تحریر : سید جواد بخاری
زندہ رہنے کے لیے غذا نہایت اہم جزو ہے،بنیادی طور چھ چیزیں غذا میں شامل ہوتی ہیں ،کاربوریٹ ،پروٹین ،چربی ،وٹامن ،نمکیات اورپانی غذا کا حصہ ہوتی ہیں،صحت کی برقراری کے لیے چھ چیزوں کا میسر ہونا بہت ضروری ہے،اگر صرف پانی میسر ہو تو غذا کے بغیر انسان زیادہ سے زیادہ 40 دن زندہ رہ سکتا ہے، دنیا میں غذائیت کی کمی کا مسئلہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے، ناواقفیت، غلط رسم و رواج اور غذا کی حفاظت کے مسائل کے سبب بھی اس میں اضافہ ہوا ہے غذائیت کی کمی کا شکار بچے اچھے طالب علم نہیں بن پاتے جس سے مستقبل میں ان کی پیداواری صلاحیت گر جاتی ہے اور ملکی معیشت متاثر ہوتی ہے،اچھی خوراک پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر کے غربت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ تندرستی ہزار نعمت ہے ،جس طرح زندگی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی عطا ہے اسی طرح اچھی صحت بھی قدرت کا انمول تحفہ ہے،زندگی کی خوشیوں اور مسرتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کےلیے تندرستی اہم کردار ادا کرتی ہے،دراصل تندرست انسان ہی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں اور لذتوں سے بھرپور لطف اُٹھا سکتا ہے، نظام قدرت نے ہماری صحت کی حفاظت اور ہمارے جسم کو مناسب وقت تک برقرار رکھنے کےلیے ہمارے جسم میں ایسا خودکار نظام وضع کیا ہے جس پر غور کرنے سے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
کاربوہائیڈریٹ روٹی ،چاول ،آلو اور سبزیوں میں پایا جاتا ہے ،انسانی جسم قریباً60 فیصد توانائی کاربوہائیڈریٹ سے حاصل کرتا ہے،انسانی جسم میں ضرورت سے زیادہ کاربوہائیڈریٹ کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے، فائبر ہمیں پھلوں، سبزیوں، بریڈ، چھلکے دار اناج سے بنے پاستا، دالوں، چنے، میوہ جات اور بیجوں سے حاصل ہوسکتی ہے،عام سائز کے ایک کیلے میں تقریباً تین گرام فائبر ہوتی ہے۔ جبکہ آدھا کپ جو میں 9 گرام، براؤن بریڈ کا بڑا سلائس 2 گرام، ایک کپ پکی ہوئی دال 4 گرام، چھلکے کے ساتھ پکا ہوا آلو 2 گرام، ایک گاجر 3 گرام، چھلکے کے ساتھ سیب میں 4 گرام فائبر ہوتی ہے
انسانی جسم میں بیماریوں اور اُن کی شفایابی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہمیشہ اور ہر وقت جاری رہتا ہے۔ انسانی جسم کے اندر ایک خودکار مدافعتی نظام ہر وقت متحرک رہتا ہے جو ہمارے جسم میں پیدا ہونے والی بے شمار بیماریوں کو خودبخود ختم کردیتا ہے،ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اور اس کے پیارے صحت مند زندگی گزاریں،صحت مند زندگی گزارنے کےلیے دیگر بہت سارے عوامل کے ساتھ اچھی اور مناسب غذا کا استعمال بہت ضروری ہے، لہٰذا ایسی غذا کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا چاہیے جو غذائیت سے بھرپور ہو،انسانی جسم کو بہتر نشوونما کےلیے روزانہ کی بنیاد پر پانی، پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، وٹامن اور منرلز درکار ہوتے ہیں،اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ وہی غذا استعمال کی جائے جو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار کی جائے
اچھی صحت کےلیے اگر کچھ بنیادی باتوں کو دھیان میں رکھ کر زندگی گزاری جائے تو انسان کئی پیچیدگیوں سے بچ سکتاہے، مثال کے طور پر انسانی صحت کی اچھی نشوونما کےلیے صفائی اور پاکیزگی کی بہت اہمیت ہے،کھانے پینے کے اوقات کی پابندی، کام اور کام میں توازن اور متوازن غذا کا استعمال انسانی صحت کےلیے بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے،صحت مند کھانے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان پلیٹیں بھر بھر کر کھائے اور سانس لینے کےلیے جگہ بھی نہ چھوڑے،کچھ لوگ گوشت پر بہت توجہ دیتے ہیں جبکہ ہفتے میں گائے کے گوشت کا ایک برگر یا مہینے میں ایک بڑے اسٹیک کے برابر گوشت انسانی جسم کی ضرورت کےلیے بہت سمجھا جاتا ہے،ہفتے میں ایک بار تھوڑی مچھلی اور مرغی بھی کھا سکتے ہیں،جبکہ انسانی جسم کو درکار پروٹین کا باقی حصہ سبزیوں سے پورا کرنا چاہیے،پھلوں اور سبزیوں کو ہماری غذا کا ضروری حصہ ہونا چاہیے،قدرت نے جو مختلف چیزیں ہمارے لیے پیدا کی ہیں ان سب کا مناسب استعمال انسانی صحت کو برقرار رکھنے میں مفید ثابت ہوسکتا ہے،اس لیے کسی ایک چیز کا زیادہ استعمال کرنے کے بجائے مختلف قسم کی غذا کھانی چاہیے تاکہ جسم کو اس کی ضرورت کے مطابق غذائیت ملتی رہے
ماہ رمضان میں دنیا بھر کے مسلمان مسلسل 30 دن تک صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے سے پرہیز کرتے ہیں ، ماہِ رمضان المبارک دنیا و آخرت کے اعتبار سے ہمارے لئے نہایت فائدہ مند ہے،ماہِ رمضان کے روزے رکھنے سے نہ صرف ثواب حاصل ہوتا ہے بلکہ بے شمار جسمانی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں،جس طرح کچھ مدت کے بعد موٹر سائیکل یا گاڑی کی بہتر کارکردگی کے لئے اس کی ٹیوننگ مفید اور ضروری ہوتی ہے، اسی طرح روزے میں بھوکا پیاسا رہنا ہمارے جسمانی نظام کو بہتر کرتا ہے
مناسب غذاکھائیے اور صحت مندزندگی گزاریے!
راز ٹی وی اردو