تحریر : قاری محمدعبدالرحیم
آج مسلمانانِ عالم غالب کے اس شعر کی ہوبہوتصویر بنے ہوے ہیں، کہ دنیا ئے کلیسامسلمانوں کا قبلہ بنی ہوئی ہے، ہم ان جاہل وبے دین ممالک کو جو یورپ وامریکہ کے ہیں، مہذب اورباشعور کہتے ہیں، ان کے کافرانہ عقائدوکلام کو روشن خیالی کہتے ہیں، اور وہ لوگوں کے دلوں میں اسلامی شعائر کی توہیں ڈالنے کے لیے ”بلیک فرائی ڈے“مناتے ہیں اور اس دن اشیائے ضروریہ کی سیل لگاتے ہیں جونہایت کم قیمت پر ہوتی ہے، تو ہمارے لوگ یعنی مسلمان بھی اسے بلیک فرائی ڈے کہہ کر پکار تے ہیں، تونئی نسل کے ذہن میں یہ ہی بیٹھ جائے گا، جوابازی، اور چوری کا مال بیچنے کے لیے،جو دن مختص کیا گیا ہے، یہ دن شاید انہیں برائیوں اور سیاہ کاموں کے لیے مختص ہے۔ جبکہ مسلمانوں کے لیے ہی نہیں تمام عالمِ انسانیت کے لیے یہ ایک متبرک دن ہے کہ اس روزحضرتِ آدم کی تخلیق ہوئی تھی، اسی روزقیامت کا قیام ہوگا، اسی دن کو سیدالایام کہا گیا،مسلمانوں کے لیے یہ یوم عید ہے، اور خصوصی عبادت نمازِ جمعہ اسی دن ادا کی جاتی ہے، اللہ نے نمازِ جمعہ کے بعدکاروبارکے لیے زمین میں پھیل جانے کاحکم دیا ہے، نہ کہ بلیک ڈے منانے کا۔ہمارے یہاں ہروہ بات جسے یورپ وامریکہ والے کرتے ہیں،وہ ایک ترجیح بن جاتی ہے، انہوں نے اگراسلام کے احکامات پر کوئی قدغن لگائی تو ہمارے علماء تک اسے مہذب دنیا کے تناظر میں اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی منظور کرا لیتے ہیں، جیسے نکاح کے معاملے میں لڑکی کی عمر کم سے کم اٹھارہ سال ہونی چاہیے،اور طلاق یونین کونسل کے چئیرمین سے اجازت لے کر دی جاسکتی ہے،۔حالانکہ اس کے لیے میرے نبی کے دور میں بھی یہ قدغن نہیں تھی کہ میرے نبی ﷺ سے اجازت لے کر طلاق دی جائے۔ا یسے ہی ہمارے اکثر معاملاتِ زندگی جو اسلام کے مطابق اور حیثیت رکھتے ہیں ان کو ہم نے بے دین دنیا کے حکم پراورحیثیت دے دی ہے، جیسے آج کل ماں باپ کے خلاف تادیبی کاروائی کا قانون جو کابینہ نے پاس کیا ہے، کہ والدین اپنے بچوں کے معاملات کی چھان بین نہیں کرسکتے نہ انہیں روک ٹوک سکتے ہیں،
کیا اسلام میں کسی بھی حوالے سے اس قانون کی کوئی اہمیت ہے، اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ تو کہیں کہ سوائے شرک کے تم اپنے والدین کی ہر بات ماننے کے پابند ہو، اور میرے آقا ﷺ نے ایک صحابی کو بازو سے پکڑ کر اس کے باپ کے حوالے کیا اورفرمایا تواور تیرا مال تیرے باپ کا ہے، دوسری جگہ میرے اللہ کے حبیب ﷺ نے فرمایا کہ بچوں کو نماز کے لیے تیار کرو اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں اور نماز نہ پڑھیں تو انہیں مارو، لیکن ہماری ریاستِ مدینہ کے قانون کے مطابق تو فحاشی اور بے حیائی سے روکنے کے لیے بھی اگر باپ سرزنش کرے گا، یا صرف پوچھ گچھ کرے گا تو قیدو جرمانہ کی سزاہوگی، کیوں؟جبکہ دوسری طرف ریاست کو یہ حقوق حاصل ہیں کہ وہ جسے چاہے الزام میں سر عا، تشدد کرے، بچوں کے سامنے ماوں کو اوران کے باپوں کو تشدد کا نشانہ بنائے، بلکہ کسی الزام میں گرفتار ماں کے ساتھ اس کے بچے بھی گرفتار ہوتے ہیں، قید میں پڑی ماوں کے بچے بھی ان کے ساتھ سزائے عمر قید کاٹ رہے ہوتے ہیں، یہ توریاست کی بات ہے جس ملک میں وڈیرے اور بدمعاش لوگوں کو اپنے بھٹوں اور جاگیروں پر ماں باپ کوبچوں سمیت یرغمال بنا کر ان سے دن بھر مشقت لیتے ہوں رات کو ان بچوں سمیت ان کے والدین کوپاوں میں زنجیریں ڈال کر تہہ خانوں میں بند کر کے رکھتے ہوں، اوروہاں کی حکومت اور عدالت اور انتظامیہ میں اتنی ہمت نہ ہو کہ وہ ان انسانوں کے ساتھ اس غیر انسانی سلوک کے خلاف کوئی کاروائی کرسکیں، اور نہ کسی بیرونی دنیا جو اصل میں صرف اسلامی قوانین کے خلاف ہے،اور نام نہاد انسانی ہمدردی جتلا رہی ہے ،
یہ بھی پڑھیں : کل جو کھالوں پہ لڑتے تھے : قاری محمدعبدالرحیم
ان کو یہ سب کچھ پتاہونے کے باوجود بھی مسلمانوں کے لیے اس بات پر سر زنش نہیں کرتے، مقبوضہ کشمیرکے متعلق رپورٹ دیتے ہوے اقوامِ متحدہ کا ایک نمائیندہ روپڑالیکن کیا شیطانی دنیا نے ہندوستان پر کوئی قدغن لگائی؟ لیکن ہمارے میراثی قسم کے چند ڈالر خور بار بار اس پوسٹ کو دکھا کر کہتے ہیں کہ دیکھو انگریزوں اور بیرونی دنیا کو مسلمانوں کا کتنا خیال ہے، حالانکہ جس بات کا کوئی نتیجہ نہ ہووہ چاہے انگریز کرے یا مسلمان وہ صرف دھوکا ہے، لیکن ہم باتوں کے پجاری ہیں یا لاتوں کے،، جس ملک میں ختمِ نبوت اور توہینِ رسالت کے نام پر ایک چلتی حکومت کو چلتا کیا گیا، اورنئے آنے والوں نے توہینِ رسالت کے مجرموں کو جو موت سزاکی قید میں تھے انہیں باعزت بری کرکے یورپ کے حوالے کردیا، توہین رسالت کے کارٹونوں کی سر عام تشہیرپر جب مسلمانوں نے فرانس کے سفیر کو نکالنے کا کہا توان سب لوگوں کو جن کے ذریعے ایک حکومت گرائی گئی تھی ان کو تشدد اور قتل کیا گیا، اس کے ساتھ ہی اس پارٹی کو کالعدم قرار دے کر تمام مرکزی عہدے داران کو قید کردیا گیا، لیکن جب بھی کوئی بات کرتا ہے کہ موجودہ حکومت اسلام کے خلاف ہے تو سارا میڈیا چیخنے لگتا ہے کہ اصل عاشقِ رسول ﷺ تو موجودہ حکومت ہے کہ ا س نے اقوامِ متحدہ میں تقریر کی ہے کہ مسلمانوں کو اپنے نبی سے کتنی محبت ہے،اور اس تقریرپر عمل یہ کیا کہ تمام گستاخانِ رسول ﷺ کو بری کیا جارہا ہے، یعنی مطلب یہ ہوا کہ محبت تو مسلمانوں کو ہے،اور حکومت چونکہ کسی مذہب کی پابند نہیں ہوتی،جیسے یورپ میں ہمارے مسلمان بھی حکومتوں کا حصہ ہیں، اسی لیے غالب نے کہا تھا، ایمان مجھے روکے ہے جوکھنچے ہے مجھے کفر، کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے لیکن ہمارے حکمرانوں کے پیچھے بھی شایدکعبہ نہیں، اللہ مسلمانوں پررحم فرمائے،ا ٓمین۔
تصحیح ؛۔ میرے سابقہ کالم ”کل جو کھالوں پہ لڑتے تھے“ میں دعوتِ اسلامی کے متعلق جو لکھا گیا تھا کہ انہوں نے بھی قربانی کی کھالیں لینے سے انکار کردیا ہے، یہ میری سماعتی غلطی تھی، لہذادعوتِ اسلامی کے مدرسے کھالیں لیں گے، لوگ ان کو کھالیں دیں۔
راز ٹی وی اردو