دنیا تو گول ہے : قاری محمدعبدالرحیم

تحریر : قاری محمدعبدالرحیم
کہتے ہیں نیوٹن کا تیسراقانون ہے کہ ہرعمل کا ردِ عمل اسی طاقت سے ہوتا ہے جس طاقت سے عمل کیا جائے، گیند یا پتھر کو جس سپیڈ سے کسی دیوار پرماروگے وہ اسی سپیڈ سے تمہاری طرف واپس آئے گا، اسی لیے غالب نے کہا ہے ”میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد۔سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا“یہ قانون گیند پر زیادہ صادق آتا ہے،کہ وہ اندر سے خالی ہوتا ہے، اس کا وزن اس کے حجم سے کم ہوتا ہے، سائنسی لحاظ سے میری رائے میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، لیکن جوبات میں عرض کرنا چاہتا ہوں،وہ ہے اس زمانے کی میڈیائی وارکے بارے میں ہے، آج دنیا نے سائنسدانوں کی ایجاد چیزوں سے دنیا کے اندر مثبت فوائد کے بجائے منفی فوائد کا حصول شروع کردیا ہے،میڈیا اس زمانے میں دنیاکا سب سے بڑا ہتھیار بن چکا ہے، یہ ایٹم بم سے بھی زیادہ خطر ناک ہے، اور یہ بغیر جسمانی توڑ پھوڑ کے زندہ انسانوں کو مرا ہواہونے کا یقین دلا سکتا ہے، اورجس زمانے میں یہ صرف زبانوں سے کانوں تک چلتا تھا اس زمانے میں بھی ایسے کئی چمتکار اس سے لوگ کر لیتے تھے، کہتے ہیں کہیں سیدھے سادھے ان پڑھ لوگوں کا ایک بچہ انگریز فوج میں بھرتی ہوگیا، ایک دن وہ چھٹی پر گھر واپس آرہا تھا، تو کسی میڈیائی دماغ نے اسے دیکھ لیا، جو گھوڑی پرسوار تھا، تو اس نے اس پیدل بندے سے حال احوال پوچھ کر گھوڑی کو ایڑ لگائی اورہواہوگیا، راستے میں اس فوجی کا گاوں پڑتا تھا، سیدھا ان کے گھر گیا،اور بڑی افسردہ سی شکل بنا کر کہنے لگا، اللہ کی رضا ذرائع نے بتا یا ہے کہ آپ کا بیٹا شہید ہوگیا ہے، وہ سادہ زمانہ تھا ماں باپ رونے پیٹنے لگے، سارا محلہ اکٹھا ہوگیا، اورسب آہ وبکا کررہے تھے کہ اتنے میں وہ فوجی بھی گاوں کے سامنے والی چڑھائی چڑھا تو دیکھا کہ اس کے گھر میں رواس پڑا ہوا ہے اس نے بھی بستر وہاں ہی پھینکا،اور دوڑتا ہوا روتا پیٹتا گھر میں آگیا، اب گھر کے ایک ایک بندے سے گلے لگ کرروتا، بالآخر جب اس کا صدمہ کم ہواتو خیال آیا کہ کسی سے پوچھوں کہ روتے کیوں ہواورکون مرا ہے؟ تو اس نے بین کرتی ماں سے پوچھا امی فوت کون ہوا ہے تواس کستانی قوم کی ماں نے کہا بیٹا تم مرگئے ہونا، تواس نے غصے میں آکر کہا، ماں میں تو تمہارے سامنے کھڑاہوں، تو ماں نے کہا بیٹا وہ گھوڑی والاجھوٹ تو بول کر نہیں گیا نا، بلا تمثیل میری پاکستانی قوم کو گھوڑی والوں نے کہا، یہ حکمران قوم وملک کو لوٹ کر کھاگئے،چور ہیں چورہیں، اورصرف اسی میڈیائی ذرائع کے مطابق چوروں کے خلاف کاروائی شروع ہوئی، دن رات ایک کرکے، عدالتوں نے اداروں نے چوروں کوکھنگالنا شروع کیا، کچھ ثابت نہ ہوسکا، تو ایک نادانستہ جھوٹ پر نااہل قرار دے کر ملک اور قوم کے سر سے چوروں کو ٹالا، تو ایک دانستہ جھوٹے کو قوم وملک سونپ دیا

 

،رات کو اور اعلان ہوتا ہے دن کو اور،کہتے تھے دوسوارب ڈالر باہر پڑے ہیں، اورجب حکومت بنی تو پوچھا گیا،کہ عمران تو آگئی ہے ڈالر کیوں نہیں آئے، تو بتایا گیا کہ باہر تو کچھ بھی نہیں پڑا،ہم توکسی کے کہنے پر کہہ رہے تھے، عمران کہتا تھا، تیل، گیس بجلی اور اشیائے خوردونوش مہنگی نہیں کروں گا،لیکن قدم مبارک رکھتے ہی آٹا چینی، گھی،پیٹرول، ڈیزل، گیس بجلی آہستہ آہستہ اڑنے لگے، لیکن آفرین ہے سچے بندے پر وہ آج بھی اپنی بات پر قائم ہے کسی کو نہیں چھوڑوں گا کسی کو nroنہیں دوں گا، کہتے ہیں کوئی پٹھان فوج میں بھرتی ہونے گیا تو اس سے عمر پوچھی گئی توبولا اکیس سال، بھرتی نہ ہوسکا اگلے سال پھر گیا، عمر پوچھی، تو بتایاا کیس سال،بھرتی نہ ہوسکا، اگلے سال پھر گیا، عمر پوچھی تو اکیس سال،تووہ پوچھنے والا بولا تین سال پہلے بھی تم کہتے تھے اکیس سال تین سال بعد بھی اکیس سال، یہ کیا ماجرا ہے، اس نے کہا پٹھان کا زبان ایک ہوتا ہے، لہذااب کوئی مانے یا نہ مانے ہمارا خان پٹھان ہی ہے، لیکن گھوڑی والے آج بھی یہی کہتے ہیں، کہ حالات پہلے سے بہتر ہوگئے ہیں، تو جھلے لوگ سسکتے سسکتے ہنسنے لگتے ہیں،کہ گھوڑی والے جھوٹ تو نہیں بولتے نا، لیکن ابھی جو کانوں سے ہٹ کر آنکھیں کھولتے ہیں، تو بجلی کا بل دیکھ کر پھررونے لگتے ہیں، ٹی وی پرپھر نظر پڑتی ہے، پاکستان میں اتنے ارب قبضے کی زمین واگزار کرالی گئی ہے، فلاں کے خلاف اب نیا کیس نیب نے کھول دیا ہے، پھر گھر سے آواز آتی ہے، سلنڈر نہیں،کھانا کیسے پکاوں، اتنے میں کرائے دار آجاتا ہے،چھ مہینوں کا کرایہ نہیں دیا گھر خالی کرو،اورپھرایک بے بس اٹھتا ہے،اور کرائے کا موٹر سائیکل لیتا ہے بیوی کو بچوں سمیت اس پر لاد کر نہر کنارے پہنچ جاتا ہے، اوربچوں سمیت نہر میں کود کر اللہ کی دھرتی کو اپنے بوجھ سے آزاد کردیتا ہے، سرکاری طور پر چورچورکے راگ الاپنے والوں کے خلاف آج دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے بے نوا وں کی نوائیں اٹھ رہی ہیں، اللہ ان چوروں سے نجات دلا، کیونکہ الزامات کا خالی گیندجس زورسے دیوار پر مارا گیا تھا آج وہ اسی سپیڈ سے پھینکنے والوں کے سر میں آلگا ہے، کیونکہ دنیا تو گول ہے، لیکن یہ قوم بھی اب گول ہوگئی ہے، اللہ اس سادہ لوح قوم کو کانوں کے بجائے آنکھوں پر اعتبار دے، ورنہ گول چیز پرچلتے چلتے بندہ پھر وہاں ہی آجاتا ہے جہاں سے چلا تھا، لہذابقولِ اقبال ”اس بھٹکے ہوے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل، اس شہر کے خوگر کو پھروسعتِ صحرا دے“ آمین،اور افغانوں کو آزادی مبارک، کہ افغان باقی کہسار باقی، الملک للہ، والحکم للہ،وماعلی الاالبلاغ۔

تعارف: قاری محمد عبدالرحیم

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*