بقلم عمر خان گجر (سھیر نامہ)

تحریر : عمر خان گجر

ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا۔
علم کا ایک روشن باب غروب ہوگیا۔

عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ایک مسئلے پر بات ہو رہی ہے۔ مسئلے کا حل ناممکن ہو رہا ہے۔ اتنے میں ایک ذہین بندہ اٹھتا ہے۔ اور مسئلے کا حل بتاتا ہے۔ جو کہ معقول اور صحیح ہے۔ وہ بندہ پروفیسر ڈاکٹر امیر زمان صاحب ہے۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ساری عمر تمام مسائل کے حل کے لیے موصوف کے پاس حل موجود ہوتا ہے۔ اس لئے تو سارے فیکلٹی ممبران زاروقطار رو رہے ہیں۔ اور آپ کو بہت زیادہ مس کر رہے ہیں۔

موصوف ڈاکٹر امیر زمان صاحب ضلع ملاکنڈ سخاکوٹ کا رہائشی تھا۔ آپ نے انٹرمیڈیٹ کے بعد بیچلر اور ڈبل ماسٹرز تک تمام ڈگریاں پرائیویٹ حاصل کی۔ آپ نے اپنی پروفیشنل زندگی کا آغاز سکول میں ٹیچنگ سے کیا۔ پھر آپ نے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہیڈ ماسٹر اور دوبارہ پرنسپل کے عہدے پر براجمان ہوئے۔ موصوف نے 2011 میں آسٹریلیا سے ایجو کیشن میں پی، ایچ، ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ آپ نے عبدالولی خان یونیورسٹی کو 2012 میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے جائن کیا۔

موصوف پڑھانے کے علاوہ، مختلف ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین بھی رہے۔ آپ نے انڈونیشیا، ملیشیا، ترکی اور پاکستانی یونیورسٹیوں میں کانفرنسز کرآئے۔ جو کہ یہ اعزاز ابھی تک آپ ہی کو حاصل ہے۔ موصوف نے تقریبا 22 ممالک کے آفیشل ویزٹس کیے۔ چیرمین شپ کے علاوہ آپ عبدالولی خان یونیورسٹی میں ایچ، آر، ڈی کے ڈائریکٹر رہے۔ کہتے ہیں، کہ آپ نے جس طرح اس ادارے کو چلایا۔ تاریخ میں روز روشن کی طرح عیاں ہیں اور رہے گا۔ اینڈیور ایوارڈ سکالرشپ کے ذریعے اپنے پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی۔

ڈاکٹر صاحب کے ریسرچ آرٹیکل تقریبا سینکڑوں جریدوں میں چھپ چکے ہوئے ہیں۔ جو کہ ایجو کیشن کے طالب علموں کے لیے سرمائے سے کم نہیں۔آپ کے ریسرچ تقریبا درجنوں بین الاقوامی سیمینارز میں پڑھائے گئے ہیں۔ آپ نے تقریباً بائیس ممالک کی مختلف نیورسٹیوں میں کانفرنسز کئے۔ اور اپنے ریسرچ سے لوگوں کو مستفید کیا۔ ابھی تک ڈاکٹر صاحب نے آٹھ پی، ایچ، ڈی کے طالب علم فارغ کئے ہیں۔ اور چھ پی، ایچ، ڈیز طالب علموں کے کو سپروائزر رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے آج تک 30 ایم،فل سکالرز کی سپرویژن کی ہے۔ اور تقریبا چالیس کے قریب ایم، فل سکالرز کے کو سپروائزر رہ چکے ہیں۔ موصوف نے تقریبا اپنی سربراہی میں درجنوں ریسرچ کانفرنس کروائی ہے۔ آج تک تقریبا درجنوں پی، ایچ، ڈیز اور اور ایم، فل تھیسس کی ریویو کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ بہت ساری کمیٹیوں کے چیرمین اور ممبر رہ چکے ہیں۔
یہ تھی، آپ کی آفیشل تعارف، جو کہ میں سمجھتا ہوں، کہ بہت کم معلومات مجھے حاصل ہوئی ہے۔

اب آتے ہیں، کہ آپ بحیثیت استاد کیسے تھے؟ آپ نے کبھی اپنے طالب علم کو یہ تاثر نہیں دیا، کہ میں استاد ہوں۔ اور تم شاگرد ہو۔ استاد سے زیادہ آپ ایک اچھے دوست تھے۔ ذہین اور پتین اتنا کہ اساتذہ اپنے آپ کو اور خصوصاً ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو یتیم سمجھ رہے ہیں۔ میرے خیال میں آپ استاد ہونے کے علاوہ آپ بہت بڑے انسان تھے۔ ہر وقت خوش وخرم رہنے والا انسان تھا۔ اور رہتا ایسا، جیسے ہزاروں سال رہنے اور معاشرے کی خدمات دینے کے لئے آئے ہو۔ ہر وقت ہنسی، مذاق خوش وخرم دکھائی دیتا تھا۔‌

اب آتے ہیں، کہ آپ کے پاس سرمایہ کتنا تھا۔اتنا ملنگ، فقیر، درویش بندہ کبھی زندگی میں نہیں دیکھا۔ پچھلے پانچ سالوں سے میں یونیورسٹی جاتا ہوں۔ آپ کے پاس ایک کورٹ اور ایک ہی واسکٹ میں نے دیکھا ہے۔ جب ہمیں خبر ہوئی۔ کہ موصوف اب دنیا میں نہ رہے۔ اور ہم آپ کے آبایی گاؤں گیے۔ اور آپ کے گھر کو دیکھا، تو یقین کرے کہ ایک یونیورسٹی کے پروفیسر اس دنیا میں صرف ایک کمرے کے گھر میں اپنی زندگی کے صبح شام گزار رہا ہے۔ آپ کا قریبی دوست بتا رہا تھا۔ کہ مرنے کے بعد جب آپ کے اکاؤنٹ کو چیک کیا گیا۔ تو اکاؤنٹ خالی تھا،وہ یہ بتاتے ہوئے زاروقطار رو رہا تھا۔

ایک بندہ دنیا کے باییس ممالک کا وزٹ کرے۔ پرنسپل اور پروفیسر کے عہدے پر رہے۔ اس کے علاوہ کئی اداروں کے چیئرمین رہ جائے۔ اور جب دنیا سے پردہ پوشی کرے۔ تو انتہائی غربت میں رحلت فرمائے۔ تو یہ درویشی، فقیری اور ملنگی نہیں۔ تو اور کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں۔ کہ لوگ جو کہتے ہیں۔ کہ دنیا میں آپ کے اردگرد اللہ کے ولی رہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر امیر زمان صاحب ایک ولی تھا۔ جو کہ ہم پہچان نہ پائے۔

جب اس ولی کا جنازہ تھا، تو مولانا صاحب نے بتایا کہ اس ولی کو مذہب سے بہت بڑا لگاؤ تھا۔ اور مولانا مودودی کے افکار پر گہرا عبور حاصل تھا۔ سوشل میڈیا کے ایک دوست نے پوسٹ کیا تھا۔ کہ چونکہ میں خود موصوف سے نہیں ملا۔ لیکن میں اکثر مولانا مودودی کے افکار پر کچھ کہتا تھا ۔ اور آپ مجھے بڑے لاجیکل طریقے سے سمجھاتے تھے۔
ڈاکٹر امیر زمان صاحب خود میں ایک سمندر تھا، اور کس نے سمندروں کو عبور کیا ہے۔ آخر میں سب دوستوں، طالبعلموں کو درخواست کروں گا۔ کیونکہ وہ ہمارے درمیان نہیں رہے۔ رمضان کا بابرکت مہینہ ہے۔ تو رمضان کی دعاؤں میں محترم کو ضرور یاد کیجئے گا۔

0Shares

تعارف: ویب ڈیسک

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

0Shares