راہ ادب : خط بنام پیاری امی جان : ثنا ادریس

راہ ادب : خط بنام پیاری امی جان : ثنا ادریس

قلم کار: ثنا ادریس

24 اپریل 2022

بمقام کراچی

پیاری امی جان ! سلام و آداب

آپ کا شفقت نامہ موصول ہوئے ہفتہ ہونے کو ہے ۔ لیکن اس نامے سے آپ کے لمس کی خوشبو اب تک میرے ارد گرد موجود ہے ۔ ہاتھوں میں ہو تو گویا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی گود میں سر رکھے جنت کی سیر کا لطف اٹھا رہی ہوں۔ آہ ! کاش بیٹیاں رخصت ہو کر پرائے گھر کی زینت نہ بنیں۔ لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔
گھر کے کاموں سے فرصت ہی کہاں کہ کاغذ قلم لے کر بیٹھوں۔ میاں حضور کی جب سے بڑے عہدے پر ترقی ہوئی ہے ان کا بیشتر وقت دفتر اور سرکاری محفلوں میں گزرتا ہے۔ آپ تو ان کے مزاج سے واقف ہیں۔ کبھی ساون کی طرح من کی وادی پر برس جاتے ہیں تو کبھی قحط سالی کا شکار ۔ اب یہ نہ کہئے گا کہ شکایت کر رہی ہوں۔ اللہ بخشے ابا حضور کو وہ بھی تو ایسے ہی تھے۔ جہاں آپ نے ان کی خدمت میں کبھی کوئی کمی نہ چھوڑی تھی ۔ آپ کی بیٹی بھی آپ کی پرچھائی ثابت ہوئی ہے۔
آپ کے داماد سہ روزہ دورے پر لاہور گئے ہیں تو کچھ وقت میسر آیا۔ لکھائی کی میز کے سامنے بیٹھی تو بیتا وقت کسی فلم کی مانند نظروں کے سامنے گزرنے لگا۔ عالم خورشید صاحب نے بھی کیا خوب کہا۔

حیران ہو رہا ہوں بصیرت کے نام پر
میں دیکھتا کچھ اور ہوں منظر کچھ اور ہے

ماں آپ کو یاد ہے میرا دن رات ایک کر کے پڑھائی کرنا اور آپ کا کھانے اور آرام کے معاملے میں لاپرواہی پر سرزنش کرنا۔ پھر اپنے ہاتھوں سے لقمے بنا کر دینا۔ جواباً میرا ہنس دینا اور آپ کی مصنوعی خفگی۔ ماں! کیا وہ دن لوٹ کر واپس نہیں آ سکتے۔ اب تو معلوم ہوتا میں لکھنا ہی بھول گئی۔ گردشِ ایام اور ذمہ داریوں نے گھن چکر بنا کر رکھ دیا۔

پچھلی گرمیوں آپ کے سلوا کر بھیجئے گئے ملبوسات نے مشکل آسان کر دی تھی۔ نہ جانے ماؤں کو بیٹیوں کے دل کا حال کیونکر معلوم ہو جاتا ہے۔ جنید میاں کی پیدائش کے بعد نئے جوڑوں کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی تھی ۔ پر ممکن نہیں ہو پایا کہ اس کام کو عملی جامہ پہنایا جائے ۔ جس دن آپ کا بھیجا پارسل موصول ہوا اس دن مجھے بات بے بات رونا آ رہا تھا۔ اپنی کیفیت خود بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔ شاید پہلی بار ماں بننے کے بعد پڑنے والی ذمہ داری نے ان احساسات کو جنم دیا ۔ پوسٹ مین نے دروازے پر دستک دی تو چونک گئی۔ اس دروازے پر تو صرف سرکاری ملازمین کی دستک ہوتی ہے ۔ اس پہر جانے کون آیا۔ دروازے کی اوٹ سے پوچھا تو جواب ملا پارسل ہے حیدرآباد سے ۔ اپنے شہر کا نام سنتے ہی ہاتھ پیر پھول گئے ۔ کپکپاتے ہاتھوں سے پارسل لیا اور دستخط کر کے کاغذ پوسٹ مین کو تھمایا۔ جلدی جلدی دروازہ بند کیا اور کمرے کی جانب لپکی۔ کئی بار پارسل کو چہرے کے قریب کر کے آپ کی خوشبو محسوس کی۔ آنکھوں سے اشک رواں تھے کہ گھر کا لکھا پتہ بھی دھندلا سا گیا۔ میں بھی کیا لے کر بیٹھ گئی۔

آپ اپنی صحت کا خیال رکھتی ہیں نا ؟ وقت پر کھانا اور دوا لیتی ہیں؟ میں نے فون پر حمیدہ کو تمام باتیں بہتر طور سمجھا دی تھیں۔ پتہ نہیں وہ آپ کا خیال رکھتی بھی ہے کہ نہیں۔ بڑے بھیا کا سنائیں ۔ ولایت جا کر تو ہمیں بھول ہی گئے۔ کاش کہ وہ اپنے کئے وعدے نہ بھولیں۔ لیکن یہ تو صرف امید کی جا سکتی ہے۔ میرے بس میں ہوتا تو آپ کو کبھی اکیلا نہ رہنے دیتی ۔ اپنے پاس لے آتی۔ مگر سسرال میں رہتے ہاتھ پیر بندھے معلوم ہوتے ہیں۔

آپ کا نواسہ ماشاءاللہ تین ماہ کا ہو گیا ہے ۔ اس خط کے ساتھ اس کی تصاویر بھیج رہی ہوں۔ میاں صاحب نے بڑے چاؤ سے فوٹوگرافر گھر بلا کر اپنے سپوت کے ساتھ تصویریں بنوائی ہیں۔ ماشاءاللہ دونوں کو کسی کی نظر نہ لگے۔ اب یہ نہ کہئے گا کہ میری تصویر ان کے ساتھ کیوں نہیں۔ وہ تو کہتے رہے پر میں نے ہی منع کر دیا ۔ مجھے کہاں شوق ان باتوں کا ۔

رضیہ خالہ کا سنائیں ، حج کی سعادت نصیب ہوئی انہیں۔ یہ جان کر دلی خوشی محسوس ہوئی ۔ اللہ بھی کیسی کیسے انسان کی لبیک پر کن کہتا ہے ۔ کہاں میاں کی زندگی میں سر توڑ کوشش کے بعد بھی نہ جا سکیں۔ اور اب جبکہ بیوگی کی چادر اوڑھے سال بھر نہ ہوا بلاوا آ گیا ۔ رب کے کام وہی جانے ۔

موسم بدل رہا ہے ۔ گرم شالیں اور اونی سوئیٹر آپ کے کمرے میں موجود الماری کے پہلے خانے میں رکھے ہیں۔ حمیدہ سے کہہ کر انہیں دھلوا کر دھوپ لگوا لیں۔ جوڑوں کے درد کی دوا حکیم صاحب سے منگوا لیجئے گا ۔ حمیدہ سے روز مالش کروانی ہے۔ دوا لینے میں ناغہ بالکل نہیں کرنا ۔ ابا کی تمام چیزیں ایک خانے میں موجود ہیں۔ انہیں اپنی جگہ سے ہلانے کی ہمت ہی نہ ہوئی تھی۔ جس انسان کے وجود سے لوگوں کو خوف آتا ہو وہ انسان منوں مٹی تلے جا سویا۔ اب کہاں کا خوف ، کہاں کا ڈر۔ جبھی تو ابا کے انتقال کے فوراً بعد بھائی نے ولایت جانے کا خواب پورا کر لیا۔ لیکن ان تمام خوابوں کو توڑ گیا جو ابا اور آپ نے ان کے لئے دیکھے تھے ۔ کاش بیٹوں کو رخصت کر دیا جاتا اور بیٹیاں پاس رکھی جاتیں تو آج کوئی ماں اس طرح اکیلی نہ ہوتی ۔ بیٹیاں پرائی نہیں ہوتیں ماں ۔ بیٹے پرائے ہوتے ہیں۔

ماں ! میں نے زندگی سے ایک سبق سیکھا ہے ۔ خود پر کسی کو صرف اتنا اختیار دینا چاہئے جتنا وہ مستحق ہو۔ اپنی محبت ، احساسات ،جذبات کسی ایسے انسان کے لئے وقف کرنا جو ان جذبوں کی اہمیت سے نابلد ہو ۔ صریحاً خود کے ساتھ نا انصافی ہے۔ کاش مائیں بیٹیوں کو زندگی کے اتار چڑھاؤ سکھانے کے ساتھ ساتھ بیٹوں کو بھی اس رنگ میں رنگنے کا سلیقہ دیں تو شاید یہ کہنے کی نوبت ہی نہ آئے۔

اچھا اب میں چلتی ہوں ۔ جنید میاں اٹھ گئے ہیں۔ ان کے کھانے کا وقت ہو گیا ہے۔ اس خط میں اپنا دل نکال کر رکھ دیا ہے میں نے ۔ جانتی ہوں آپ خفا ہونگی ۔ مگر کیا کروں ماں ۔ آپ ہی ماں ہیں ، آپ ہی بہن اور سہیلی ہیں۔ آپ سے بھی نہ کہوں تو کس سے کہوں۔ کوشش کروں گی کہ میاں جی اجازت دے دیں ۔ پھر کچھ دن آپ کے ساتھ گزارنے آؤں گی۔ پھر ڈھیر ساری باتیں کریں گے۔ اور ہاں آپ کے ہاتھ کا بنا کریلے گوشت میں روز بنوایا کروں گی۔ ارے آپ حیران کیوں ہو رہی ہیں کہ میں اور کریلے۔۔ اب تو ہر کڑوی شے حلق سے اتر جاتی ہے۔

اپنا خیال رکھئے گا۔ جواب کی منتظر رہوں گی۔ لیکن جو باتیں اوپر کہی ہیں ان پر عمل لازمی کیجئے گا۔ باقی تفصیلات حمیدہ کو فون پر سمجھا دونگی اور اس کے کان بھی کھینچوں گی۔

اجازت دیں۔
واسلام
آپ کی پیاری بیٹی
ثناء ادریس

0Shares

تعارف: ویب ڈیسک

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

0Shares