تحریر: راجہ عمر فاروق
ریاست کے حقوق کہ ذمہ داری، ریاست کے ذمہ داران پر ہوتی ہے ریاست کی ایک اینٹ کی حفاظت کرنا بھی حکمران طبقہ سے لیکر ایک معمولی چپڑاسی پر بھی فرض ہوتا پے کہ وہ ریاست کے حق کو ادا کرئے، ہمارا خطہ آزاد کشمیر ایک ایسا علاقہ ہے جہاں برادری کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی اور یہی وجہ ہے کہ اس خطہ میں مضبوط برادری ہی ہر جگہ نظر آتی ہے حالانکہ ہم ایک راگ الاپتے ہیں تھکے چکے ہیں کہ آزاد خطہ سے برادری ازم کو ختم کر کے ہر فرد کو یکساں حقوق ادا کیے جائیں گے لیکن مقام افسوس ہے کہ ہم اس عزم سے اس ازم کو ختم نہیں کر سکے جس طرح کے اعلانات اور نعرے بلند کرتے ہیں، آزاد کشمیر کے وسائل پر بھی ایک طبقہ جس کو صرف قبضہ مافیا کہا جاتا ہے وہ آزاد خطہ کی زمینوں پر قابض ہونا اپنا فرض سمجھ لیتا ہے اس فرض کی انجام دہی کے لیے یہ قبضہ مافیا اس قدر متحرک اور فعال ہو چکا ہے کہ وہ زمینوں پر قبضہ کرتے وقت کسی بھی خوف و خطر سے محفوظ ہوتا ہے آزاد کشمیر کا ضلع میرپور با نسبت آزاد کشمیر کے دیگر اضلاع کے زیادہ ترقی یافتہ اور تعمیر و ترقی کا گہوارہ ہے اس ضلع میرپور کے عوام سالانہ کروڑوں روپے ریونیو ادا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہاں سہولیات بھی بہتر ہیں یہ شہر منگلا ڈیم کی تعمیر کے وقت متاثرین منگلا ڈیم کی آباد کاری کے لیے تعمیر کیا گیا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ضلع میرپور کی آبادی اور رقبہ میں اضافہ ہوتا چلا گیا، اس وقت حکومت آزاد کشمیر کے متاثرین کی آباد کاری اور شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے ایم ڈی اے کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ متاثرین منگلا ڈیم کی آبادکاری اور الاٹمنٹ کے حوالہ سے درپیش مشکلات ختم ہو سکیں وقت گزرتا چلا گیا اور میرپور کے مضافات سمیت کئی علاقوں میں ایم ڈی اے کی مبینہ آشیرباد میں ایک ایسا گروہ اور مافیا پینپتا رہا جو میرپور کی قیمتی اراضی پر قابض ہونا شروع ہو گیا جو بعد میں ایک قبضہ مافیا کا روپ اختیار کرتا چلا گیا، ایم ڈی اے میں کرپشن اور اقرباپروری کا اس قدر رحجان بڑھتا چلا گیا کہ میرپور کی کئی قیمتی اور آج کے دور میں کروڑوںروپے مالیتی کے پلاٹوں پر اس قبضہ مافیا نے مبینہ طور پر قابض ہو کر ان لوگوں کے حق پر ڈاکہ مارا جنہوں نے منگلا ڈیم کی تعمیر کے لیے اپنی املاک اور آباواجداد کی قبروں کو منگلا جھیل کی لہروں کی نذر کر دیا تھا آج بھی میرپور میں ایم ڈی اے میں مبینہ کرپشن اور قبضہ مافیا کا راج برقرار ہے اس محکمہ میں بیٹھے ہوئے لوگ مبینہ طور پر جعلی فائلیں اور الاٹمنٹ لیٹر تیار کر کے ان لوگوں کے پلاٹوں پر قابض ہونے میں پیش پیش ہیں جنہوں نے اپنہ جمع پونجی ایک پلاٹ میں خرچ کر دی لیکن قبضہ مافیا طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ اندرون خانہ مبینہ طور پر ایسی ساز باز کرتا ہے کہ جس کو حقیقی معنوں میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا میرپور میں اس وقت بڑے پیمانے پر میرپور کی زمنیوں پر قبضہ مافیا قابض ہونے کے لیے ہر ہتھکنڈا استعمال کرنے کے لیے تیار ہے اور یہی وجہ ہے کہ میرپور میں ایم ڈی اے کو کرپشن کا گڑھ اور قبضہ مافیا کا سرخیل کہا جاتا ہے جہاں جعلی فائلیں اور جعلی معاملات کیے جاتے ہیں یہ وہ صورتحال ہے جو آج ایم ڈی اے میں اس قدر توانا ہو چکی ہے کہ اس کے توسط سے اس قبضہ مافیا نے میرپور ضلع کی سرکاری اراضی پر بھی قبضہ کرنا شروع کر دئیے ہیں یہ وہی زمینیں اور اراضی ہے جن کو عام فہم زبان میں خالصہ سرکار کہا جاتا ہے جو سرکار اپنے منصوبہ جات کے لیے رکھی ہوتی ہیں کہ ان جگہوں پر سکولز، کالجز، ہسپتال یا دیگر فلاحی ادارے قائم کیے کا سکتے ہیں لیکن مقام افسوس ہے کہ میرپور میں مبینہ طور پر سرکاری اداروں کی سرپرستی میں چلنے والے قبضہ گروپ اپنی طاقت اور دھاک میں اس قدر زور آور بن چکے ہیں ان کو حکومتی فیصلہ جات اور اقدامات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہوتی اور یہ لوگ کرپشن اور قبضہ گروپوں کی سرپرستی میں کروڑوں روپے کی خالصہ سرکار زمینوں پر قابض ہونا اپنا فرض سمجھ لیتے ہیں۔
ابھی حالیہ دنوں کی ہی بات ہے کہ سیکرٹری فیاض عباسی کی میرپور آمد ہوئی جہاں پر ایک میٹنگ کا انعقاد عمل میں لایا گیا اس میٹنگ میں سیکرٹری فیاض عباسی کی طرف سے یہ احکامات جاری کیے گئے تھے کہ میرپور کی سرکاری اراضی یعنی خالصہ سرکار و شاملات کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور دھڑا دھڑ اس اراضی پر ہونے پر قبضہ کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں ہر اقدامات کے ساتھ جو اراضی قبضہ مافیا نے قبضہ کر رکھی ہے اس کو مکمل طور پر واگزار کروائی جائے لیکن ابھی تک سیکرٹری فیاض عباسی کے احکامات پر عمل نہیں ہو سکا اور نہ متعلقہ ادارے بالخصوص ڈپٹی کمشنر کی طرف سے خالصہ سرکار پر ہونے والے قبضوں کو روکا جا سکا ہے اور نہ ہی قبضہ مافیا کے ہاتھوں قابض ہونی والی زمین کو واگزار کروایا جا سکا ہے ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ فوری طور پر سیکرٹری کے احکامات پر عملدرآمد کیا جاتا ہے اور قبضہ مافیا کہ خلاف بھرپور طریقہ سے شکنجہ تیار کر کے اس کی سرکوبی کہ جاتی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں کیا جا سکا اور یہی وجہ ہے کہ جہاں قبضہ مافیا اس قدر طاقتور ہو کہ ضلع کا مجسٹریٹ اس کے خلاف کارروائی نہ کرسکتا ہو تو یقیناً یہ کہنا حق بجانب ہے کہ پھر لوگوں کے حقوق کا تحفظ مشکل ہوجاتا ہے جہاں ایک اعلی سرکاری افسر کے احکامات پر عمل نہ نہیں ہے سکتا وہاں ایک عام کی درخواست مارک کرنے کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے کہ جس کی مکمل طور پر سنوائی ہی نہ ہو سکے مبینہ طور ڈپٹی کمشنر کی مارک کردہ درخواست نظر انداز کر دی جاتی ہے اور خالصہ سرکار پر ہونے والے قبضوں پر دی گئی درخواستوں کو بھی نظر انداز کر دیا جو کہ ایک بہت بڑا المیہ ہے بن چکا ہے لوگ اہنے حقوق کے لیے اور اپنے مسائل کے حل کے لیے درخواستیں دستخط کروانے کے لیے پھیرتے ہیں کہ ہمارے مسائل حل ہو سکیں لیکن لوگوں کے مسائل حل نہیں ہورہے، ایک بات اور لکھتا چلوں کہ گزشتہ دنوں چئیرمین احتساب بیورو نے میرپور میں کھلی کچہری لگائی جہاں سائلین اپنے اپنے مسائل سے آگاہ کیا وہیں سائلین نے محکمہ برقیات کے حوالہ سے شکایت کی کہ محکمہ برقیات میٹر تنصیب کر رہا ہے جو درست حالت میں ہونے کے باوجود تبدیل کیے جا رہے ہیں چئیرمین احتساب بیورو نے محکمہ برقیات کو میٹر تبدیل کرنے سے روک دیا لیکن محکمہ برقیات کہاں یہ بات مان سکتا ہے اس نے چئیرمین احتساب بیورو کے احکامات کو ردی کی ٹوکری سمجھا اور میٹر پر میٹر تبدیل کیے گئے،
محترم قارئین آج ہمارے اداروں کی یہ حالت ہو چکی ہے کہ اداروں کے سربراہان اپنے احکامات عمل درامد کروانے سے قاصر ہیں سرکاری اراضی پر قبضہ ہو یا ایک عام شہری کی زمین پر قبضہ اس کو واگزار کروانا بھی ایک مشکل عمل بن چکا ہے جو کہ حکومت سمیت تمام کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔۔۔
راز ٹی وی اردو