مریم نواز اور پنجاب آرٹس کونسل کا غیر ثقافتی شیطان: سلطان لالہ

ویژن سنڈروم کا عارضہ اور پنجاب آرٹس کونسل : سلطان لالہ

تحریر: سلطان لالہ
خدا بچائے اس جعلی ویژن سے ۔ پنجاب کی نوکر شاہی اور بالخصوص اس کی نوری مخلوق عمومی طور پر انگریزی زبان کے پرچے میں 40 نمبر لینے کے بعد اس ملک اور صوبے کی کرتا دھرتا بن جاتی ہے۔ یوں تو پاکستان کو کئی عذاب درپیش ہیں کچھ عذابوں کا ذکر پنجاب کے حوالے سے عظیم عوامی شاعر استاد دامن کر گئے تھے مگر ویژن کے نام پر جو کھلواڑ پاکستانی سیاست اور معاشرت کے ساتھ ہوا ہے وہ اپنی نظیر آپ ہے۔ ادارہ 1975 سے قائم ہے پنجاب کے سب سے بڑے ثقافتی ادارے کو آج کل ویژن سنڈروم کا عارضہ لاحق ہے اور اس کی وجہ تمام ملازمین سمیت متعلقہ وزیر کو بھی معلوم ہے۔ قارئین کی یادادشت کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ سنڈروم اور آرٹس کونسل کی عمر میں کوئی پانچ سال کا فرق ہے۔ کئیر ٹیکر گورنمنٹ جاتے جاتے یہ ویژن سنڈروم پنجاب آرٹس کونسل کو اینجیکٹ کر گئی حتی کہ یہ کیئر ٹیکر گورنمنٹ کا مینڈیٹ ہر گز نہ تھا مگر ملکی تاریخ میں جو غیر آئینی کام اس کیئر ٹیکر حکومت نے کیے اس کی مثال شاید ملکی تاریخ میں کبھی بھی نہ ملے۔ اپنے آباء کی قبروں پر اپنی پاک بازی کا ڈھنڈورا پیٹ کر جو چھراُ ملکی تاریخ کی پیٹھ میں گھونپا وہ عوامی تاریخ کبھی نہیں بھلا سکے گی۔یاد رہے کہ ادارہ پنجاب ٓارٹس کونسل ایک خود مختار ادارہ ہے جس کا کام پنجاب کی ثقافت کی ترویج و ترقی کے ساتھ اس کا تحفظ بھی ہے مگر جہاں پنجاب آرٹس کونسل کا قانون بدقماش نوکر شاہی کے ہاتھوں یرغمال ہو چکا ہو وہاں مقاصد تو بہت دور رہ جاتے ہیں ۔ کئیر ٹیکر گورنمنٹ نے اپنے اختیارات کے برخلاف پہلے تو بورڈ آف گورنر کی غیر قانونی و غیر آئینی تشکیل کی بعدازاں اس وقت کے کیئر ٹیکر وزیر عامر میر کی سربراہی میں ویژن سنڈروم کے زیر اثر لایعنی اور غیر معقول قسم کے فیصلہ جات اس غیر آئینی اور غیر قانونی بورڈ کے اجلاس سے کروائے۔ یہاں تک کہ سابقہ سیکرٹری علی نواز ملک نے بھی غیر قانونی بورڈ آف گورنرز کے نامناسب فیصلوں کی وجہ سے بورڈ آف گورنرز کے منٹس پر جاتے ہوئے دستخط تک نہ کیے مگر ویژن سنڈروم کا عارضہ اپنے سے آگے دیکھنے نہیں دیتا۔ پنجاب آرٹس کونسل کو ویژن سنڈروم ہو چکا تھا۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ سلیم گیلانی کے سپوت نے بھی ویژن سنڈروم کو لاعلاج رہنے دیا بلکہ یوں کہیے کہ سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ قاعدہ قانون اور آئین طاقت ور کے گھر کی پابندی ہوتا ہے مگر سلام ہے پنجاب آرٹس کونسل کے سپوتوں پر کہ انہوں نے اپنے گھر پر حملہ آور ویژن سنڈروم کی سہولت کاری کی اور سہولت کاری کرتے بھی کیوں نا۔آج کے دور میں نوکر شاہی کی نوری مخلوق عقل کلُ ہونے کے ساتھ ساتھ اتنی طاقت رکھتی ہے کہ وہ آپ کے بچوں کے منہ سے نوالہ تک چھین لے۔ ویژن سنڈروم کے تابع غیر قانونی ایگزیکٹو کمیٹیوں اور بی او جی کے ذریعے چھ غیر قانونی فصلی کونسلز بنائی گئیں جس کے لیے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو ڈویژنل آرٹس کونسل کے ڈویژنل ڈائریکٹرز کے ذریعے کہلوایا گیا۔ ویژن کی بیماری کیوں کہ ہمارے ہاں عام ہے اس لیے ضلعی انتظامیہ بھی موافق فضا ملتے ہی اس سنڈروم کی ابتدائی سٹیج پر پائی گئی۔ زمینیں ، جگہیں،ضلعی کونسل ہال اور پتہ نہیں کیا کچھ ویژن سنڈروم میں جہاں پاکستان کو کہیں کا نہ چھوڑا وہاں پنجاب آرٹس کونسل کیا پِدی کیا پِدی کا شوربہ!۔ میانوالی، چکوال، رحیم یار خان، وہاڑی، جھنگ،مظفر گڑھ اور کتنی آرٹس کونسلز اس ویژن کا شکار ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ قانونی بورڈ آف گورنرز کے ذریعے یہ آرٹس کونسلز بنائی جاتیں ان کی آسامیاں علیحدہ منظور کروائی جاتیں تو یہ یقیناً ایک بڑا اور مثبت کام ہوتا مگر جب ذہن میں یہ خناس بھرا ہو کہ بس میری جے جے کار ہونی چاہیے اور اس کے لیے غلط اور صحیح راستے معنی نے رکھتا ہو تو ایسے سنڈروم ادارے تو کیا ملک تک تباہ کر دیتے ہیں۔پنجاب آرٹس کونسل لاہور کے ویژن سنڈروم کا علاج ممکن ہے مگر سیاسی اشرافیہ کو ہمت کر کے پنجاب کی ثقافت کو ایک ماہر معالج کی طرح بچانا ہو گا ورنہ بہتر یہی ہو گا کہ تمام آرٹس کونسلز کسی جمخانہ کلب کے ایک کمرے تک محدود کر دی جائیں جہاں اشرافیہ کی خواہش پر بکنگ کی جائے اور ثقافت کا مذاق عوام کے ساتھ بند کیا جائے۔

تعارف: ویب ڈیسک

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*