لوگو حقہ نہیں تمباکو پیا ہے! قیوم راجہ

تحریر: قیوم راجہ

کانوں سے نہیں زبانوں سے سنا کہ پاکستان کے پہلے فوجی صدر جنرل ایوب خان جن پر دورہ برطانیہ کے دوران ملکہ برطانیہ بھی فریفتہ ہو گئ تھی نے ایک بار کہا کہ پٹواری ان سے زیادہ طاقتور ہے۔ جتنے دائو ہیچ پٹواری جانتا ہے اتنے وہ نہیں جانتے۔ پٹواری حاکم کی بات مان کر بھی اپنی مرضی کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتا ہے۔ پٹواری کے بارے میں یہ تاثر کوئی اتنا اچھا نہیں لیکن انگریز کہا کرتے ہیں کہ "There is always an exception.” یعنی ضروری نہیں کہ سارے لوگ برابر ہوں۔ اسی طرح میرے ایک خالہ زاد ہیں جن کا نام پٹواری ممتاز خان یے۔ لوگ عام پٹواریوں سے تو خائف رہتے ہیں لیکن ہمارے مصیر کے پاس جو ایک بار چلا جائے وہ انہیں بار بار ملنا چاہتا ہے جسکی وجہ انکا فن مجلس ہے۔ انکی باتوں میں مٹھاس اور حکمت اور اکبر بادشاہ کے وزیر مولاں دو ہیازے کی طرح ہر سوال کا جواب ہوتاہے۔ پٹواری صاحب نے کافی ساری شادیاں کی ہوئی ہیں۔ ایک دفعہ ایک من چلے نے انکے تجربے سے استفادہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا کہ پٹواری صاحب فرض کریں میں کسی ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں جس کے والدین تو مانتے ہیں مگر لڑکی بہت منہ زور اور ضدی ہے جو میرے ساتھ شادی کے لیے تیار نہیں تو بتایے اسے کیسے قائل کیا جائے۔ پٹواری ممتاز صاحب نے پہلے کھنگورا لگایا یعنی گلا صاف کیا ۔ پھر نظریں اٹھاکر جوان کے چہرے پر گاڑھ دیں۔ مسکرائے اور یوں گویا ہوئے: "دیکھو۔۔۔ عزیزم ۔۔ پہاڑی پر کبھی گے ہو؟” جوان نے کہا جی ہاں کئی بار گیا ہوں۔ پٹواری ممتاز صاحب نے کہا اگر گے ہو تو پھر جانتے ہو گے کہ پہاڑی پر دوڑ کر جائو گے تو تھک جائو گے جس کے نتیجے میں تمہارا سفر ادھورا بھی رہ سکتا ہے اور راستے میں حادثہ بھی ہو سکتا ہے لیکن اگر آرام آرام سے جائو گے تو منزل پر پہنچ جائو گے اور حادثے کا بھی خطرہ نہیں ہو گا اسے انگریزی میں کہتے ہیں Slow and steady wins the race اور ہم لوگ اسے صبر کا پھل میٹھا بھی کہتے ہیں۔ پٹواری صاحب نے اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ برخوردار پکے رشتے کچے دھاگوں سے نہ باندھو اور نہ کبھی زندگی کے فیصلے پل بھر میں کرو۔ شریک حیات کے معاملے میں جلد بازی کبھی نہیں کرنی چاہیے۔ دھیرے دھیرے کام بہتر رہتا ہے۔

پٹواری ممتاز صاحب مجھ سے عمر میں کافی بڑے ہیں۔ اس لیے زیادہ تر میں ہی انکو ملنے جاتا ہوں ۔ اب وہ عمر رسیدہ اور کئی بیماریوں کا شکار ہیں لیکن انکی حکیمانہ باتوں اور یادوں سے اب بھی ہم استفادہ کرتے ہیں۔ آج میں انہیں ملنے گیا تو انہوں نے کہا کہ کس طرح آج معاشرے میں شعور آنے کی وجہ سے جبر میں کمی واقع ہوئی یے۔ میرے نزدیک تو آج بھی ہمارے معاشرے میں شعور کی کمی ہے لیکن عمروں میں فرق کی وجہ سے شاید میں نے وہ ظلم اور جبر نہیں دیکھا جو پٹواری ممتاز صاحب کی نسل نے دیکھا۔ انہوں نے اپنے دعویٰ کے حق میں دلیل دیتے ہوئے ہمارے گائوں کاایک واقع سنایا کہ ایک مقامی لیڈر نے ایک بڑی محفل میں حکم صادر کیا کہ آج کے بعد جو حقہ پیے گا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ لیڈر صاحب کی دہشت اتنی تھی کہ اختلاف کی کسی کو جرات نہ تھی۔ معاشرے کے اندر چونکہ چغل خور اور چاہ پلوس بھی ہوتے ہیں اس لیے مخبری بھی ہو جاتی ہے۔ اس طرح ایک مخبر نے خبر گرم کر دی کہ فلاں شخص نے حقہ پیا ہے۔ سادہ لوح لوگوں نے شور شرابہ شروع کر دیا کہ اس صاحب کا تو نکاح ٹوٹ گیا۔ اب بیوی اس کے گھر نہیں رہ سکتی۔ دیسی عدالت لگی ۔ سوال جواب ہوئے تو دنیاوی تعلیم سے محروم ملزم نے اس طرح کیس لڑا جس طرح کوئی تجربہ کار وکیل بھی نہیں لڑ سکتا۔ یعنی وہ بزرگ کوئی بحث مباحثہ کیے بغیر کاروائی سنتے رہے ۔ آخر میں ایک ہی فقرے میں کیس جیت گے۔ وہ فقرہ یہ تھا کہ” لوگو میں نے حقہ نہیں تمباکو پیا ہے”۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے تمباکو حقے میں نہیں بلکہ کسی اور چیز میں ڈال کر پی لیا۔ نشہ بھی کر لیا اور حقے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ اسے کہتے ہیں حکمت اور حکمت والے تھوڑی قیمت پر بڑی جنگیں جیت جایا کرتے ہیں جبکہ حکمت سے محروم افراد اور اقوام نسل در نسل خون تو دیتے رہتے ہیں مگر منزل نہیں پاتے تو آئیے ہم بھی اپنی انفرادی و اجتماعی جد و جہد میں حکمت سے کام لیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*