جاوید عنایت کی کتاب "جموں کشمیر کی تاریخ، تنازعہ اور حل" پر قیوم راجہ کا تبصرہ

جاوید عنایت کی کتاب "جموں کشمیر کی تاریخ، تنازعہ اور حل” پر قیوم راجہ کا تبصرہ

باغ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے جاوید عنایت جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی 1995 میں امریکہ چلے گے تھے۔ انکا شمار ان باشعور اور محب وطن ریاستی باشندوں میں ہوتا ہے جنہوں نے امریکہ جیسے بڑے ترقی یافتہ ملک میں جا کر صرف خاندانی کفالت اور ذاتی عیش و عشرت کو اپنی زندگی کا مقصد نہیں بنایا بلکہ اپنے جبری طور پر منقسم وطن کی وحدت کی بحالی اور اپنے لوگوں کے بہتر مستقبل بارے بھی سوچا۔ معاشروں میں وہی لوگ عزت واحترام پاتے ہیں جو اپنے اور اپنے خاندان کے ساتھ ساتھ وطن کے بارے بھی سوچتے ہیں اور اپنی سوچ و فکر اور استطاعت کے مطابق عملی جد و جہد بھی کرتے ہیں۔

جاوید عنایت گلوبل پارٹی کے پلیٹ فارم سے مسلہ کشمیر کے حل کے لیے سیاسی و سفارتی جد و جہد کے ساتھ ساتھ قلمی محاز پر بھی مصروف عمل ہیں۔ باشعور آزادی پسندوں کے نزدیک مزاحمتی ادب کا تحریک آزادی میں اہم کردار ہوتا ہے۔ ادب کی نتیجہ خیزی کا دارو مدار نظریے اور معیار پر ہوتا ہے۔ کچھ قلم کار اپنے قلم کے ذریعے اپنے نظریے کا پرچار تو کرتے ہیں لیکن جد و جہد کی زمہ داری دوسروں کے لیے چھوڑ دیتے ہیں لیکن جب کوئی قلمکار سیاسی و سفارتی محاز پر بھی کام کرے تو اسے اس کی کمٹمنٹ کی انتہا قرار دیا جاسکتا ہے۔ جاوید عنایت بھی ایسی ہی شخصیات میں شمار ہوتے ییں۔

جاوید عنایت کی مزکورہ تصنیف کے چند ایک مخصوص مقاصد ہیں جنکا تعلق انکی ذات نہیں تحریک و تاریخ سے ہے۔ پہلا مقصد ریاست جموں کشمیر کے وجود ، نام، سرحدوں اور آزادی کے مفہوم بارے پائے جانے والے مغالطوں کو دور کرنا ہے۔ کچھ مغالطے اپنی تاریخ سے عدم دلچسپی، آر پار نصاب میں جموں کشمیر کی تاریخ کا اخراج، فرقہ وارانہ اور گروہی سیاست ہے۔ دوسرا بڑا مقصد شعور کو آجا کرنا اور لوگوں کے اندر شخصیت پرستی کی جگہ علمی رحجان پیدا کرنا ہے۔انہوں نے جدید و قدیم دور کا زکر کرتے ہوئے قوموں کی غلامی کے اسباب اور آزادی کے حصول اور اصولوں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ معاشرتی ارتقاء اور جدید ریاستوں کے قیام کو بھی بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔ قاری کے اندر کتاب کے مطالعہ میں اسوقت دلچسپی بڑھ جاتی ہے جب دور قدیم میں اس کے ابائو اجداد کے طرز زندگی و طرز معاشرت کو زیر بحث لایا جاتا ہے ۔ جاوید عنایت نے یہ کام بڑی مہارت سے کیا ہے۔ ایسے تزکروں سے قاری یہی محسوس کرتا ہے کہ اس کی اپنی ذات کا زکر ہو رہا ہے۔ مصنف نے ہندوستان کی تقسیم، انگریزوں کی سیاست بھارتی سیاستدانوں پنڈت نہرو اور پٹیل کے درمیان پاکستان اور جموں کشمیر پر مختلف سوچ اور گاندی کے قتل کی وجوہات بھی بیان کی ہیں۔ گاندی کے قتل کی ایک وجہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو گاندی کی یہ دھمکی تھی کہ اگر پاکستان کو اس کے حصے کا پیسہ نہ دیا گیا تو وہ بھوک ہڑتال کریں گے۔ پٹیل کا موقف تھا کہ اگر پاکستان کو یہ رقم ملی تو وہ اس کی مدد سے اسلحہ خرید کر جموں کشمیر میں بھارت کے خلاف استعمال کرے گا۔ جموں کشمیر پر ہندوستان پاکستان کے قبضے کے بعد اس پر اسوقت امریکہ اور برطانیہ کی سوچ میں فرق اور سوویت یونین اور اقوام متحدہ کے کردار کے علاؤہ جارحیت کے نتیجے میں آر پار قائم ہونے والی ریاستی حکومتوں پر بھی بحث کی گئی ہے۔ مصنف نے مسلہ کشمیر کے حل لیے چین، پاکستان اور بھارت کو سنجیدگی سے جہاں غور کرنے پر زور دیا وہاں نتیجہ خیز جد و جہد کے لیے ریاستی باشندوں کو بھی حقیقت پسندانہ رویے اپناتے ہوئے اپنے قومی فرائض کو سر انجام دینے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ اللہ کرے کہ تحریکی لوگ خود کسی ایک بیانیہ پر متفق ہوں تاکہ کوئی پیش رفت ہو سکے۔

تعارف: قیوم راجہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*