علی گڑھ یونیورسٹی کے خصوصی گزٹ میں سر سید خان سے زیادہ مودی کی تصاویر

اسلام آباد (عبداللہ شاد) اترپردیش میں تاریخی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کے سو سال پورے ہونے پر جاری ہونیوالے خصوصی گزٹ میں سرسید احمد خان سے زیادہ نریندر مودی کی تصاویر شائع ہونے پر یونیورسٹی کے طلبا و طالبات میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

خصوصی گزٹ میں اردو زبان کے سیکشن کا تذکرہ ہی نہیں کیا گیا، گزٹ کے مختلف حصوں میں ہندوستانی وزیراعظم کی 7 جبکہ یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خان کی محض 3 تصاویر شائع کی گئی ہیں۔ طلبا رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کو یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کی اجازت ہی نہیں دی جانی چاہیے تھی کیونکہ وہ یہ سب ڈھونگ عالمی سطح پر تیزی سے گرتی اپنی ساکھ کو سہارا دینے کیلئے کر رہے ہیں جبکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نام بلدنا اور اس کے نصاب میں تبدیلی بی جے پی کے منشور میں اب بھی سر فہرست ایجنڈے ہیں۔

ہندی اخبار نو بھارت ٹائمز کے اداریے کے مطابق بھارتی طالبعلموں میں محمد علی جناح، علامہ اقبال اور مرزا غالب کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ رام راجیے کا خواب دیکھنے والوں کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے، ایک طرف مودی سرکار اردو زبان اور مسلم ہیروز کے ذکر کو ہندوستانی نصاب سے ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری جانب ہندوستانی طالبعلم ان شخصیات کے اتنا ہی گرویدہ ہوتے جا رہے ہیں، اس صورتحال کو روکنے کیلئے سنجیدہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔

0Shares

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

0Shares