لائٹر ملے گا صاحب ؟

لائٹر ملے گا صاحب ؟

تحریر: رانا علی زوہیب

آج شب تِشنہ دل کے ایک کونے میں چنگاری سی اُٹھی اور میرے تن بدن میں آگ لگا گئی ، میں سوچ رہا تھا کیا یہ وہی اسلام کا قلعہ ہے جسکو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کرکے اور تین لاکھ جانوں کا نذرانہ دے کے حاصل کیا گیا ، کیا اسلام کا یہ قلعہ اس لیے حاصل کیا کہ اس میں ایسی جگہیں بنائی جائیں جو اسلام اور اس نظریے کے بالکل منافی ہوں جس کی بنیاد پہ یہ اسلامی ملک حاصل کیا گیا ، میں آج کی اپنی اس تحریر میں اس جگہ کا تذکرہ کروں گا جہاں پر یہ فقرہ زبانِ زدِ خاص و عام ہے ”لائٹر ملے گا صاحب “؟؟؟؟

آج دوپہر فون کی گھنٹی بجی ، میرے ہر دلعزیز دوست ، عظیم لکھاری اور تاریخ دان” محمد توقیر ناصر“ صاحب کا فون تھا ، فون اٹھاتے ہی سلام سے بھی پہلے انڈین فلم ”پدماوت“ کے چار سے پانچ ڈائیلاگ سنا دیے اور ساتھ ہی مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولے ” کیا حال ہے جناب علاؤلدین خلجی محترم جناب رانا علی زوہیب صاحب “ ۔۔ اونچا قہقہ لگا کے بولے کہ رانا صاحب آپ نے کل رات کا پروگرام مس کردیا ہے ، آپکو فلم دیکھنی چاہیے تھی ۔ حسب روایت ایک صحافی کا جو جواب ہوتا ہے کہ جناب ” ٹائم نہیں نکال پایا“ وہی جواب دے مارا ۔۔ پھر گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ چلیں کوئی بات نہیں آج آپکو ایک نئی چیز نہ دیکھائی جائے؟۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہے وہ نئی چیز ۔؟ کہنے لگے آپکو ” ممٹو دی ہُنزہ “ نہ دیکھائی جائے؟ ۔۔ چونکہ تذکرہ فلم کا ہو رہا تھا تو ایک سیکنڈ کی تاخیر کیے بنا میں نے پوچھ لیا کہ ”انگریزی میں ہے یا اُردو میں “ ، میرے یہ الفاظ کہنے کی دیر تھی کہ توقیر صاحب نے زور دار قہقہ لگایا اور کہا کہ ”جناب علی“ یہ فلم نہیں ایک جگہ کا نام ہے جو کہ جلال الدین محمد اکبر کے بیٹے سلیم کی محبوبہ ملکہ ہندوستان ”انارکلی“ کے بازار میں ہے ۔ ایک لمحے کے لیے ساری انار کلی بازار کی عمارتیں میری نظر کے سامنے سے گزر گئیں اور میں سوچ میں پڑگیا کہ ایسی کونسی جگہ ہے انارکلی میں جو آج تک میں نے نہیں دیکھی ، ان سے ٹائم فکس ہوا اور انکی بتائی ہوئی جگہ انارکلی بازار میں ممٹو دی ہنزہ کے سامنے پہنچے ۔ بلڈنگ بظاہر تو دیکھنے میں ایسے لگتا ہے کہ ابھی گر جائے گی اتنی خستہ حالت ہے ، باہر جب ممٹو دی ہنزہ کا تعریفی بورڈ پڑھا تو اس پہ لکھا تھا ”گلگت بلتستان کے کلچر کا کھانا“ ۔ دیکھ کے خوشی ہوئی کہ یہ نئی جگہ ہے کھانے کی ، چلو آج انکا ٹیسٹ بھی چیک کرتے ہیں ۔ جیسے ہی بلڈنگ کے اندر داخل ہوا تو آنکھوں میں چبن سی محسوس ہوئی ، جلدی سے آنکھوں کو اوپر اٹھا کے دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پورا ایریا سگریٹ کے دھویں سے بھرا پڑا تھا ، جیسے ہی تھوڑا سا آگے جا کے دیکھا تو دائیں طرف شطرنج کے کھلاڑی اپنا ٹیبل سجائے بیٹھے تھے بائیں جانب لڈو کھیلنے والے اپنا ٹیبل سجائے بیٹھے ہیں ، ادھر ادھر دیکھنے کے بعد باور ہوا کہ بیٹھنے کے لیے اوپر فرسٹ فلور پہ جانا پڑے گا ، سیڑھیاں ایسی کہ اگر پاؤں سلپ ہوجائے تو نیچے فرش پہ پہنچنے سے پہلے کوئی بھی چیز آپکو رکنے کے لیے نہیں ملے گی ، ابھی سیڑھیوں میں ہی تھا کہ اچانک سے بہت اونچی آواز میں میوزک سٹارٹ ہوگیا ۔

اوپر پہنچتے ہی دیکھا کہ سب سیٹیں بھی بُک ہیں اور قالین پہ بیٹھے لوگ تکیے ٹکائے فرش پہ بیٹھے ہیں اور سگریٹ کا کش پہ کش لگائی جا رہے ہیں ۔ میں نے توقیر کا بازو پکڑا اور کہا کہ جناب یہ کہاں لے آئے ہیں مجھے میرا تو سانس لینا مشکل ہو رہا ہے ۔ کہنے لگا کہ تھوڑی دیر رک جاؤ سب اچھا لگے گا ، اچانک اس نے مجھے ایک کونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ادھر دیکھو ، میں نے جب دیکھا تو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں ہو سکا ، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بہت خوبصورت خوبرو لڑکی جسکی عمر تقریبا بیس سال تک ہوگی ، انتہائی شرمناک طریقے سے ایک لمبے لڑکے سے چپکی بیٹھی ہے اور وہ دونوں سگریٹ پی رہے ہیں ، سگریٹ کبھی لڑکا لیتا تو کبھی لڑکی ، تھوڑا غور کرنے پہ معلوم ہوا کہ لڑکے نے اپنا بازو لڑکی کی گردن سے گھما کے اسکے بازو کے نیچے سے ہو کر اسکا ہاتھ لڑکی کے پرائیویٹ حصے تک پہنچ رہا تھا اور وہ گاہے بگاہے اسے ٹچ کرتا تو لڑکی ہلکی سے مسکراہٹ دیتی اور دونوں اپنے کام میں مگن رہے یہ جانے بنا کہ ہمیں کوئی دیکھ رہا ہے ، ابھی اسی کشمکش میں تھا کہ پیچھے سے آواز آئی ” ایکسیوزمی تھوڑا سا راستہ دے دیں “ پیچھے مڑ کے دیکھا تو ایک نہایت خوبصورت لڑکی جینز پہنے بال کھلے ایک ہاتھ میں سگریٹ اور دوسرے ہاتھ میں یونیورسٹی بیگ تھمائے اپنے تین ساتھی لڑکیوں اورایک لڑکے ساتھ قالین پہ بیٹھ گئے اتنے میں دکان کا مالک جو ایک پٹھان تھا آیا اور کہا کہ صاحب آپ کیا لیں گے ، ہم نے دو چائے کا کہا ، پتا نہیں کہ چائے کون بناتا اور کہاں سے آتی ۔

ابھی بمشکل 10 منٹ ہی گزرے تھے کہ ایک لڑکی اور کمرے میں داخل ہوئی ، کسی سے کوئی سروکار نہیں ، سیدھا کرسی پہ بیٹھی ، یہ لڑکی جی سی کالج کی سٹوڈنٹ تھی ، جینز کی جیب سے سگریٹ کی ڈبی نکالی ، دکان والے کو ایک اسٹنگ کولڈڈرنک کا آرڈر دیا اور سگریٹ کی ڈبی اوپن کی سگریٹ نکالی ،دوسری جیب میں ہاتھ ڈالا تو اسکے چہرے کے تاثرات سے لگتا تھا کہ لائٹر کہیں بھول آئی ہے ، ہاتھ جیب سے خالی نکلا ، ادھر ادھر دیکھا سب لڑکے لڑکیاں اپنے کاموں میں مگن ہیں ، کوئی سگریٹ پی رہا ہے ، کسی کے قہقے کی آوازیں بلڈنگ سے باہر تک جارہی ہیں ، اتنے میں توقیر ناصر نے بھی اپنا سگریٹ نکالا اور لائٹر سے اپنا سگریٹ سلگایا ، لائٹر دیکھتے ہی لڑکی جھٹ سے بولی ”لائٹر ملے گا صاحب“ اتنا کہہ کے وہ توقیر کی طرف لپکی اور سگریٹ منہ میں ڈال کے منہ آگے کردیا توقیر صاحب نے لائٹر جلا کے لڑکی کا سگریٹ سلگا دیا گویا یہ کسی ہندی فلم کے سین سے کم نہیں تھا ۔مزے کی بات یہ تھی کہ اوپر اور نیچے دونوں فلور پہ اتنے لڑکے نہیں تھے جتنی لڑکیاں تھی ، اس وقت میری حیرانگی کی حد نہ رہی جب ایک گروپ میں بیٹھی لڑکی نے اپنے یونیورسٹی بیگ سے ریڈ لیبل کی بوتل نکالی اور جس گلاس میں اسے کولڈ ڈرنک دی گئی تھی اس میں ڈال کر پینا شروع ہوگئی ۔میں توقیر صاحب سے کہا کہ جناب یہ کہاں کا لبرلزم ہے ، یہ پاکستان کے روشن چراغ ہیں ، لڑکا اور لڑکی جو یہاں بیٹھی ہے سٹوڈنٹ ہے ، کوئی جی سی کا سٹوڈنٹ ہے تو کوئی پنجاب یونیورسٹی مال روڈ والے کیمپس کا تھا ، سب کے پاس شہباز شریف یوتھ انی شی ایٹو لیپ ٹاپ والے بیگ بھی تھے جس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ بچے خاصے لائق بھی ہیں میرٹ پہ لیپ ٹاپ بھی لے لیا لیکن کیا وجہ ہے کہ نشے کی طرف رجحان ہے ، شراب ، سگریٹ ، گانا ، لڑکوں کے ساتھ اس طرح سے باہر گھومنا کیا اسے لبرلزم کہتے ہیں کہ کوئی پوچھنے والے نہیں ہیں ، سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے منہ سے دھواں آسمان کی طرف چھوڑتے ہوئے میری طرف دیکھا اور جواب دیا کہ رانا صاحب ”There is Hell Difference Between Liberalism and Obscenity " یہ جو تم دیکھ رہے ہو یہ لبرلزم نہیں بلکہ فحاشی ہے اور اس وقت تم ایک فحاشی کے اڈے پہ بیٹھے ہو ۔اسکا جواب سنتے ہی میں چپ ہو گیا اور سوچنے لگ گیا کہ یہ جو بچے سب یہاں آئے ہیں کیوں آئے ہیں ، پھر خیال آیا کہ یہ بلڈنگ والا جس نے باہر بورڈ تو گلگت بلتستان کے کلچرل کھانوں کا لگایا ہوا ہے لیکن اندر وہ جگہ فراہم کر رہا ہے ان لوگوں کو جو کہیں اور جائیں تو شاید انکو کوئی پکڑ لے یا عوام کی نظر میں آجائیں گے ، ایک چائے اور بوتل جو کہ بظاہر تو ایک بہانہ لگتا تھا لیکن اسی آڑ میں وہ کاروبار کوئی اور کر رہا ہے ، نوجوان نسل کو کیا ہو گیا ہے ، سیاست دان چیختے رہتے ہیں کہ ہم نے تعلیم کا نظام درست کیا ، لیکن وہ کریں بھی تو کیا ، کہاں گئی تعلیم ، کہاں گئے وہ ماں باپ جنکو یہ نہیں پتا کہ میرے بچے کب کس وقت کہاں جا رہے ہیں وہ کونسی محفلوں میں بیٹھ رہے ہیں ، انکا اٹھنا بیٹھنا کونسے لوگوں میں ہے ۔ وہ بچے جو اندر بیٹھے نشہ کر رہے ہیں ان میں سے بہت سے آگے بڑھ کے مختلف شعبوں کی باگ ڈور سنبھالیں گے کچھ ڈاکٹر بنیں گے ، ڈاکٹر کہتے ہیں نشہ نہیں کرنا یہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا لیکن جو ڈاکٹر ہی نشہ کرتا ہو اسکی صحت کون دیکھے گا ، ان بچوں کی رگوں میں زہر اتارنے والے کون ہیں ، کس نے انہیں اس راہ پر چلایا ، کون ذمہ دار ہے ابھی یہ سوچتے ہوئے باہر نکل رہا تھا تو بلڈنگ کے سامنے ایک ریڑھی والا مجھے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا میں اسکے پاس گیا اور پوچھا کہ بابا جی پولیس اس ممٹو دی ہنزہ المعروف فحاشی کے اڈے کے خلاف کچھ نہیں کرتی ، بابا جی مسکرائے اور کہا کہ ”پتر جی ! پنجاب پولیس کی وردی میں دو جیبیں اور لگا دی گئی ہیں ، ایس ایچ او انارکلی تھانہ اپنی آنکھیں اور کان بند کیے بیٹھا ہے اسکی جیب ہر مہینے گرم ہوجاتی ہے کئی آئے اور کئی گئے لیکن مجھے افسوس ہوتا ہے جب یہ اتنے خوبصورت بچے اور بچیاں ہاتھ میں بستے تھمائے سگریٹ پینے کے لیے میرے سامنے اس بلڈنگ میں داخل ہوتے ہیں ، یہ نہیں جانتے کہ یہ اپنا مستقبل تباہ کر رہے ہیں سارا دن یہ کنجر خانہ جاری رہتا ہے ، اللہ ہی ہے جو انکو ہدایت دے “ بابا جی کے الفاظ میرے کانوں میں ایسے گونج رہے تھے جیسے کسی نے سیسہ پگھلا کے کانوں ڈال دیا ہو اور سوچتا ہوا واپس دفتر کی طرف راہ لی کہ ہمارا نظام تعلیم ذمہ دار ہے ۔؟ ہمارے گھر کا ماحول ذمہ دار ہے ۔؟ ہمارے زہنوں میں آزادی کی جو تڑپ پائی جاتی ہے وہ ذمہ دار ہے ۔؟ یا وہ ذمہ دار ہے جس نے انہیں بیٹھنے کی اور یہ سب کرنے کی اجازت دی ۔؟ یا قانون نافظ کرنے والے ادارے ذمہ دار ہیں ۔؟ ہمارا تعلیمی نظام ذمہ دار نہیں کیونکہ میں ایک مڈل کلاس سکول میں پڑھا ہوں ، یونیورسٹی کی تعلیم کے لیے امریکہ یا کینیڈا کا رُخ نہیں کیا بلکہ پاکستان میں ہی تعلیم حاصل کی میں نے نشہ نہیں کیا ، گھر کا ماحول بھی ایفیکٹ نہیں کرتا کیونکہ میرے والد محترم سگریٹ نوشی کرتے ہیں جبکہ میں نہیں کرتا ، لبرل میں بھی ہوں اسکی وجہ سے بھی اس طرف رجحان نہیں ہوا ، دوست بھی ایسے ہیں جو ڈرنک بھی کرتے ہیں ، ان کے ساتھ محفل اٹینڈ بھی ہوتی ہے لیکن کبھی انکا ہم نوالہ نہیں ہوا ، ذمہ دار وہ بھی نہیں جس نے انہیں بیٹھنے کی اجازت دی ، ذمہ دار قانون والے بھی نہیں ، ذمہ دار ہے تو صرف اور صرف آپکا اپنا نفس ، انسان کی خواہش ، کبھی یہ بچے اپنے گریبان میں جھانک کے دیکھیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں ، کونسی ایسی چیز ہے جو انسان کے اپنے کنٹرول میں نہیں ہے ، سب کچھ کنٹرول میں ہے فرق صرف یہ ہے کہ ہم کنٹرول کرنا نہیں چاہتے ، چند لمہوں کے مزے کے لیے اپنا آپ برباد کرنا اور کہنا یہ کہ یہ فلاں کی وجہ سے ایسا ہوا ہے بالکل غلط ہے ، اپنے آپ کو اچھے ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے تو یہ معاشرہ ایک اچھا اور مہذب معاشرہ بن سکتا ہے ۔۔میری والدین سے بھی گزارش ہے کہ اپنے پھول جیسے بچوں پہ نظر رکھیں ، حد سے زیادہ چھوٹ انہیں کب موت کے منہ میں لے جاتی ہے پتا بھی نہیں چلتا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*