بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا 146 واں یومِ پیدائش : راجہ مظفر خان

تحریر: راجہ مظفر خان امریکہ

آج بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا 146 واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے ۔ قاید اعظم کے نام سے غلط فرمودات منسوب کر کے کشمیر میں سیاسی جہالت گمراہی پھیلائ گئ۔ قاید اعظم کے نام کا سہارا لے کر پاکستانی عوام کا بھی استحصال کیا گیا ۔
اللہ تبارک تعالی قائد اعظم کو جنت میں اعلی مقام نصیب فرماے ۔ ۔
بر صغیر پاک و ہند کی ایک نابغہ روزگار شخصیت قائد اعظم محمد علی جناح جیسے رہنما قوموں کو صدیوں میں ملتے ہیں ۔
قائد اعظم کی وفات کے بعد پاکستان وہ پاکستان نہ رہا جس کا تصور علامہ اقبال نے اور جس کی تخلیق قائداعظم نے کی تھی ،
اسی طرح گاندھی کے قتل کے بعد ہندوستان وہ ہندوستان نہ رہا جس کا خواب گاندھی جی اور مولانا ابوالکلام آزاد نے دیکھا تھا۔

اور سیاسی فکری و جغرافیائی طور پر کشمیر وہ کشمیر نہ رہا جو بارہ اکتوبر ۱۹۴۷ سے پہلے وجود میں تھا

اور کشمیریوں کی اپنی وہ تحریک برصغیر ہند کی تقسیم میں دھندلا گئ جو کشمیریوں نے ۱۹۳۱ میں شروع کی تھی۔
داخلی و خارجی سطح اور سمتوں سے ایسے حالات پیدا کیے گے کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنی ریاست اور ریاست پر اپنے شخصی راج کو بچانے کے لئیے اس شخص ( نہرو) سے مدد طلب کی جس کو وہ ذرا بھی پسند نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔۔

پھر وہ نیا کشمیر کشمیر نہ رہا اور وہ شیر شیر۔ نہ رہا جس نے عوام کی حمایت اور طاقت پر بھروسہ کرنے کی بجا ے بیٹے کے ہاتھوں موصول ہونے والے پیغام پر دہلی ایکارڈ پر دستخط ثبت کیے ۔
اور
آج گاندہی کے ہندوستان میں ہندو انتہا پسند آر ایس ایس نے وہی حالات پیدا کر دئیے ہیں اور اقلیتوں کے تئیں وہی رویہ اختیار کر لیا ہے جن کا سامنا قائد اعظم کو کرنا پڑا تھا،
اور آج قاید اعظم کے پاکستان میں بھی مذہبی انتہا پسند T T P ، TLP اور لشکروں کی شکل میں ویسا ہی رویہ اختیار کیے ہوے ہیں جیسا بھارت کے ہندو مذہب کے انتہا پسندوں نے اختیار کر رکھا ہے۔

متحدہ ہندوستان کی تقسیم کی چند وجوہات کا ذکر میں نے اپنے اس آرٹیکل میں بیان کی ہیں جو سرینگر کے اخبار کشمیر عظمی (گریٹر کشمیر) اور پاکستان میں آئ بی سی اردو نے شائع کیا تھا۔
آرٹیکل پڑھنے کے لئیے اس لنک پر کلک کریں ۔

اللہ تعالی قائد اعظم کو جنت میں اعلی
مقام عطا فرماے اور ریاست پاکستان کو کشمیری عوام کی دلی خواہشات ایک آزاد متحدہ خودمختار کشمیر قبول کرنے کے لیئے ان کے دل و ذہن گداز بناے ۔ اور جموں کشمیر کے عوام کے لیئے آسانیاں پیدا کرے۔۔ کشمیر کے سوال پر قائد اعظم صاحب کے خیالات و فرمودات پر ایک تو عمل نہیں ہوا اور دوسرا ان سے غلط مقولے منسوب کئے جا رہے ہیں ۔
اس بابت کہ
“”کیا مسلۂ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے”
کے عنوان سے لکھی گئ کتاب میں معروف تاریخ نویس و دانشور جی ایم میر لکھتے ہیں ؛ –
قائداعظم نے کانگریس کی ۱۴ جون والی قرارداد کے صرف تین دن بعد یعنی ۱۷ جون کو ایک تفصیلی بیان جاری کیا جس کا آخری پیراگراف یوں تھا؛
“میری راے میں ریاستیں اپنی خوشی کے مطابق خودمختار رہ سکتی ہیں ۔ حکومت برطانیہ ، برطانوی پارلیمنٹ ، کوئ اور طاقت یا کوئ اور ادارہ ریاستوں کی خواہشات اور مرضی کے خلاف ان پر کوئ فیصلہ عائد نہیں کر سکتا نہ ہی کسی کو ایسا کرنے کا حق یا اختیار حآصل ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*