کیا مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی و معیشت خوش آئند ہے؟

تحقیق و تجزیہ قیوم راجہ

دنیا میں جب کوئی غیر مسلم حلقہ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو عام طور پر مسلمان بہت خوش ہوتے ہیں اور ہونا بھی چائیے. غیر مسلم اکثر مطالعہ کی روشنی میں اسلام کو سمجھنے کے بعد اسلام میں داخل ہوتے لیکن پیدائشی مسلمانوں کے مخلوط اسلام پر مبنی طرز زندگی ، طرز فکر اور طرز عمل کو دیکھ کر نو مسلم پریشان ہو جاتے ہیں۔ چونکہ اکثر نو مسلم نے اپنی تحقیق کی روشنی میں اسلام کی حقانیت کو اچھی طرح سمجھا ہوتا ہے اس لیے وہ مایوس نہیں ہوتے بلکہ مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام مخالف قوتوں کے آگے ڈٹ جاتے ہیں جبکہ اکثر پیدائشی مسلمان ڈر و خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے ارکان خمسہ سے آگے ضمیر، وجدان اور تقوی کی اسلامی حثیت کو نہیں سمجھا ہوتا جسکی ایک بڑی مثال برطانیہ کے مشہور سابق سنگر کیٹ سٹیون ہیں جنہوں نے مسلم نام یوسف اسلام رکھا تھا اور دوسری شخصیت اپنا نام مریم رکھنے والی برطانوی صحافی آیون ریڈلے ہیں جو 2001 میں طالبان کی قید میں ان کے اخلاق سے متاثر ہو کر 2003 میں رہائی پر کر مسلمان ہو گئی تھیں۔ کیٹ سٹیون کینسر کے مریض تھے۔ اس دوران کسی نے انکو انگریزی میں ترجمہ کیا گیا قرآن پاک کا نسخہ دیا۔ انہوں نے ہسپتال کے بستر پر عہد کیا کہ اگر وہ بچ گے تو مسلمان ہو جائیں گے۔ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا مگر وہ معجزانہ طور ہر بچ گے اور اسلامی مزہب اختیار کر لیا ۔ یوسف اسلام نے مغرب میں اسلام کی وسیع پیمانے پر اشاعت کا اہتمام کیا اور اسلامی سکولز بھی قائم کیے جبکہ آیون ریڈلے جو صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی کارکن بھی تھیں وہ صہیونت کے خلاف فلسطین کی بہت بڑی حامی ہیں۔ مسلمانوں کے حقوق کے لیے مغربی حکمرانوں نے سامنے ڈٹ کر بات کرتی ہیں جبکہ پیدائشی مسلمان نمائندوں کی اکثریت مصلحت کا شکار ہو جاتی ہے۔ مریم کشمیر پر بھی کھبی کبھار بولتی رہیں لیکن کشمیریوں نے ایسی شخصیات کے تعاون کے لیے خاص اقدامات بھی نہیں کیے۔ برطانوی جیل میں قید کے دوران چند ایک بار انہوں نے مجھے بھی حوصلہ افزائی کے خطوط لکھے تھے جبکہ ایک نو مسلم جرمن سکالر عبدالرحمن مجھے جیل میں ملتے رہے۔

امریکہ کے پیو ( پبلک ایویلو ایٹیو ورکشیٹ) ریسرچ سینٹر کے مطابق 2050 تک مسممانوں کی دنیا کی 24 فیبصد ابادی عیسائی ابادی کے برابر ہو جائے گی۔ 2050 تک مسلمانوں کی ابادی میں 73 فی صد اور عیسائیوں کی ابادی میں 35 فیبصد اضافہ ہو گا۔ اس وقت انڈونیشیا مسلمانوں کی سب سی زیادہ ابادی والا ملک ہے لیکن 2050 تک بھارت کی مسلم ابادی سبقت لے جائے گی۔

معیشت کے لحاظ سے مشرق وسطی اس وقت دنیا کا 73 فی صد تیل اور گیس ایکسپورٹ کرتا ہے جو دنیا کی کل بر امدات کا 51 فی صد ہے۔ روس کے بعد ایران قدرتی گیس کا ذخیرہ رکھنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ دنیا کی بڑی کمپنیاں اسوقت سب سے زیادہ سعودی عرب، کویت اور عرب امارات میں ہیں۔ مشرق وسطی میں ٹیکنالوجیکل کمپنیاں دنیا میں سبقت لے جا رہی ییں۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں سستی ہنر مند لیبر کی وجہ سے یہاں بھی غیر ملکی کمپنیوں کی انوسٹمنٹ بڑھ رہی ہے۔ مائیکروسافٹ کا دعوی ہے کہ انڈونیشیا میں اس کا ریونیو 6 بلین تک بڑھ جائے گا۔ ملیشیا نے بھی مائکرو سافٹ سے ایک ملین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے جبکہ سیمسنگ نے پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی فون بنانے شروع کر دیے ہیں۔ امریکن انسٹیٹیوٹ اف سوشل پالیسی کے مطابق امریکہ میں 25 یا اس سے زیادہ عمر کے ڈگریاں حاصل کرنے والے مسلمان طلباء و طالبات 46 فی صد ہیں۔ مسلمانوں کے 8 فی صد امریکی کاروبار میں 1.37 ملین امریکی شہری ملازم ہیں۔ مسلمانوں کے کل 95816 کاروباری مراکز ہیں جبکہ نیویارک میں 9 فیبصد مسلم ڈاکٹرز ، 12 فیبصد فارماسسٹ اور 11.03 فیبصد انجنئیرز ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق امریکہ میں مسلمانوں کی موجودہ 3.85 ملین ابادی 2050 تک 8 ملین ہو جائے گی جو 1.8 فیبصد اضافہ ہو گا۔ چین میں 2050 تک 35.29, کینیا میں 12.92, یوگنڈہ میں 13.22, ترکی میں 89.32, ملیشیا 32.72 , سعودی عرب میں 42.49, سینیگال میں 27.56، سومالیا میں 26.10 اور بخارا فاسکو میں32.20 ملین مسلمان ہوں گے۔ اس طرح دوسرے اسلامی ممالک میں بھی مسلمانوں کی ابادی میں اضافہ ہو گا ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ابادی و معاشی ترقی پر ہمیں خوش ہونا چائیے۔ میرے خیال میں جب تک مسلمان ممالک کا اپنا تعلیمی ، دفاعی، سیاسی و سفارتی نظام درست نہیں ہوتا تب تک محض ابادی بڑھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اکثر اسلامی ممالک کا اپنا تعلیمی نظام غیر معیاری، غیر پیداواری اور غیر اخلاقی ہے ۔ غیر معیاری تعلیمی نظام کی وجہ سے ڈگریوں میں تو اضافہ ہو رہا ہے لیکن ہنر مند اور تحقیق و تخلیق کی صلاحیتوں کے مالک افراد پیدا نہیں ہو رہے۔ اس نظام کو میں غیر اخلاقی اس لیے کہتا ہوں کہ یہ مضبوط کردار کے بجائے ایسے غیر اخلاقی متقی پیدا کر رہا ہے جو عبادات میں تو اعلی ہیں لیکن معاملات میں صفر ییں جس کی وجہ سے معاشرے کے اندر انصاف نہیں ہے۔ اجتماعیت کی جگہ انفرادیت کو مضبوط کرنے کی ہوس نے مسلمانوں کو گھروں میں، بازاروں میں اور اداروں میں ایک دوسرے کا سنگدل دشمن بنا رکھا ہے۔ جب تک مسلمان متحد و منظم ہو کر مضبوط عالمی نظام قائم نہیں کرتے تب تک عالمی سطع پر طاقت کا توازن قائم نہیں ہو سکتا۔ جب تک اپنے ملکوں کے اندر ہنر مند لیبر فورس پیدا نہیں کر لیتے تب تک ہم عالمی استعمالی نظام سے نجات نہیں پا سکتے۔ کردار سازی کے فقدان کی وجہ سے مسلمان ممالک کے حکمران یا تو مطلق الحنان یا نا اہل ہیں جو سامراجیت کا مقابلہ کرنے کی ہمت و جرات نہیں رکھتے۔ مشرق وسطی، شمالی افریقہ ، افغانستان اور فلسطین و جموں کشمیر براہ راست مغرب کے نشانے پر ہیں۔ لیبیا میں امریکہ اور برطانیہ نے بغاوت کروائی، مصر میں فوجی حکومت کی پشت پر امریکہ ہے۔ مشرق وسطی اور افغانسان کو امریکہ نے کھنڈر بنایا۔ جموں کشمیر میں مودی جیسے سفاک اور اسرائیل کے جنگی جرائم میں ملوث نیتن یا ہو کی بے شرمی کی حد تک امریکہ اور برطانیہ دونوں براہ راست حمایت کر رہے ہیں جبکہ مسلمان ممالک کی مجرمانہ خاموشی رہتی دنیا تک نااہلی کی ایک مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ مسلمانوں کو اس زلت و رسوائی سے نکالنے کے لیے یا تو مسلمان حکمرانوں کی معجزانہ اصلاح یا پھر انکے خلاف عوامی طاقت درکار ہے۔ جہاں تک معاشی ترقی کی بات ہے تو وہ غیر ملکی کمپنیوں کی مرہون منت ہے۔ مسلمان عوام کی بہت کم تعداد ہنر مند ہے۔ بیرون ملک اگر وہ تعلیمی ترقی کر بھی لیں تو بھی وہ مغرب کے مضبوط سیاسی نظام کے آگے بے بس ہیں جبکہ مسلمان ممالک کا تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ اپنے ممالک میں ملازمتو ں کے لیے سیاسی و سفارشی کلچر سے تنگ ا کر بیرون ملک بھاگ رہا ہے۔ اس صورت حال کو بدلنے کے لیے اصلاحی سوچ کے مالک تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ کو ہی آگے بڑھنے ہو گا۔ اپنے ملک سے بھاگ کر بیرون ملک اچھی نوکری تو شاید مل جائے لیکن اجتماعی عزت و احترام نہیں ملے گا۔

تعارف: قیوم راجہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*