہوسکتے نا جب تک وہ اپنا رویہ قطعی بدل نہ لے۔اورتوبہ یارجوع زبان کے الفاظ کو نہیں کہتے بلکہ ان افعال اورجرائم سے ہٹنے اوران پر شرمندہ ہونے سے ہوتا ہے۔ہماری دنیا میں یہی طریقہ چل رہا ہے کہ بغل میں چھری اورمنہ میں رام رام،۔موجودہ وزیرِ اعظم پاکستان کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد کیا پیش ہوئی،حکومت نے پاکستان کی خودمختاری، اور اسلام کی طرف داری کو اپنے خلاف عدمِ اعتماد کی وجہ بتانا شروع کردیا، اورپھر جب اپنے  پارٹی ممبران کو بھی اپنے ہاتھ سے نکلتے دیکھا تو عدالتی سہارے کے علاوہ  مذہبی سہارالینا شروع کردیا کہ میری پارٹی کے نام پرووٹ لے کر میرے خلاف عدمِ اعتماد کرنے والے، اسلامی  حوالے سے بھی زندیق ہوگئے ہیں، حالانکہ اسلام کے پہلے خلیفہ نے جب خلافت سنبھالی تو فرمایا تھا، اگر میں کوئی لغزش کروں تو آپ کیا کریں گے تو صحابہ نے تلواریں نکال کرکہا تھا کہ تم نے اگر ایسا کیا تویہ ہماری تلواریں تمہارا فیصلہ کریں گی،توکیا وہاں یہ نہیں کہا جاسکتا تھا،  جب میں خلیفہ بن گیا ہوں تو مجھے تم کو برداشت کرنا پڑے گا،میں جو بھی کروں تم میرے خلاف ہونے والے، اسلام سے خارج ہوجاوگے کہ تم ایک خلیفہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوے ہو،لیکن آپ نے فرمایا شکرہے کہ مجھے آپ پھسلنے نہ دیں گے۔ امرِ بالمعروف اورنہی عن المنکریہ ہے کہ،ملک کے تمام قانون واختیارکے والی احکام ِ الٰہی کے تحت کسی بھی غلط کام کو اپنے اختیارواقتدارکی طاقت سے نہ کریں،ہر بھلے کے کام کو اپنے اختیارواقتدار سے کریں، لیکن ہمارے ملاوں اورپیروں نے صدیوں سے لوگوں کویہی بتایا ہوا ہے کہ اسلام میں امربالمعروف نمازوروزہ کرنے کا کہناہے، اورنہی عن المنکرعوام کو بدعات اورفروعی مسائل میں کمی بیشی پرروکنا ہے،یعنی ایسی برائی جو اقتدار کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی اس کے اخروی نقصانات بتاناہے۔ لیکن امر بالمعروف یہ ہے کہ کارپردازانِ سرکارخودکو قوم کا ملازم سمجھیں نہ کہ مالک، اپنے اختیارارت کے بجائے لوگوں کے حقوق کو ترجیح دیں،اپنے ہر قول وفعل پہ خود کوجواب دہ سمجھیں۔قانونِ اسلامی کے برعکس کسی قانون کا تحفظ وتابعداری نہ کریں۔امرِ بالمعروف یہ ہے کہ ملک کے اندراسلامی قوانین کا نفاذہونہ کہ کافرانہ قوانین کے تحت امرِ بالمعروف کیا جائے،اورنہی عن المنکریہ ہے کہ تمام قوانین جو قران وسنت کے مغائر ہیں ان کو یکمشت مسترد کردیا جائے، منکرات اگر حکمران یا افسر سے بھی ہوں تو اسے روکا جائے۔لیکن خود سے دھوکا کرنے والی قوم جو جرم اوراستغفاربیک وقتے جاری رکھے ہوے ہے،ہمارے ایک ٹیچر دوست جب ابھی انٹرنیٹ کا دورنہیں تھا،۔ آنکھوں سے لگا کر مکہ مدینہ دکھانے والی ایک مشین میں کسی نے ننگی عورتوں کی تصویروں والی ریل ڈال رکھی تھی، اوروہ بچہ سکول میں لے آیا، اب وہ پچھلے ڈیسک پربیٹھا چوری چھپے اسے دیکھ رہا تھا، کسی دوسرے بچے نے استاد صاحب سے کہا اس کے پاس ننگی تصویروں والی مشین ہے، ماسٹر صاحب نے اسے کھڑا کیاتلاشی لی،تووہ نکل آئی، اب انہوں نے اسے خوددیکھا،اور لڑکے کوکان پکڑادئیے، ادھر سے پھر کر آئیں اور آنکھوں سے وہ مشین لگائیں اورکہیں توبہ توبہ اورلڑکے کوایک تھپڑ لگادیں اور آگے چلے جائیں، پھر آئیں وہ مشین آنکھوں سے لگائیں اوردیکھیں،اورپھرکہیں توبہ توبہ اورلڑکے ایک تھپڑ لگا دیں۔توبہ کایہ طریقہ ہے ہمارے عوام اور حکمرانوں کا، جب ناموسِ رسالت پریورپی یونین نے حملہ کیا، توانہوں نے کہا، ہم یورپی یونین کو ناراض نہیں کرسکتے،اورپاکستان کے بے گناہ شہریوں کو رمضان شریف کے اندرروزے کی حالت میں بے دردی سے گولیوں اورتیزاب سے مارا، امریکہ نے جب کہا مسئلہ کشمیرسے دستبردار ہوجاو،بلا چوں چراانڈیا کے کشمیر کوضم کرنے پرکوئی ردِ عمل نہ دیا،جب  فیٹف نے اسلام کے مغائر قانون سازی کاکہا وہ کردی، اور بالاخرملک آئی ایم ایف کے قدموں میں رکھنے کے بعد،اپنے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد آنے پر،امریکہ کو absolutely not کہا تھا،یورپی یونین کے بارے میں کہنے لگے، کہ ہم ان کے غلام نہیں،اوربھولی قوم کہنے لگی دیکھو اسلام اور خودمختاری کے لیے اسے یورپی یونین اور امریکہ اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں،حالانکہ جسے یورپی یونین اورامریکہ اقتدار سے ہٹاتے ہیں،اس کے خلاف عدمِ اعتمادنہیں کچھ اور آتا ہے۔سمجھنے والوں کو شاید سمجھ آجائے کہ اسلام کو کون استعمال کررہا ہے،اور کون اسلام لانا چاہتا ہے۔اللہ اس قوم پررحم فرمائے آمین وماعلی الاالبلاغ۔

تعارف: قاری محمد عبدالرحیم

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*