تم کواسلاف سے کیانسبتِ روحانی ہے؟ قاری محمدعبدالرحیم

تحریر : قاری محمدعبدالرحیم

ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ وترویج واقعتا اہل صفا اولیاء اللہ کے ہی مرہونِ منت ہے،محمدبن قاسم کے بعد محمود غزنوی کا ہندوستان پر فوجی حملہ بھی کسی ولی کی نظر کرم کا مرہونِ منت تھا، اس کے علاوہ مغلیہ سلطنت اور دوسرے لوگ بھی سارے کے سارے اہل اللہ کی دعاومدد سے قائم رہے، تبلیغِ اسلام کے لیے آنے والے اہل اللہ میں سے حضرتِ داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے بعد حضرت خواجہ غریب نواز سلطان الہند معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ جنہوں نے حضرتِ داتا علی ہجویری کے مزارِ اقدس پر چلہ فرمایا اور ہندوستان کے مرکز میں جا کر ڈیرہ لگا دیا،ایک ایک نظر میں لاکھوں لوگوں کو مشرف بہ اسلام کرنے والے یہ بزرگ اوران جیسے اور ہزاروں نے ہندوستان میں تبلیغِ اسلام کا حق ادا کردیا، ان پاک بزرگواران نے ہندوستان کے طبقوں میں پستے انسانوں کو اسلام کے سائے میں لاکر انسانی آزادیوں سے نوازا، ہندوستان کے انسان جو جادوٹونے اور اسراری قوتوں سے اس قدر مرعوب تھے کہ ہندوستان میں انسانوں کو خدا کا درجہ دے دیا گیا تھا، ہر جانور اور درخت وپتھر کے آگے صرف سجدہ ہی نہ ہوتا تھا بلکہ ان سائیوں کا خوف ڈالنے والوں کی ہر اس بات کو من وعن مانا جاتا تھا، جووہ ان جانوروں پتھروں درختوں کے بارے میں کہہ دیتے تھے،انسانوں کے شرمگاہوں کو بھی پوجا جاتا تھا، یہ شولنگ، اور دیوتیوں کی شرمگاہ کو بھی سجدے کیے جاتے تھے،لیکن یہ کوئی شوقیہ نہیں بلکہ انسانوں کے اندر یہ خوف ان کی جینز میں ڈال دیا گیا تھا کہ اگر ان کو نہ ماناگیا تو انسان زندگی سے مٹ جائیں گے، اورزندگی ہرکسی کو پیاری ہوتی ہے، صوفیا واہل اللہ نے انسانوں کو اس خوف سے نکالنے کے لیے جبے قبے اوردستاروں کا سہارانہیں لیا، بلکہ وہ ان شیطان کے چیلوں سے برسرِ پیکار ہوے، مشہور واقعہ ہے داتا صاحب نے جوگی کے خوف میں مبتلا لوگوں کو جوگی کی جادوئی دست برد سے اپنی روحانی طاقت سے محفوظ کیا تو لوگ ٹھٹھ کے ٹھٹھ آپ کے دامن میں پناہ لینے لگے،خواجہ اجمیر نے ہندووں کے سب سے بڑے مندر کے سامنے ڈیرہ لگایا تو یاترا کرنے والوں کو بتوں پراپنا حکم چلا کر دکھایا تو لوگ پروہت کو چھوڑ کر آپ کے قدموں میں آگئے، اوراسلام قبول کرتے گئے، پھر اسلامی یلغار کے لیے بھی ان اولیا ء اللہ نے اپنی روحانی طاقت سے ساتھ دیا، اورپھر ایک ایسا ملک جس میں پانچ دس فی صد مسلمان تھے، کئی صدیوں تک اسلامی حکومت کے تحت چلتارہا، جہاں پر نظام اسلامی تھا، چاہے حکومتیں خاندانی تھیں، ان سب کے پیچھے اہل اللہ کا ہاتھ تھا، جب اکبر نے دین الٰہی ایجاد کیا،جس کے تحت بادشاہ کو سجدہ جائز تھا، جس کے تحت سلام کے بجائے اللہ اکبر کہہ کر کورنش بجا لانا تھا، اس کے خلاف وہی اہل اللہ ہی اٹھ کھڑے ہوئے۔ جہانگیر کے دور میں خواجہ سرہند نے بادشاہ کے سامنے جھکنے کو اسلام کے خلاف کہہ کررد کردیا،اتنی بڑی سلطنت کا مالک ہرسیاہ وسفید کا مالک اس ایک مرد حر کو جھکانے کے لیے کیا کیا جتن کرتا رہا،لیکن اللہ کا ولی تو نہ جھکا البتہ جہانگیر کا دل اللہ کے دین کی طرف جھکا لیا، پھراسی خاندان میں عالمگیر جیسا ایک عالمِ دین وصوفی آیا جس نے اسلامی قوانین کو سرکاری قوانین کے طور پر چلانے کے لیے فتاویٰ عالمگیری ترتیب دیا۔ کیا یہ لوگ صرف اپنی طاقت یا علم سے ہی حکمرانی کررہے تھے،نہیں بلکہ اہل اللہ ان کے پشت پناہ تھے، جہاں سے ان لوگوں نے اہل اللہ سے منہ موڑا اوراہل اللہ نے ان کے غیر اسلامی کاموں کی وجہ سے ان سے منہ موڑا تو صدیوں سے چلتی سلطنت ایسے ختم ہوگئی جیسے کبھی تھی ہی نہ۔ اس کی وجہ وقت کے حکمران اور روحانی جانشینوں کا موروثی ہونا تھا، کہ جب حکمرانوں کو بھی نسل در نسل شاہی منتقل ہورہی تھی،تووہ بھی اپنے آپ کو عیاشیوں میں ڈبوبیٹھے کہ جیسے عیش وعشرت ان کے لیے ہی ہے، اور باقی مخلوقِ خداان کی خدمت واطاعت کے لیے پیدا کی گئی ہے، خانوادہ روحانیہ میں بھی یہی در آیا کہ ہم نسل در نسل اس منصب پر ہیں،اور مخلوقِ خدا کی دنیاوآخرت ہماری خدمت میں ہی ہے،جو اس روش سے ہٹا وہ راندہ درگاہ ہوا، غوث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں، دورانِ سیاحت میں ایک آستانہ عالیہ پر حاضر ہوا ایک پیر صاحب بھی مع اپنے خدام مریدین تشریف فرماتھے،کسی کم خدمتی کی بنا پر پیر صاحب نے اپنے ایک جلاہے مرید کو درکار دیا،اور فرمایا جا ہم نے تمہیں چودہ خانوادوں سے نکال دیا ہے، تو اب مردودِ درگاہ ہوگیا ہے، بے چارہ اسی غم میں بیٹھا رورہا تھا کہ میرا گزر ہوا، میں نے پوچھا بھائی کیا وجہ ہے، اس قدر پریشان ہو بولا پیر صاحب نے چودہ خانوادوں سے نکال دیا ہے اب میراکیا بنے گا، وہ اوراس کا پیر دونوں مجھے جانتے تھے، میں نے کہا بھائی رونے کی کوئی ضرورت نہیں، آو ہم تمہیں پندرویں خانوادے میں شامل کرلیتے ہیں، وہ جاہل خوشی خوشی اٹھااور جا کراپنے پیربھائی سے کہا پیرصاحب سے کہنا آپ نے چودہ خانوادوں سے نکالا تھا میں اب پندرویں خانوادہ میں چلا گیاہوں، پیرصاحب کو جب پتا چلا تو بولے ادھر غو ث علی شاہ تو نہیں آیا ہوا یہ اسی کی شرارت ہے۔لہذامسلم شاہی کی بنیاد یں صرف حکمرانون کی عیاشیوں ہی سے نہ ہلی تھیں بلکہ اس میں موروثی خانوادوں کا بھی عمل دخل تھا، آج بھی یہ سلسہ شاہی قائم ودائم ہے،لوگ اپنے وجودِ مسعود کو ہی نجاتِ امت کے لیے ضروری سمجھتے ہیں، حضرتِ داتا گنج بخش اور ان جیسے تمام اولیا نے اپنے فقر وولایت کو کبھی بیان نہیں فرمایا، حضرتِ مجدد رحمۃ اللہ علیہ سے جب جہانگیر نے عرض کیا حضور آپ تو برگزیدہ ومتقی ہیں ہمارا کیا بنے گا تو آپ نے فرمایا اگر اللہ نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی فرمائی تو میں تجھے بازوسے پکڑکر ساتھ جنت میں لے جاوں گا۔ان پیروں نے نہ کوئی مشائخ کانفرنس بلائی نہ کوئی جبہ وقبہ وسجادہ کی نمائش کی، تو ہندوستان میں اسلام پھیلادیا،۔تحریکِ پاکستان میں گوکہ علماء ومشائخ کا بڑا کردار تھا، لیکن پاکستان بننے کے بعد قائدِ اعظم تو بقضائے الٰہی فوت ہوگئے، لیکن یہ پیرانِ عظام یہ علمائے کرام تو باقی رہے، کیا انہوں نے حکومتِ اسلامی کے قیام کے لیے کوئی کردار اداکیا؟اورکیوں نہیں؟اس لیے کہ باوجودے یہ لوگ صاحبانِ کشف کرامت تھے،اوران میں سے بہت سے صاحبِ ورع وتقویٰ بھی تھے، لیکن شعورِ نفاذِ قانون نہ تھا،اوراسی طرح پچہتر سال گزر گئے،یہ لوگ منتظر ہیں کہ کوئی داڑھی منڈا آئے اورنفاذِ اسلام کی آواز بلند کرے توپھر ان کی دعاؤں سے اسلام نافذ ہوجائے، اے کاش کہ ان کو پتا ہوکہ نفاذِ اسلام دعاؤں سے نہیں،سربکف ہونے سے ہوتا ہے ورنہ میرے نبی ﷺ سے زیادہ کوئی مستجاب الدعوات نہیں، میرے آقاﷺ نے تو ہرآیت وحکم کو اپنے عمل اور جدوجہد سے نافذ کیا، اوریہ اللہ کی پوتر مخلوق کبھی ایک کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے کبھی دوسرے کے ساتھ، کہ یہ دین لائے گا، یہ ریاستِ مدینہ بنائے گا،لیکن بقول کسے بسا آرزوے کہ خاک شد،رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف،آج کچھ درد دل میں سواہوتا ہے، وما علی الاابلاغ۔

0Shares

تعارف: قاری محمد عبدالرحیم

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

0Shares