تحریر قیوم راجہ
پنجیڑی آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی کمشنر بحالیات راجہ فاروق اکرم صاحب حال ہی میں مظفرآباد سے میرپور ٹرانسفر ہوئے ہیں۔ ان سے پرانا تعلق ہے تو سوچا ملاقات کر لوں۔ ملاقات انکے دفتر میں ہوئی جہاں وہ سائلین کی درخواستیں بھی دیکھتے رہے ور متعلقہ افسران کو کاروائی کی ہدایات بھی جاری کرتے۔ اس دوران ایم اے کی سند رکھنے والا ایک نابینا شخص آیا جس نے ڈپٹی کمشنر بحالیات کو اپنی ببتا سناتے ہوئے کہا کہ مالک مکان نے یکم فروری تک مکان خالی کرنے کا حکم دیا اور آج 31 جنوری ہے۔ اب ایک دن میں وہ کیسے مکان تلاش کرے؟ اس کی بہن بھی نابینا ہے اور والدہ ضحیف اور بیمار ہیں۔ یہ ضعیف آدمی ایک خوددار انسان ہیں۔ وہ بھیگ مانگنے کے بجائے ایک ادارہ کے یونیفارم تیار کروا کر اپنی دوکان پر فروخت کر رہا ہے لیکن یہ اندازہ کرنا کسی بھی انسان کے لیے مشکل نہیں کہ ایک نابینے انسان کے لیے دوکانداری کرنا کتنا مشکل ہے۔ اس شخص کی اتنی آمدنی نہیں کہ وہ میرپور جیسے مہنگے ترین شہر میں فوری کرایہ پر مکان حاصل کر سکے۔ نابینا شخص سوچتا ہے کہ ان حالات میں وہ اپنی نابینا بہن اور ضعیف والدہ کو کہاں لے کر جائے۔ ڈپٹی کمشنر بحالیات راجہ فاروق اکرم بڑی توجہ اور ہمدردی سے اس نابینا شخص کو سننے کے بعد اس کی مدد کے لیے کچھ اداروں کو فون کرتے ہیں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور محکمہ زکوۃ کو بھی زیر بحث لاتے ہیں۔ وہ محکمہ زکوۃ کی پیچیدگیوں کا زکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ زکوٰۃ فنڈ کے اصول قوائد میں تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ مستحقین کی فہرست پر کسی نئے مستحق کو اس وقت تک شامل نہیں کیا جاتا جب تک اس فکسڈ فہرست سے کوئی آدمی نکل نہ جائے یا دستبردار نہ ہو جائے ۔ عام طور پر جو ایک دفعہ فہرست میں شامل ہو جائے وہ مرنے تک شامل ہی رہتا ہے۔ میں نے اس نابینا شخص سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے رابطے کے حوالے سے پوچھا تو کہنے لگا پہلے تو یہ مالی مدد انتہائی محدود ہے دوسرا اسکی منظوری بھی ایک محنت طلب کام ہے۔ راجہ فاروق اکرم صاحب کی تجویز تھی کہ جب سامنے نظر ا رہا ہو کہ ایک آدمی معزور ہے تو ادارہ کو خود اس کی فائل مرتب کرنی چاہیے نہ کہ اس کو دفتروں کے چکر لگوا کر اس کے لیے مزید مشکلات پیدا کی جائیں ۔ یہ تجویز بالکل منطقی اور قابل عمل ہے۔ جو ادارے معزور لوگوں کے تعاون کے لیے بنے ہیں ان کا رویہ اور طریقہ کار بیوروکریسی جیسا نہیں ہونا چاہیے ۔
ڈپٹی کمشنر بحالیات کو جب میں نے دوسرے اداروں سے تعاون کے سلسلے میں رابطہ کرتے دیکھا تو میرے زہہن میں سوال پیدا ہوا کہ محکمہ بحالیات کے اختیارات کیا ہیں۔ میرے پوچھنے پر ڈپٹی کمشنر بحالیات نے کہا کہ ان کے ادارہ کا دائرہ کار پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے ریاستی باشندہ سرٹیفکیٹ چھان بین کے بعد جاری کرنا ہے یا ان افراد کا ریکارڈ مرتب کرنا ہے جو جاری تحریک کے دوران بھارتی مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آزاد کشمیر آئے یا بے گھر ہوئے۔ دوران گفتگو مجھے یہ بھی جاننے کا موقع ملا کہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کا آزاد کشمیر میں رکھے گے ملازمتوں کے کوٹہ سے استفادہ کرنے کے علاؤہ اس خطے سے یا بھارتی مقبوضہ کشمیر میں اپنے آبائو اجداد کے ساتھ تعلق قائم رکھنے اور تحریک آزادی میں بھی کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کی ایک واضح سیاسی مثال پاکستان سے مہاجرین کی وہ بارہ سیٹیں ہیں جو آزاد کشمیر کی حکومت سازی میں تو اہم کردار ادا کرتی ہیں لیکن منتخب ہونے سے پہلے یا بعد میں آزاد کشمیر میں کسی کو علم نہیں ہوتا کہ وہ کون ہیں۔ پنجاب سے منتخب ہونے والے ایک وزیر سے اتفاقیہ ملاقات کے دوران میں نے جموں کشمیر کی آزادی کے حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے کھل کھلا کر ہنستے ہوئے کہا: "یہ ہمارا چیپٹر نہیں ہے!”
برحال میری تجویز بلکہ مطالبہ ہے کہ محکمہ بحالیات کو وسیع کیا جائے اور اسے آزاد کشمیر کے مقامی لوگوں کی ضروریات کو بھی پورا کرنے کے اختیارات بھی دیے جائیں جن میں معزور لوگوں کی تعلیم، صحت اور سرکاری رہائش کے ترجیع بنیادوں پر انتظامات کیے جائیں۔ کسی معاشرے کی تہذیب اور اس کی اخلاقی اور انسانی قدروں کا اندازہ معاشرے کے مجبور افراد کے ساتھ رویوں سے لگایا جاتا ہے۔ یوں تو کسی بھی ریاست کے اندر بسنے والا ہر فرد ریاست کی زمہ داری ہے لیکن معزور افراد کا تو کم از کم خیال رکھا جائے۔ صاحب اقتدار کے خاندانوں کے لیے اگر سرکاری گاڑیاں ، سرکاری علاج اور بیرون ملک تعلیم ممکن ہے تو معزور اور بے سہارا لوگوں کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟
راز ٹی وی اردو