تحریر : رابعہ سعید
آئس ایڈکشن ایک خطرناک بیماری ہے جو دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ یہ درحقیقت میتھام فیٹامین کی ایک قسم ہے، جو ایک طاقتور غیرقانونی محرک (Stimulant) ہے اور مرکزی اعصابی نظام کو متحرک کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ایڈکشن پیدا ہوتی ہے۔ اس کے مضر اثرات میں بے چینی، جنون، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، فالج اور حتیٰ کہ موت بھی شامل ہیں۔
آئس کے استعمال کی تاریخ 1893 میں جاپان سے شروع ہوتی ہے، جب کیمسٹ ناگا یوشی ناگاہی نے اسے ناک بند ہونے اور موٹاپا کم کرنے جیسے طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں میتھام فیٹامین کو وزن میں کمی، تھکاوٹ اور ڈپریشن کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ 1950 اور 1960 کے دوران فوجی دستوں میں اسے اس لیے متعارف کرایا گیا تاکہ فوجی زیادہ دیر تک جاگ سکیں اور انہیں بھوک کا احساس نہ ہو۔ 1980 کی دہائی میں اس دوا کے استعمال اور پیداوار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
پاکستان میں تقریباً چھ فیصد آبادی کسی نہ کسی قسم کی منشیات کا عادی ہے۔ یونائیٹڈ نیشنز آفس آن ڈرگز اینڈ کرائم (UNODC) کی 2013 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سات ملین سے زائد افراد منشیات کے عادی ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا (KPK) میں یہ شرح سب سے زیادہ یعنی 11 فیصد ہے۔ بدقسمتی سے، پاکستان میں آئس کے عادی افراد کی صحیح تعداد کا کوئی سرکاری سروے موجود نہیں، جو لمحہ فکریہ ہے۔
آئس کی لت میں مبتلا ہونے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں بے روزگاری، غربت، معاشرتی اور خاندانی مسائل، سماجی اثر و رسوخ، ساتھیوں کا دباؤ، نئی چیزوں کو آزمانے کی جستجو، جہالت، منشیات کی آسانی سے دستیابی، اعتماد کی کمی، ذہنی صحت کے مسائل، ثقافتی و معاشرتی اثرات، سوشل میڈیا پر نشے کی تشہیر، اور قوانین پر عدم عملدرآمد شامل ہیں۔
آج کل سکولوں اور کالجوں میں طلباء کو آئس کی طرف راغب کرنے کے لیے یہ غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ اس کے استعمال سے تین دن میں امتحان کی تیاری ممکن ہے اور پڑھا ہوا مواد فوراً یاد ہو جاتا ہے۔ اس طرح بہت سے طلباء اس لت کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک اور غلط تاثر جو پاکستان میں آئس کی لت کو پھیلانے کا باعث بنا، وہ موٹاپے میں کمی کا ہے، حالانکہ پاکستان میں موٹاپا کبھی بہت بڑا مسئلہ نہیں رہا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی جامع سروے موجود ہے۔
آئس کے استعمال کے جسمانی و نفسیاتی اثرات انتہائی خطرناک ہیں۔ ان میں وزن میں تیزی سے کمی، نیند کے مسائل، دانتوں کی خرابی، ڈپریشن، یادداشت کی کمی، لت، رشتوں میں بگاڑ، کام پر توجہ مرکوز نہ کر پانا، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، پاگل پن، جسمانی کمزوری، اور فریب (Hallucinations) جیسے مراحل شامل ہیں، جہاں مریض کو ایسی آوازیں سنائی دیتی ہیں یا چیزیں نظر آتی ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتیں۔ یہ سلسلہ آخرکار موت پر منتج ہو سکتا ہے۔
آئس کی لت کا علاج مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اس کا علاج Detoxification (زہریلے مادوں کا اخراج)، Rehabilitation (بحالی کی تربیت) اور After care (مسلسل دیکھ بھال) جیسے مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ Detoxification میں دوائیوں کے ذریعے جسم سے آئس کے اثرات ختم کیے جاتے ہیں۔ Rehabilitation میں مریض کو لت پر قابو پانے کی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں، جبکہ After care میں بحالی کو برقرار رکھنے کے لیے کھیل اور رہنمائی کی سہولیات دی جاتی ہیں۔ علاج کا دورانیہ مریض کی صحت اور نشے کے استعمال کی مدت پر منحصر ہوتا ہے، جو ایک سے دو ہفتوں سے لے کر تین ماہ یا ایک سال تک بھی ہو سکتا ہے۔
بحالی کے بعد مریضوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آتی ہے۔ کپکپاہٹ ختم ہو جاتی ہے، آنکھوں کی پتلیاں معمول پر آجاتی ہیں، موڈ بہتر ہوتا ہے، جسم میں طاقت کا احساس لوٹتا ہے، نیند کے معیار میں بہتری آتی ہے، حوصلہ بلند ہوتا ہے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بحال ہوتی ہے۔
آئس کے اثرات کو تین طریقوں سے چیک کیا جا سکتا ہے: خون میں ایک سے تین دن، پیشاب میں ایک سے چار دن، اور تھوک میں ایک سے دو دن تک۔ اگر کسی عزیز میں ہاتھوں میں کپکپاہٹ، آنکھوں کی پتلیوں کے سائز میں تبدیلی، یا لوگوں سے دوری جیسی علامات نظر آئیں، تو فوری طور پر کسی ماہر معالج سے رابطہ کرنا چاہیے اور انہیں موت کے منہ میں جانے سے بچانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہماری آنے والی نسلوں کو اس لعنت سے محفوظ رکھے، آمین۔
راز ٹی وی اردو