آزاد کشمیر کے جنرل الیکشن میں پالیسی کے بجائے برادریوں کا مقابلہ ہے۔۔۔۔ قیوم راجہ

کھوئی رٹہ ( نمائندہ خصوصی) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سنئیر رہنماء اور کالم نگار قیوم راجہ نے آزاد کشمیر کے جنرل الیکشن 2021 کی اب تک کی الیکشن مہم پر اہنے ایک تجزیاتی بیان میں کہا کہ اس الیکشن میں سیاسی پارٹیوں کی کسی قومی پالیسی اورایشوز کے بجائے برادریوں کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے جس میں ریاستی ادارے بے بس اور باشعور طبقہ نالاں نظر آتا ہے. کسی قسم کا ضابطہ اخلاق نظر نہیں آتا امیدوار عوام کے سامنے سیاسی و معاشی پروگرام رکھنے کے بجائے ایک دوسرے پر ذاتی حملوں کی بارش کرتے نظر آتے ییں.

انکا کہنا تھا کہ برادری کے علاؤہ الیکشن میں پیسہ اور موروثیت میرٹ کی ٹاپ لسٹ ہر ہیں ان صلاحیت اور اہلیت کی بنیاد پر الیکشن کرنا ناممکن ہو گیا ہے. آزاد کشمیر میں سڑکوں کا برا حال ہے صحت تعلیم اور بجلی کا نظام سخت بحران کا شکار ہے. آزاد کشمیر میں منگلہ اور نیلم کے بعد ہولاڑ اور گلپور کے ڈیمز بھی بنائے گے ہیں مگر پھر بھی معلوم نہیں بجلی کہاں جاتی ہے.

آزاد کشمیر میں ہوائی اڈہ اور ہسپتال کے دیرینہ عوامی مطالبہ پر کسی پارٹی کے کسی بھی امیدوار نے زبان نہیں کھولی پرانے لیڈرز اسلام آباد کو ہرانے وعدے یاد کرانے کے بجائے اسٹیبلیشمنٹ کو اپنی وفاداری کی یاد دلاتے نظر آتے ہیں مگر قوت خرید کا اپنا ایک اصول ہے جس میں بکنے والے مال کی کوئی رائے نہیں ہوتی کیونکہ خریدار نئے مال کے لیے نئی دکان پر جانے کا حق رکھتا ہے. اسی لیے وزیر امور کشمیر گنڈا پور نے آزاد کشمیر کے لیڈروں کو دو ٹکے کے کشمیری قرار دیا جو اسکی وجہ جاننے کے بجائے بیان پر برہم ہو رہے ہیں وفاداری کی امید وہاں رکھی جاتی ہے جہاں فیصلے نظریے پا لیسیوں ایمان اصول اور قومی ایشوز پر کیے جائیں.

قیوم راجہ نے کہا مایوسی گناہ ہے لیکن ایک انگریزی کہاوت ہے”It has to get worse before it gets better.” یعنی ابھی مزید زلت و خواری اس قوم کے مقدر میں لکھی ہے۔

تعارف: raztv

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*