اچھے انتظامی افسر کے فرائض مسائل اور حل : قیوم راجہ

اچھے انتظامی افسر کے فرائض مسائل اور حل : قیوم راجہ

تحریر: قیوم راجہ

معاشرتی اصلاح میں حسب توفیق اپنا حصہ ڈالنا ہر شہری کا فرض ہے لیکن یہ جزبہ جہاں اللہ تعالیٰ کی دین ہے وہاں انسانی اختیار بھی ہے۔ معاشرتی اصلاح کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کوئی سرکاری ملازم یا انتظامی افسر اچھا کام کرتا ہے تو عوام اس کا ساتھ دیں خاصکر ہمارے معاشرے میں جہاں انتظامی افسران پر سیاستدانوں کا اکثر غلط دبائو ہوتا ہے۔ حال ہی میں کوٹلی کے ڈپٹی کمشنر امجد علی مغل کی جگہ چوہدری ساجد اسلم کو پروموٹ کر کے یہاں لایا گیا تو سوچا کیوں نہ ایک انتظامی افسر کے فرائض پر قلم اٹھایا جائے مگر میں اس ملک میں انتظامی افسران کے مسائل سے بھی آگاہ ہوں۔ اس لیے ان مسائل اور انکے حل کا بھی تذکرہ ضروری ہے۔

امجد علی مغل کا تعلق میرپور کے نواحی گائوں پنڈی سمروال سے تھا۔ اس طرح وہ یہاں مہمان ڈپٹی کمشنر تھے جبکہ چوہدری ساجد اسلم کا تعلق ضلع کوٹلی کی تحصیل کھوئی رٹہ سے ہے جو میرا آبائی گھر ہے۔ بائر سے آنے والے انتظامی افسر کو تو لوگوں اور انکے معاملات سے اگائی کے لیے کافی محنت کرنی پڑتی ہے مگر مقامی افسر کے لیے بہت سارے معاملات کامن نالج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے چوہدری ساجد صاحب کے لیے جہاں کچھ آسانیاں ہوں گی وہاں کچھ لوگوں کی غیر ضروری توقعات کاسامنا بھی ہو سکتا ہے لیکن وہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر یہ مقام حاصل کرنے والے ڈپٹی کمشنر ہیں جسکی وجہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی غلط سیاسی دباؤ کا شکار نہیں ہوں گے۔ انکے والد چوہدری محمد اسلم بطور تحصیلدار ریٹائر ہوئے تھے اور انکے بھائی چوہدری محمد فرید بھی اسی محکمہ میں ہیں۔

امجد علی مغل نے اپنی ملازمت کا آغاز بطور اسسٹنٹ کمشنر کھوئی رٹہ شروع کیا تھا۔ میرے مشاہدے میں یہ بات شامل ہے کہ انکے پاس سائلین بغیر سفارش اور ریفرنس کے جایا کرتے تھے۔ میں نے انہیں اپنے فرائض سے بڑھ کر سائلین کی مدد کرتے دیکھا۔ میں نے کئی غریب اور کمزور افراد کو انکے پاس ا کر روتے دیکھا۔ کسی مظلوم کو کسی افسر کے پاس جا کر اپنی مظلومیت کا رونا رونے کے لیے بھی ہمت و جرات کی ضرورت ہے۔ چوہدری ساجد اسلم صاحب جاٹ ہیں مگر ٹھنڈے دماغ اور دھیمے لہجے کے مالک ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ بے یار و مددگار سائلین انکے پاس بھی کسی خوف اور سفارش کے بغیر جا سکیں گے۔ وہ کوٹلی میں افسر مال اور اسسٹنٹ کمشنر رہ چکے ہیں۔ کافی لوگ انکے مزاج سے اچھی طرح واقف ہیں۔

عمومی طور پر ایک اچھے انتظامی افسر کے اثاثے اسکی مثبت سوچ، بصیرت، خود اعتمادی، راست بازی، فرض شناسی، انصاف پسندی، حکمت عملی و معاملہ فہمی کے علاؤہ قوت فیصلہ سمجھے جاتے ہیں ۔ مثبت سوچ کامیابی کا تصور اجاگر کرتی ہے۔ صاحب بصیرت انسان کی صرف حال پر ہی نہیں بلکہ مستقبل پر بھی نظر ہوتی ہے۔ شخصی اعتماد کی آبیاری جہاں اپنی کامیابیوں کو یاد رکھنے سے ہوتی ہے وہاں اپنی زمہ داریوں کے حوالے سے مسلسل تربیت اور سیکھنے کے عمل سے بھی ہوتی ہے جبکہ حکمت عملی اور معاملہ فہمی تو ہر انسان کی زندگی کی ضرورت ہے اور جسکا جتنا ٹاسک مشکل ہو اسکو اتنا ہی زیادہ باتدبیر اور خوش تدبیر ہونا چاہیے۔
ہمارے معاشرے میں کسی بھی انتظامی افسر کا سب سے بڑا مسلہ سیاستدانوں کی مداخلت ہے۔ یہی نہیں کہ سیاست دانوں نے ریاستی اداروں کو اپنی جاگیر سمجھا ہوا ہے بلکہ سرکاری کاموں سے زیادہ اپنی غیر ضروری پروٹوکول میں مصروف رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ دفتری اوقات کے دوران وزراء انتظامی افسران کو ولیموں ، ختموں اور جنازوں پر ساتھ لے جاتے ہیں۔ حکمرانوں کو سرکاری اخراجات پر ولیمے کھلانا ریاستی زمہ داری میں شامل نہیں لیکن اس کلچر کی آبیاری میں ہماری عوام کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ عوام کی ڈیمانڈ ہے کہ حکمران شادی بیاہ، ختموں اور جنازوں میں شرکت کریں ۔ سیاستدانوں کے لیے تو یہ سودا کسی طرح مہنگا نہیں۔ انہوں نے عوامی کاموں کے بجائے لوگوں کی خانگی تقریبات میں شرکت کو رواج بنا لیا ہے۔ عوام کے اندر جب تک شعور بیدار نہیں ہو گا تب تک اس کلچر کی اصلاح ممکن نہیں۔ برحال ہر انسان کو اپنے حصے کا کام کر کے بہتر نتائج کی توقع رکھنی چاہیے۔

تعارف: قیوم راجہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*