"جموں کشمیر میں آزادی کی تحریکیں” کی تقریب رونمائی : قیوم راجہ

28 اکتوبر کو مسلم بازار بھمبر کے ایک مقامی میرج ہال میں جموں کشمیر میں آزادی کی تحریکیں کے عنوان سے شائع ہونے والی ایک تحقیقی کتاب کی تقریب رونمائی ہوئی۔ اس کتاب کے مصنف سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن راجہ عبدالرحمن صاحب ہیں جن کا تعلق بھمبر کے پوٹھی گائوں سے ہے۔ یہ ایک انتہائی معیاری تقریب تھی جس کے شرکاء کی اکثریت تعلیم یافتہ لوگوں پر مشتمل تھی۔ مہمان خصوصی سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے چیف جسٹس جناب راجہ سعید اکرم صاحب تھے جو عدالت میں تاخیری حربوں کے سخت خلاف تصور کیے جاتے ہیں اور وہ تقریب میں بھی بالکل وقت پر تھے۔ ہمارے معاشرے کی اکثر تقریبات میں سیاستدانوں کو مدعو کیا جاتا ہے جو پہلے تو وقت پر آتے ہی نہیں اور جب آئیں تو اصل موضوع پر گفتگو کے بجائے غیر متعلقہ اور متنازعہ گفتگو شروع کر دیتے ہیں جہاں تقاریر اور جوابی تقاریر کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتاہے لیکن یہ ایک ماہر تعلیم کی تحقیقی کتاب پر منعقد ہونے والی تقریب تھی جو عین مقررہ وقت پر شروع اور ختم ہوئی۔ راقم نے بیٹیوں کو میرپور کالج سے چھٹی کے وقت پک کرنا تھا جسکی وجہ سے ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچنے کی قبل از وقت اجازت لے رکھی تھی۔ جب میں وہاں پہنچا تو کھچا کھچ بھرے ہال میں تقریب شروع ہو چکی تھی جس سے اندازہ ہوا کہ تعلیم یافتہ لوگوں نے تعلیم یافتہ ہونے کا پورا ثبوت دیا۔ چیف جسٹس صاحب کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر ارشد محمود جرال اور پولیس سپرینٹنڈنٹ راجہ اکمل بھی موجود تھے جبکہ مقررین میں سابق وائس چانسلر مسٹ یونیورسٹی راجہ حبیب الرحمن پاور موجودہ وی سی محمد جاوید، پروفیسر نزیر تشنہ، پروفیسر افتخار، سید شبیر شاہ، کیپٹن ندیم اور راقم بھی شامل تھے۔ مقررین نے محنت سے لکھی گئی اس کتاب کی بہت تعریف کی اس حقیقت کا بہت کم اظہار کیا جاتا ہے کہ موجودہ تحریک کے بانی مقبول بٹ شہید ہیں جنکی گرفتاری کے بعد یورپ میں تارکین وطن نے تحریک کو منظم کر کے آزاد کشمیر اور یہاں سے مقبوضہ کشمیر منتقل کیا جہاں لبریشن فرنٹ نے بھارت کو جب گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا تو نت نئے ناموں سے لبریشن فرنٹ کے خلاف گروپ کھڑے کر کے تحریک کو اسی طرح کمزور کیا جس طرح کے ایچ خورشید کی لبریشن لیگ کو آزاد کشمیر میں بے معنی اور غیر موثر کیا گیا۔ آزاد کشمیر کے سینکڑوں نوجوان بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف دوران جد و جہد قید ہوئے لیکن ان کا مقبوضہ کشمیر نہ کبھی آزاد کشمیر میں زکر کیا جاتا ہے۔ ایک پاکستانی مصنفہ انم زکریا نے بھارتی مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے دورے کر کے دو تحقیقی کتب لکھی ہیں جن میں انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر مقبوضہ کشمیر کی آزادی میں کھو کر خود کو بھول گیا۔

تقریب کے مہمان خصوصی جناب چیف جسٹس سپریم کورٹ راجہ سعید اکرم صاحب خطاب کر رہے ہیں

مقررین نے مطالعہ جموں کشمیر کو نصاب میں شامل کرنے پر زور دیا۔ اس موقع پر راقم نے جناب چیف جسٹس صاحب کو یاد دلایا کہ آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ راقم کی ہائی کورٹ میں رٹ کے نتیجے میں اس وقت کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے قائم کرنے کا اعلان کیا تھاجس پر 2014 میں پی پی کی حکومت نے عمل کیا لیکن اسلام آباد ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اب بھی آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہا۔ کشمیری یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جموں کشمیر کے بچوں کو انکی تاریخ پڑھانے سے پاکستان کو کیا نقصان ہو جائے گا؟ وی سی مسٹ محمد یونس جاوید صاحب نے بھی مطالعہ جموں کشمیر کو نصاب میں شامل کرنے پر زور دیا اور یونیورسٹی میں شعبہ کشمیریات کے قیام کا عندیہ دیا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اسے بھی کام کرنے دیا جائے گا یا اس کے ساتھ وہی سلوک کیاجائے گا جو آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

سامعین تقریب جموں کشمیر میں آزادی کی تحریکیں

مصنف نے جہاں ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی پر زور دیا وہاں الحاق پاکستان کے ساتھ اپنے سیاسی رحجان کو بھی نہیں چھپایا۔ سیاسی موقف رکھنا ہر انسان کا جمہوری حق ہے لیکن جس مقام پر ہم کھڑے ہیں وہاں سے الحاق اور وحدت کی بحالی دو مختلف راستے نظر آتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر اسلامی دنیا کے بلاک کا حامی ہوں تاکہ عالمی امن کے لیے طاقت کا توازن قائم ہو سکے لیکن اس وقت تک ہم مسلہ کشمیر کو ناقابل عمل نعروں کی نزر نہیں کر سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم امت کے اتحاد تک انتظار کرتے رہیں۔ کچھ کشمیری کہتے ہیں کہ فلسطینی بے گھر ہونے کے باوجود 1974 سے اقوام متحدہ میں موجود ہیں۔ پہلے کئی ممالک میں انکے مبصر تھے اور اب سفارت خانے بھی ہیں۔ اسی طرح جنوبی افریقہ پر گوروں کی نسل پرست حکومت کے باوجود نیلسن منڈیلا کی جماعت افریقن نیشنل کانگرس کے مغربی ممالک میں سفارتی مشنز قائم رہے جبکہ جموں کشمیر میں تین حکومتیں ہیں جن میں سے ایک آزاد ریاست کے سیٹ اپ کے ساتھ آزاد حکومت کا دعوی کرتی ہے جس کا بیرون ملک کوئی مشن کیوں نہیں؟ جواب سیدھا اور صاف ہے کہ نیلسن منڈیلا اور یاسر عرفات نے کسی کے ساتھ الحاق کے نعرے نہیں لگائے ۔ جو خود اپنے وجود کی نفی کرے اسے کوئی کیا مقام دے سکتا ہے؟۔ اتحاد اصولوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر یورپی یونین کے بڑے ممالک نے چھوٹوں پر چڑھائی نہیں کی بلکہ اپنی یونین میں برابر رکنیت دی ہے جس سے انکے اندر عدم تحفظ پیدا نہیں ہوا۔ بد قسمتی سے کشمیریوں نے کبھی بھی اپنے اندر سے بڑی سے بڑی قربانی دینے والے کو متفقہ نمائندہ قبول نہیں کیا۔ اس کے بجائے انہوں نے بائر سے آقا لانے کی رسم جاری رکھی ہوئی ہے۔ تاریخ سے واضع ہے کہ بیرون ملک جا کر کشمیری غیر اسلامی معاشرے میں بھی خود کو تو ایڈ جسٹ کر لیتے ہیں لیکن جوں ہی وطن واپس آتے ہیں انکے سارے مزہبی، مسلکی، قبیلائی اور علاقائی تعصبات دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔ ایسی سوچ و فکر رکھنے والے لوگوں سے آزادی جیسی بڑی نعمت ہمیشہ روٹھی رہتی ہے۔ اگر ہمیں آزادی چائیے تو ہمیں ایک قابل عمل نظریہ اور مشترکہ بیانیہ اپنانا ہو گا۔

تعارف: قیوم راجہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*