راولاکوٹ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے عمر نذیر قانون کا احترام کرنے والے ایک امن پسند شہری ہیں۔ عوامی حقوق کے لیے وہ ایک چٹان ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے 9 مئی 2023 کو سرکاری آٹے کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف اپنے آبائی شہر راولاکوٹ میں احتجاج کے طور پر پرامن دھرنا شروع کیا۔ حکومت کا خیال تھا کہ عمر نذیر چند دنوں کے بعد تھک کر گھر چلا جائے گا، لیکن حکومت کے مشیر غلط تھے۔ انتظامیہ کو اس منکسرالمزاج آدمی کی استقامت اور عوام کے غم و غصے کا اندازہ نہیں تھا جو آٹے جیسی بنیادی انسانی ضرورت کی عدم فراہمی کی وجہ سے بھوک سے مر رہے تھے۔ کچھ ہی دنوں میں ان کے ساتھ مقامی سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہو گئی جن میں کونسلر شوکت ، سردار عابد رشید، خان افتخار، بلال نواز، راجہ ساجد عزیز ، حافظ عرفان ، الیاس خان، امتیاز رحمت، شاہ زیب، ثاقب اسلم اور کبیر خان شامل تھے۔ وہ طوفانی موسم کو شکست دیتے ہوئے خیمہ زن ہو گے جہاں دن اور رات اس خیمے میں قیام کیا۔ ان کے بلند حوصلوں کو دیکھ کر اسی طرح کا احتجاج پلندری، میرپور اور مظفرآباد میں شروع ہوا۔ پلندری میں سردار رائوف کشمیری سمیت کچھ لوگ گرفتار بھی ہوئے۔ تینوں ڈویژنوں کے نمائندوں نے 23 ستمبر 2023 کو دارالحکومت مظفرآباد میں ملاقات کی جہاں انہوں نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا جس کی سربراہی اب دارالحکومت مظفرآباد سے ایک بڑی کامیاب کاروباری مگر بلند حوصلہ اور نوجوان تحریکی شخصیت شوکت نواز میر کر رہے ہیں۔ شوکت نواز میر کی شمولیت سے اس تحریک کو نئی جہت ملی۔ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی جلد ہی ایک عوامی تحریک بن گئی جس نے حکومت کو آٹے اور بجلی کی قیمتیں کم کرنے پر مجبور کردیا۔ اس کامیابی کی قیمت انہیں چار مظاہرین اور ایک پولیس افسر کی شہادت کی شکل میں دینی پڑی۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ شہادتیں مظاہرین کو مظفرآباد داخل ہونے سے روکنے کےلئے تعینات ریاستی و غیر ریاستی فورسز کے ہاتھوں ہوئی تھیں لیکن حکومت ابھی تک قاتلوں کی نشان دہی نہیں کر سکی۔ حکومت نے اس تحریک کو روکنے کے لیے پلندری اور میرپور سے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کیا بلکہ دونوں مقامات پر گفت و شنید کے بہانے بلا کر لیڈنگ رول ادا کرنے والوں کو یہ سوچ کر گرفتار کیا کہ اس طرح مظاہرین منتشر ہو جائیں گے لیکن یہ سوچ بھی غلط ثابت ہوئی۔ گرفتار شدگان الٹا ایک نئی اور چیلنجنگ سیاسی شناخت لے کر عوام میں واپس ائے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 25 ستمبر 2024 کو اپنی پہلی یوم تاسیس کی تقریب منعقد کی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر بھر سے لوگ راولاکوٹ میں جمع ہوئے جو اس تحریک کی جائے پیدائش ہے۔ اعلان کے مطابق صابر شہید اسٹیڈیم میں بیس ہزار کرسیاں لگائی گئی تھیں۔ کوئی کرسی خالی نہیں تھی بلکہ لاتعداد لوگ گراؤنڈ میں بھی بیٹھے ہوئے تھے۔
تاہم، خوفزدہ ریاستی کنٹرول میڈیا اسٹیڈیم کے قریب کہیں نظر نہیں ایا۔ میڈیا کی مخصوص نشستوں پر صرف چند آزاد صحافی ہی نظر آئے۔ حکومت کا رویہ اور عوامی حقوق کی اس تحریک میں عوام کے ووٹوں سے مظفرآباد اسمبلی میں بیٹھے نمائندوں کی عوامی جد و جہد میں عدم دلچسپی لوگوں کو یہ کہنے پر مجبور کر رہی ہے کہ انتخابی سیاستدان عوام دشمن ہیں جو کسی بھی لحاظ سے عوام کے ووٹوں کے مستحق نہیں ہیں۔ حکومت نے ریاست کے زیر کنٹرول میڈیا کو اس بے مثال پہلے یوم تاسیس کی کوریج نہیں کرنے دی اور وزیر اعظم آزاد کشمیر پلندری جلسے کے لیے نکل آئے جو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تقریب کو ناکام کرنے کی کوشش تھی۔ پلندری میں حکومتی کارندوں کی نظریں جہاں پروٹوکول کے لیے راستے میں لوگوں کو تلاش کر رہی تھیں وہاں راولاکوٹ میں دوسری طرف جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت نے زمین پر بیٹھ کر مثال قائم کی اور شہداء کے لواحقین کو بطور مہمان خصوصی سٹیج پر بیٹھنے کی دعوت دی۔ شوکت نواز میر کو متعدد افراد نے کرسی پیش کی مگر کرسیاں کم ہونے کی وجہ سے جو لوگ زمین پر بیٹھے ہوئے تھے وہ ان کے ساتھ بیٹھ گے اور جلسہ کے اختتام تک وہاں ہی بیٹھے رہے۔ اپنی تقریر میں ایکشن کمیٹی کے سربراہ شوکت نواز میر نے نہایت فراخدلی سے اعلان کیا کہ عمر نذیر اس تحریک کے بانی ہیں۔ گلگت بلتستان سے احسان علی ایڈووکیٹ کو خصوصی خطاب کی دعوت دی گئی جو عوامی حقوق کے لیے عرصہ دراز سے جد و جہد کرنے والی ایک معروف شخصیت ہیں۔ ان کی تقریر بہت حوصلہ افزا اور متاثر کن تھی۔ انہوں نے نہ صرف آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان بلکہ پاکستانیوں پر بھی زور دیا کہ وہ پاکستان میں کئی دہائیوں سے جاری جبر کے خلاف متحد ہو جائیں۔
آزاد جموں و کشمیر کے تقریباً تمام مقررین ایسے لوگ تھے جنہوں نے اس عوامی حقوق کی تحریک میں عملی حصہ ڈالا۔ ہم سہ پہر 3 بجے سٹیڈیم پہنچے اور اگلی صبح ایک بجے روانہ ہوئے۔ لوگ مغرب اور عشاء کے وقت دو بار مسجدوں میں گئے اور جلد ہی اپنی کرسیوں پر لوٹ گئے۔ دس گھنٹے بعد تقریب ختم ہونے کا اعلان ہونے تک کوئی بھی شخص پروگرام چھوڑ کر نہیں گیا۔ یہ خطہ قبیلوں اور برادریوں میں تقسیم ہے، لیکن میرے خیال میں جلد ہی دو برادریوں میں سمٹنے والا ہے: ظالم اور مظلوم۔ وقت ہے کہ حکومت ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈز پر سنجیدہ توجہ دے۔ حکمران طبقے عوامی اخراجات اور ریاستی مشینری کے باوجود عام لوگوں کے اجتماع کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ راولاکوٹ کے کچھ ہوٹلوں نے مہمان نوازی کی اعلی مثال قائم کرتے ہوئے دوسرے شہروں سے آنے والے مہمانوں سے کرایہ نہیں لیا۔ آزاد جموں و کشمیر میں لوگوں نے جس طرح سے حقوق کی تحریک کی حمایت کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ لیڈر کون ہے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کا لیڈر عوام نواز اور ایماندار ہو۔
راز ٹی وی اردو