کرونا وائرس سے صحتیابی کے بعد بھی خطرے کی تلوار لٹکی رہتی ہے ، تحقیق

امریکہ : کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کو طویل عرصے تک اس کی علامات کا سامنا رہتا ہے، اور اب حال ہی میں ایک اور تحقیق میں اس کے ایک اور خطرے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق ماہرین نے لانگ کووڈ کے مریضوں میں پھیپھڑوں کے افعال میں تنزلی کی وجوہات کو شناخت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ دعویٰ امریکا کے ییل اسکول آف میڈیسن کے ماہرین نے کرتے ہوئے بتایا کہ کووڈ کو شکست دینے کے بعد کچھ مریضوں کو مختلف علامات جیسے سانس لینے میں دشواری، کھانسی، بخار، تھکاوٹ یا سینے میں تکلیف کا سامنا مہینوں تک ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے ماہرین نے کووڈ کو شکست دینے والے مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جن کو بیماری کو شکست دینے کے بعد بھی علامات کا سامنا ہوا تھا بالخصوص پھیپھڑوں کے افعال بدتر ہوگئے تھے۔

تحقیق میں کووڈ کو شکست دینے والے 61 مریضوں کو شامل کیا گیا تھا اور محقین نے ان کے پھیپھڑوں کے افعال کا جائزہ 2 اہم بنیادوں پر کیا۔

یعنی کسی فرد کی جانب سے گہری سانس کے ذریعے جسم میں جانے والی ہوا کو خارج کرنے کی مقدار اور پھیپھڑوں میں آکسیجن خون کے سرخ خلیات میں تبدیل کرنا۔

نتائج میں دریافت کیا گیا کہ 70 فیصد مریضوں کو مسلسل سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا جبکہ یہ بھی تصدیق ہوئی کہ کووڈ کی سنگین شدت کا سامنا کرنے والے افراد کے پھیپھڑوں کے افعال متاثر ہونے کا امکان زیادہ تھا۔

اس کے بعد تحقیقی ٹیم نے مریضوں کے خون کے نمونوں کا جائزہ لے کر پھیپھڑوں کی علامات کے تسلسل کی حیاتیاتی وجوہات جاننے کی کوشش کی۔ انہوں نے 3 پروٹینز کو دریافت کیا جن کو پھیپھڑوں کے افعال میں تنزلی کا باعث قرار دیا گیا۔

تعارف: raztv

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*