پورٹلز اور ٹائم ٹریول : ماہا ارشد

Time Travel, Intergalactic Travel And Parallel universe : ان تینوں کو ذہن میں رکھیں گے تو تصویر تھوڑی کلیئر ہو جاتی ہے۔
اور معاملہ سمجھنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔

ٹائم ٹریول مطلب وقت میں آگے پیچھے جانا۔ جو کہ یہی سمجھا جاتا ہے کہ لائٹ کی سپیڈ ہو تو ایسا ممکن ہے۔ جو کہ ہمارے پاس ہے نہیں۔
مگر لائٹ کی سپیڈ لے کے جانا کہاں ہے ؟؟
خلا میں۔ یعنی
intergalatic travel
اور انٹر گیلیٹک ٹریول کر کے کہاں جانا ہے ؟؟
دوسری دنیا میں۔
جو کہ ایک parallel world ہو گی۔
اور جو کہ بے شمار ہیں۔

وہاں بھی ہم ہی موجود ہوں گے۔ مگر کسی اور وقت میں۔ ماضی میں یا مستقبل میں۔ depend کرتا ہے کہ کتنا سفر کریں گے تو کتنی آگے یا پیچھے جا سکیں گے۔

یہ سب میں theoratically ممکن ہے۔ اگر لائٹ کی سپیڈ سے سفر کیا جائے تو۔ یا اگر ہمیں خلا کے شارٹ کٹ راستے معلوم ہو جائیں۔

اور یہ مانا جاتا ہے کہ بلیک ہولز اور وارم ہولز ہی وہ شارٹ کٹ راستے ہیں۔ جو خلا میں بکھرے پڑے ہیں۔ مگر ہماری نظر سے پوشیدہ ہیں۔

اور ان راستوں یعنی بلیک ہولز تک access لائٹ سپیڈ کے بغیر بھی ممکن ہے۔
مگر بلیک ہولز میں سفر کرنے کے لیے ہمارے پاس وہ سواری نہیں جو ان راستوں کی سختی کو جھیل سکے۔
جب ہم خلا کے سفر کی بات کرتے ہیں۔ یا آسمانوں کے سفر کی بات کرتے ہیں۔ تو مسلمانوں کا ری ایکشن ایسا عجیب ہوتا ہے۔ جیسے جانے یہ کتنی غیر ممکن بات ہے۔
حالانکہ اسلامی تعلیمات بھری پڑی ہیں۔ جن میں زمین والوں کا آسمانوں پہ اور آسمان والون کا زمین پہ آنا جانا ملتا ہے۔

قرآن میں جگہ جگہ اشاروں میں خلا کے سفر، خلا کے راستوں اور آسمانوں کے راستوں کی بات کی گئی۔ اور کہا گیا کہ اوپر دیکھو۔ اور غور کرو۔
مگر کیونکہ ہم مسلمانوں کا سائنسی exposure نہیں رہا۔ اور ہم یہ نظریات کبھی سمجھ ہی نہیں سکے۔ اور آج جب ہمارے پاس scientific exposure ہے تو بھی ہم ان نظریات کو ماننے کو اس لیے تیار نہیں، کیونکہ ہمارے سے پہلے والوں کے یہ نظریات نہیں تھے۔

جب کہ سیدھی سی بات ہے۔
پہلے والوں کے پاس وہ ٹیکنالوجی نہیں تھی اس لیے ان کا exposure کم تھا۔ اور وہ قرآنی آیات کا اصل مفہوم نہ جان سکے۔
مگر آج تو exposure ہے۔ لیکن ہم مانتے نہیں کیونکہ ہمارے رویوں میں بہت ذیادہ rigidity ہے۔
اگر ہم پوچھیں۔ کہ

اللہ کا عرش کہاں ہے ؟
جی آسمانوں پہ

آدم ع کو کہاں تخلیق کیا گیا ؟؟
جی آسمانوں پہ

انکو رکھا کہاں گیا ؟
جی آسمانوں پہ

جنت کہاں ہے ؟
جی آسمانوں پہ

جہنم کہاں ہے ؟
جی آسمانوں پہ

آدم ع کو کہاں سے زمین پہ اتارا گیا ؟
جی آسمانوں سے

فرشتے کہاں سے آتے ہیں ؟
جی آسمانوں سے

جاتے کہاں ہیں ؟
جی آسمانوں پہ

نبی ص کا معراج کا سفر کہاں ہوا تھا ؟
جی آسمانوں پہ

راستے میں کچھ نبیوں سے ملاقات بھی ہوئی تھی ؟؟
جی ہوئی تھی

کہاں ہوئی تھی ؟
آسمانوں پہ

عیسی ع جب واپس آئیں گے۔
تو کہاں سے آئیں گے ؟
جی آسمانوں سے

اگر آسمانوں یعنی خلا سے اتنا آنا جانا لگا رہا ہے ہمیشہ سے۔
تو خلا کے سفر کا نظریہ غیر اسلامی کیسے ہوا ؟؟
قرآن کی ایک سورہ ہے۔
اس سورہ کا نام ہے۔ المعارج

اس کا اردو میں ترجمی کیا گیا ہے۔ بلندیاں۔
اور اگر اس کا انگلش ترجمہ کریں تو مطلب ہے۔ Pathways
یعنی آسمانی راستے

اب اگر بلندیاں کہا جائے۔ تو مطلب سمجھ نہیں آتا۔ لیکن pathways کہا جائے تو شارٹ کٹ راستوں کا سارا مطلب سمجھ آ جاتا۔

ایک سورہ ہے۔ سورہ طارق۔
طارق کا اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے رات نمودار ہونے والا
اور انگلش میں اس کا مطلب ہے the night comer
یعنی بلیک ہول

اللہ کہتا ہے کہ آسمان کی قسم اور طارق کی قسم۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ طارق کیا ہے۔

مگر پہلے کو لوگوں کو exposure نہیں تھا بلیک ہول کا۔ آج ہے۔

سورہ رحمن کی ایک آیت ہے۔
اس کا ترجمہ ہے۔
اے جنوں اور انسانوں کے گروہ۔ اگر تم میں استطاعت ہے کہ تم نکل جاو آسمانوں اور ارض کے مدار سے، تو نکل جاو۔ مگر تم نہیں نکل سکتے سلطان کی مدد کے بغیر۔

اب یہاں سلطان کااردو ترجمہ کسی نے کچھ کیا کسی نے کچھ.
مگر آیت کا مطلب سمجھ نہیں آئے گا۔
اب اگر انگلش ترجمہ جو کہ ہے authority یا strength
یہ ترجمہ لگاو۔ تو سمجھ آ جاتی۔
کہ زور کے بغیر زمین کے مدار سے کوئی نہیں نکل سکتا۔ اور مدار سے نکلنے کے لیے انسان نے راکٹ بنایا تو مدار سے نکلا۔
بہت سی آیات ہیں۔
جو خلا کے سفر پر دلالت کرتی ہیں۔

اور اب تو میں اس بات پر قائل ہوں۔ کہ سکندر ذوالقرنین کا سفر جس کا ذکر سورہ کہف میں ہے، جو اس نے مشرق اور مغرب میں کیا تھا۔ اور یاجوج ماجوج کے درمیان دیوار بنائی تھی۔
وہ سفر بھی نہ تو زمین کا سفر ہے نہ ہی وہ دیوار زمین پہ موجود ہے۔ اور نہ ہی یاجوج ماجوج زمین پر ہیں۔
سورہ کہف میں ہے۔
ذولقرنین نے مغرب کا سفر کیا اور سوج کو کالے کیچڑ میں ڈوبتا ہوا پایا۔
اگر یہ زمین کا سفر ہوتا تو زمین پر تو سورج ڈوبتا ہی نہیں۔ اور ذولقرنین پوری ارض کا بادشاہ تھا۔ نہ کہ صرف اس زمین کا۔ ارض میں تمام دنیائیں شامل ہیں۔
اسی طرح آدم ع بھی ارض کے خلیفہ بنائے گئے تھے۔ نہ کہ اس زمین کے۔
ہمارے نبی ص بھی رحمت العالمین ہیں، نہ کہ صرف اس زمین کے لیے رحمت۔
اور اللہ بھی رب العالمین ہے۔ نہ ک صرف ایک عالم کا رب۔
پھر ذولقرنین نے مشرق کا سفر کیا اور سورج کو نکلتا ہوا پایا۔ یعنی وہ جگہ جہاں سے سورج نکلتے ہیں۔

ہم نے مشرق اور مغرب سے یہ اندازہ لگایا کہ یہ زمین کے مشرق اور مغرب کی بات ہو رہی۔
جب کہ اللہ کہتا ہے کہ وہ رب المشرقین ہے اور رب المغربین۔
مشرقوں کا رب اور مغربوب کا رب۔

اور سورج سے ہم نے اندازہ لگایا کہ یہ ہمارے سورج کی بات ہو رہی۔ جب کہ ہر ستارہ ایک سورج ہی ہوتا ہے۔

اور وہ جگہ جگہ سورج ڈوبتے ہیں۔ وہ جگہ بلیک ہول ہوتی ہے۔ جو ستاروں کو نگل جاتا ہے۔ اور اس کی شکل بھی کالے کیچڑ جیسی ہوتی ہے۔
اور وہ جگہ جہاں سے سورج نکلتے ہیں یعنی ستارے نکلتے ہیں۔ وہ ہے نیبولا۔
اور جب ذولقرنین نے ایک اور سفر کیا۔ اور وہ ایک ایسی جگہ پہ پہنچا۔ جہاں کے لوگ اس کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔ بس یہی کہتے تھے کہ ہمیں یاجوج ماجوج سے بچاو۔
وہ بھی ذولقرنین کا کسی اور دنیا کا سفر تھا۔
جس کے بارے میں سورہ کہف میں ہے کہ ہم نے وہاں کے لوگوں اور سورج کے درمیان کوئی اوٹ یعنی پردہ نہیں بنایا تھا۔
جبکہ ہماری زمین اور سورج کے درمیان اوزون لیئر کا پردہ ہے۔

پھر ذولقرنین نے کہا مجھے لوہے کے تختے دو اور پگھلا ہوا تانبہ۔
مطلب وہ لوگ بہت ایڈوانس تھے جن کے پاس ایسی سب سہولتیں موجود تھیں۔
اور سکندر نے اس قوم اور یاجوج ماجوج کے درمیان دیوار بنا دی۔
اب وہ قوم دیوار چاٹ رہی۔ وہ دیوار ہی وہ دروازہ ہے۔ جو یاجوج ماجوج کو زمین پر لے آئے گا۔

اور یاجوج ماجوج خے بارے میں قرآن کے جو الفاظ ہیں کہ وہ "کھول دیے جائیں گے” اور وہ "بلندیوں” سے اتریں گے۔

یعنی جن aliens کے حملے کا خطرہ ہے، وہ aliens یاجوج ماجوج ہی ہوں گے۔
اور یاجوج ماجوج کس راستے سے آئیں گے ؟
عیسی ع کس راستے سے زمین پہ آئیں گے ؟
حدیث میں ہے کہ دریائے نیل کا پانی آسمانوں سے نکلتا ہے۔ اور زم زم بھی۔
وہ راستے کہیں تو موجود ہیں خلا میں۔ جو ہماری نظر سے پوشیدہ ہیں۔ مگر ہیں۔
جس راستے سے براق کے ذریعے سفر ہوا تھا معراج کا۔
وہ کونسا راستہ تھا۔
سورہ نبا میں آتا ہے کہ قیامت والے دن آسمان پر دروازے ہی دروازے نظر آئیں گے۔
یعنی سب راستے کھول دیے جائیں گے۔ اور صاف دکھائی دیں گے۔
حضرت علی کا قول ہے کہ میں آسمان کے راستے زمین کے راستوں سے بہتر جانتا ہوں۔
اب یہ راستے ہیں کیا ؟؟ انہی کو pathways بھی کہا جاتا اور portals بھی۔
جن آسمانوں پہ مختلف انبیاء سے نبی ص کی ملاقات ہوئی تھی معراج کے سفر میں۔
وہ آسمان بھی بنیادی طور پر زمین جیسی کوئی دنیائیں ہیں۔
جہاں وہ انبیاء اب بھی موجود ہیں اور باقاعدہ زندہ ہیں۔

اور جو جنت ہے۔ جو کہ بہت ذیادہ بڑی ہے۔ وہ بھی دنیا جیسا ہی کوئی سیارہ ہو گا۔ لیکن جہاں کے قوانین اس زمین کے قوانین سے بالکل مختلف ہوں گے۔ اور جہاں وقت جیسی کوئی چیز نہیں ہو گی۔ جہاں کی dimensions مختلف ہوں گی۔
بلکہ جو جنت کے 7 درجے ہیں وہ 7 مختلف سیارے ہی ہوں گے۔ جن میں سب سے اعلی جنت جنت الفردوس ہو گی۔ سب سے اعلی سیارہ۔

ایسے ہی جو جہنم ہے وہ بھی سورج جیسا کوئی ستارہ ہو گا۔ اور جہنم کے بھی 7 درجے۔ یعنی 7 جہنم جیسے سیارے۔

اور یہ سب کہاں ہے۔
آسمانوں پہ۔
عالم برزخ کہاں ہے۔
آسمانوں پہ۔

تو آسمانوں یعنی خلا میں سفر ہمیشہ سے ہی ہوتا رہا ہے۔ اور ابھی اور بھی ہو گا۔ سائنس کو تھوڑا اور وقت چاہیے۔
زمین پر پائی گئی کچھ جگہیں۔ جو ٹائم ٹریول کے لیے اور پورٹلز کھولنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہوں گی۔

اور مجھے تو لگتا ہے کہ مصر کے pyramids بھی ایسے ہی کسی مقصد کے لیے بنائے گئے تھے۔
کیونکہ انکی alignment بھی سیاروں کے ساتھ ہے۔
اور مشہور صرف مصر کے pyramids ہیں۔ وربہ ایسے اور بھی pyramids دنیا کے کچھ اور ممالک میں بھی موجود ہیں۔ مگر مصر والے سب سے بڑے ہیں۔

تعارف: ماہا ارشد

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*