ہماری مسلمانیت، کشمیریت و معصومیت : قیوم راجہ

ہماری مسلمانیت، کشمیریت و معصومیت : قیوم راجہ

اگر مجموعی طور پر مسلمانوں کے مذہبی و سیاسی عقیدے کو دیکھا جائے تو ہم آج بھی معصوم ہیں۔ شہادت پر ہر مسلمان فخر کرتا ہے لیکن صرف جان دینے کا نام شہادت نہیں بلکہ نیت اور مقصد کو دیکھنا ضروری ہے۔ ہمارے ہاں آج بھی بے شمار لوگ دعویٰ اور فخر کرتے ہیں کہ ان کے دادا پردادا پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں شہید ہوئے تھے۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ ان کے بزرگ کس فوج میں تھے تو وہ کہتے ہیں انگریزوں کی فوج میں اور جب
ان سے یہ پوچھا جائے کہ انگریزوں کی فوج میں بھرتی ہو کر اپنے ہی لوگوں کو قتل کرنا اور سلطنت عثمانیہ جسے خلافت کہا جاتا تھا کے خلاف جنگ کرنا کس طرح جہاد ہو سکتا ہے تو سمجھدار افراد اس سوال پر کچھ غور کرتے ہیں لیکن سیاسی طور پر معصوم اور مزہبی طور پر ضعیف العقیدہ افراد الٹا بحث کرتے ہیں کہ خاندانی کفالت کے لیے انگریزوں کی فوج میں بھرتی ہونا مجبوری تھی اور خاندانی کفالت کے لیے مرنا بھی شہادت ہی ہے لیکن یہ سوچنے کی توفیق نہیں کہ اپنے ہم مزہب اور ہم وطن بلکہ کسی بھی انسان کو پیٹ پوجا کی خاطر مارنا کس طرح جہاد ہو سکتا ہے۔

ان دنوں کشمیری نژاد خاتون شبانہ محمود برطانیہ کی وزیر داخلہ تعینات کی گئی تو بے شمار لوگوں نے مسرت کا اظہار کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کو بیرون ملک جب مناسب ماحول میسر ہوتا ہے تو ان کی صلاحتیں نکھر جاتی ہیں اور وہ اپنی صلاحیتوں کو لوہا منوا لیتے ہیں لیکن اصولی سیاست اور باضمیر لوگوں کی دنیا میں منصب نہیں بلکہ سیاسی نظریے، عزم اور پالیسی کو دیکھا جاتا ہے ہم لوگ مجموعی طور پر اتنے معصوم ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک فرد کے انے سے برطانیہ جیسے ملک کی قومی پالیسی بدل جائے گی۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے لیکن اس کے پیچھے وہ قوت درکار ہوتی ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے۔ حماس نے جب اسرائیلی فوج پر جوابی حملہ کیا تو امریکہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ نے جنگی ساز و سامان کے ساتھ اسرائیل پہنچ کر بیان دیا تھا کہ وہ صرف امریکی وزیر خارجہ ہی نہیں بلکہ ایک یہودی کی حیثیت سے آئے ہیں۔ اس کے جواب میں کتنے مسلمان حکمرانوں نے جرات مند مسلمان ہونے کا ثبوت دیا؟ کشمیری نژاد برطانوی وزیر داخلہ نے اپنے ابتدائی بیان میں وہی کہا جو برطانیہ 1947 سے کہتا ا رہا ہے اور وہ یہ کہ ہندوستان اور پاکستان خود مسلہ کشمیر حل کریں۔ ہمارے لوگوں کو یہ بھی زہہن میں رکھنا چائیے کہ یہ وہی برطانیہ ہے جس کے مٹھی بھر افراد نے پورے بر صغیر پر اسی خطے کے مفاد پرست ٹولے کے ذریعے اس پر حکومت کی تھی اور اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کے اپنے ہی ملک میں ایک اقلیتی کمیونٹی کی سیاست دان ا کر برطانیہ کی قومی پالیسی بدل دے بلکہ ہمارے ایک تحریکی دوست عظمت خان کے مطابق لیبر پارٹی کے اندر فلسطین کے حامیوں کا راستہ روکنے کے لیے برطانوی وزیراعظم نے شبانہ محمود کو وزیر داخلہ تعینات کیا ہے۔ شبانہ محمود نے خود کو "کشمیر کی پوتی” قرار دیا ہے لیکن ان کا بیانیہ کشمیری نہیں ہے۔ بھارت اور پاکستان نے بھی آر پار کشمیری سیاستدانوں کو استعمال کر کے حکومتیں قائم کی ہوئی ہیں جن کے نزدیک ان کے مفادات انکی پہلی ترجیح ہیں۔ لہزا کشمیری ہونا کافی نہیں بلکہ بااصول ، پر عزم اور با ضمیر ہونا ضروری ہے!

تعارف: قیوم راجہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*