تحریر : قاری محمدعبدالرحیم
جب سے ربیع الاول شریف کا چاندطلوع ہوا ہے، اہل محبت تو دیوانے ہوگئے ہیں، لیکن اہل علم ودانش انجانے ہوگئے ہیں۔ایک طرف محبت کے دعوے دار، مجنونان ِ دودھ بنے ہوے ہیں،اوردوسری طرف علم کے دعوے دار بخویشِ خود مہدی ِ موعود بنے ہوے ہیں۔محبت والوں کے سروگیت دلوں کو گرما رہے ہیں،ایمانوں کو جلا رہے ہیں،شوقِ وافر سے سر دھنتوں کے دَھن کو دُھنا رہے ہیں، کہتے ہیں لیلیٰ نے مجنوں کو بے حال دیکھا تو اپنے گھر سے اس کے لیے دودھ بھیجنا شروع کردیا، کچھ موجودہ زمانے کے مجنووں کی طرح کے مجنوں اٹھے اور لیلیٰ کی گلی میں جا بیٹھے،اب دودھ لانے والی کو معلوم نہ ہوا جو پہلے چیتھڑوں میں لپٹا دیکھا اسے ہی پلادیا، کرتے کرتے کچھ ہفتے گزر گئے لیلیٰ کو اشتیاق ہوا کہ دیکھوں میرا مجنوں کتنا صحت مند ہوگیا ہے۔ کنیز سے کہا دودھ کے کٹورے کے ساتھ یہ چھری لے جاو، اور دودھ پلانے کے بعد کہنا، لیلیٰ نے کہا ہے کہ اپنا خون نکال دو، جب مجنوں، دودھ پی چکا تو کنیزنے کہا کہ لیلیٰ کا حکم ہے کہ اس چھری سے اپنے جسم سے خون نکال دو، تودودھ کے مجنوں نے کہا وہ مجنوں تو آگے بیٹھا ہے، جاو اس کے پاس،جب وہ اس بے حال ونڈھال کے پاس گئی تو اس نے اس کو بھوک سے غنودگی میں دیکھا، تو اسے کہا لیلیٰ نے کہا ہے کہ اپنے جسم سے خون نکال دو،وہ جھٹ سے غنودگی سے باہر آگیا اور چھری لی اور اپنے بے خون جسم کو چھیدنے لگا،کئی پچھ لگانے کے بعد کہیں سے دوچار قطرے خون نکلا،وہ پیالے میں ڈال دیاا ور خوشی سے نہال ہوگیا، آج دنیا کے ہر کونے میں میرے نبی ﷺ کے وہ مجنوں جوظلم وکفر کی آندھیوں میں بھی، کلمہ رسول؛ ﷺ کواپنے سینے سے لگائے ہوے ہیں، کہیں گولیوں سے چھلنی ہورہے ہیں، کہیں زندہ چیرے پھاڑے جارہے ہیں،کہیں آگ میں جلائے جارہے ہیں، کہیں سالوں سے گھروں میں بند پڑے ہیں اوردنیا تماشہ دیکھ رہی ہے۔کوئی پرسانِ حال نہیں کیوں؟کہ انہوں نے اسلام کا جنوں پالا ہوا ہے،جوکفر کی موت ہے، جوشیطان کے لیے مصیبت ہے،جوظلم کے لیے رکاوٹ ہے،جوانسان کے لیے ہی نہیں سارے جہان کے لیے رحمت ہے، میرے نبی ﷺ کی میلاد کی خوشی جس کو نہیں بھاتی اسے کفر،شیطان اور ظلم بھاتے ہیں۔لیکن خوشیاں کرنے والے بھی صرف اپنے جنون میں نہ رہیں، اصلی مجنونانِ نبیﷺ کی بھی خبر لیں، ان کے رقصِ بسمل کا تماشہ نہ کریں۔میرے نبی ﷺ اپنے امتیوں کا یہ حال دیکھ کرمغموم ہیں مسرور نہیں،اپنے لائے ہوے دین کی یہ خواری کہ امت جو آزاد ہے وہ بھی دین کے قوانین کی پیرو نہیں بلکہ کفر کے قوانین اپنائے ہوے ہے۔اور صرف اپنائے ہوے ہی نہیں بلکہ ان کی باقاعدہ پاسبانی کررہی ہے،اور پھر محبت کاا ظہار کرنے والے،رنگ ونور سے تو اظہار کررہے ہیں۔اتباع ِ دستورسے نہیں،دوسری طرف داعیانِ اسلام ہیں۔ کہتے ہیں،اسلام میں کتنی عیدیں ہیں؟،اور کتنی منائی جارہی ہیں،نبی ﷺ کا میلاد منانا،صحابہ سے ثابت ہے؟اللہ نے کہاں فرمایا ہے کہ میلاد مناو؟وغیرہ کی رٹ لگی ہے۔عید تو خوشی کوکہتے ہیں،لہذاخوشی کو کوئی عید کہہ لے تو کیا جرم ہے،کہ غلام فرید نے کہا ہے، ”یار فریدا لکھ عید مناسوں جدوں وچھڑے ملسن ماہی“اوراللہ نے کہاں فرمایا ہے کہ میلاد کو عید نہ کہنا؟لیکن کیا صحابہ سے یہ ثابت ہے کہ صحابہ نے اپنی زندگی میں اسلام کے بجائے کفار کے قوانین کی پیروی کی ہو۔صحابہ نے اپنے مسلمانوں پر ظلم ہوتے دیکھا ہوتوکہا ہو کہ یہ اس ملک کا اندرونی معاملہ ہے،یایہ کہا ہو کہ ہم اقوامِ متحدہ میں آواز اٹھائیں گے،؟صحابہ تو صحابہ میرے نبی ﷺ نے جب اپنے حلیف قبیلے جو کافر تھا، کفارِ مکہ کے حلیف قبیلے نے اس پر شب خون مارا تو اطلاع ملتے ہی میرے آقا ﷺ نے مکے والوں کواپنے حلیف قبیلے کی خفیہ مدد کرنے پر ان کے پاس قاصد بھیجا اورتین شرائط رکھیں۔۱) بنوخزاعہ کے مقتولین کا خون بہادیا جائے۔۲) بنوبکر کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں۔۳) معاہدہ حدیبیہ ختم کیا جائے۔قاصد کو قریش نے کہا ہمیں تیسری شرط منظور ہے،توپھرمیرے نبی ﷺ نے بلااطلاع ان پرلشکرکشی فرمادی۔اوراسی لشکرکشی کے دوران مکہ فتح ہوا تھا۔ لہذاکفر وشرک کی اطاعت سے بڑا نہ کوئی شرک ہے نہ کوئی کفر، تو جو امت آج اپنے ہر معاملے میں کفروشرک کے قوانین کی پابند ہے،اسے یہ لفظی معنوں کوعقیدے بناکرنفرت میں مبتلا کرنے والے، یہ سارے ہوس پرست ہیں،علامہ اقبال نے اپنی ایک نظم فرشتوں کا گیت میں کہا ہے، کہ ”دانش ودیں وعلم وفن بندگیِ ہوس تمام۔عشق گرہ کشائے کا فیض نہیں عام ابھی۔جوہرِ زندگی ہے عشق، جوہرِ عشق ہے خودی۔آہ کہ ہے یہ تیغِ تیزپردگیِ نیام ابھی۔“کہ یہ سارے دانش ودیں علم وفن صرف اپنی ہوس کی بندگی ہے، کہ عشق جو اصل گرہیں کھولنے والا ہے اس کا ان کی زندگیوں میں فیض عام نہیں،کیونکہ زندگی کا جوہر عشق ہے اور عشق کا جوہر خودی ہے، اور خودی کی یہ تیز تلوار ابھی پردہ نیام میں ہے،لہذایہ ملابقولِ اقبال”کم نگاہ وکور ذوق وہرزہ گرد۔ملت ازقال واقوالش فردفرد۔دینِ کافر فکروتدبیر و جہاد۔دینِ ملافی سبیل اللہ فساد۔وما علی الاالبلاغ۔
راز ٹی وی اردو