انہوں نے کہا : وصال محمد خان

تحریر : وصال محمد خان

پاکستان دنیاکاسستاترین ملک ہے ۔وز یراعظم عمران خان
کیابات ہے ہمارے ریاست مدینہ ثانی(خودساختہ) کے ”شہنشاہِ معظم “ کی ۔وہ جب بھی ارشادفرماتے ہیں کمال فرماتے ہیں ۔اب یہ کہاں کی کوڑ ی لیکرآگئے کہ پاکستان دنیاکاسستاترین ملک ہے ۔یہ بھی کوئی بتانے والی بات ہے ؟اوراسمیں شک والی بھی کوئی بات ہے؟پاکستان واقعی دنیاکاسستاترین ملک ہے ۔جواجناس دنیامیں مہنگی ترین سمجھی جاتی ہیں وہی اشیاء یہاں بالکل سستی بلکہ فری میں دستیاب ہیں ۔ یعنی انسانی جان،افیون ،ہیروئن ،چرس ،آئس ،خودکش جیکٹس ،بم ،بارود،بندوق،اوراسکی گولیاں وغیرہ اس ملک میں پوری دنیاسے سستی ہیں ۔انسانی جان ایک ایسی جنس ہے جوشاہِ دوراں کے ملک میں کچھ زیادہ ہی سستی بلکہ فری ہے،فری بھی کیایہاں تواسکے پیکیج دستیاب ہیں۔ کوئی بھی کسی بھی وقت کوئی بھی بہانہ بناکرکسی کی جان لے لیتاہے ۔ سرعام جیتے جاگتے انسان کوآگ لگادی جاتی ہے ۔ اسے ٹھڈے ،لاتیں گھونسے ،پتھر،اینٹیں ،روڑے ،ہتھوڑے اورگولیاں مارمارکرجسم کی چٹنی بنادی جاتی ہے ۔جوڑجوڑہڈی ہڈی توڑپھوڑدی جاتی ہیں ۔مشال خان کی ماں بھی یہی دہائی دیتی رہی کہ میرے بیٹے کی انگلیاں تک چارچارجگہ سے توڑی گئی تھیں آخریہ سفاکیت کیوں ؟ کچھ اسی سے ملتی جلتی دہائی سری لنکن منیجرکی ماں نے بھی دی ہے ۔کہاجاتاہے کہ جس ملک میں ا ناج مہنگاہوجاتاہے وہاں دواشیاء سستی ہوجاتی ہیں انسانی جان اورجسم ۔اب دیکھیں اپنی ریاست مدینہ ثانی کوکہ کیایہاں یہ دونوں اشیاء سستی ہیں یامہنگی ہیں؟یہاں یہ دونوں سستی ہیں اوراسلئے سستی ہیں کہ اناج مہنگاہے ۔اوراگراس ملک میں اناج مہنگاہے اوراتنامہنگاہے کہ مز دورسارا دن خون پسینہ بہائے ،ہڈیاں چٹخائے،چمڑاگھسائے اورہاتھ پاؤں چورکرائے پھربھی ایک پیٹ کادوزخ بھرنے سے قاصرہے ۔جس ملک میں جھوٹ ،فریب ،دھوکہ دہی اوربھوک ننگ کاراج ہواسے ریاستِ مدینہ کانام دینایاتشبیہ دیناگناہ ہے ۔ جب آپ دیکھتی آنکھوں ،سنتے کانوں سے دیکھ اور سن رہے ہیں کہ اس ملک میں بے گناہوں کاخون بہتاہے ،سرعام بہتاہے، دن دیہاڑے بہتاہے، سربازاربہتاہے ،ببانگ دہل بہتاہے اورڈنکے کی چوٹ پربہتاہے تواسے ریاست مدینہ سے تشبیہ دیناگناہ نہیں ؟ہاں توبات ہورہی تھی پاکستان دنیاکاسستاترین ملک ہونے کی۔ توشہنشاہِ معظم پاکستان واقعی دنیاکاسستاترین ملک ہے۔ اس میں توشک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ۔مگریہ اپر،ایلیٹ ،لگژری ،وی آئی پی کلاس، یعنی آپ والی کلاس کیلئے سستاترین ملک ہے ۔ آپ جناب جیسے شہنشاہِ معظم جن کی ماہانہ تنخواہ بطورِ ویراعظم نقدسکہ رائج الوقت مبلغ دس لاکھ روپے ہے ،دس ہزارلیٹرپٹرول مفت کی سہولت دستیاب ہے ،دوچارلاکھ روپے کی مفت ٹیلیفون کالز فرماسکتے ہیں ، دوچارہزاریونٹس مفت بجلی وزیراعظم ہاؤس کے علاوہ بنی گالہ والی جھونپڑی میں بھی استعمال کرسکتے ہیں ، انواع واقسام کے کھانے مفت بغیرقیمت اداکئے خالہ جی کاگھرسمجھ کرتناول فرماسکتے ہیں ، آپکے وزرائے کرام کوبھی تقریباًیہی سہولیات دستیاب ہیں ۔تب ہی تومحترم جناب عزت مآب دانشور،سائنسدان ،عالم دین ،افلاطون ثانی وزیرباتدبیر(ریاستِ مدینہ خودساختہ)آنحضرت فوادچوہدری نے بھی ارشادفرمایاہے کہ ایک گولی کی قیمت 3سے 7روپے ہوگئی توکونسی قیامت آگئی ؟اب افلاطونِ دوراں کوکون سمجھائے کہ اس ملک کی اکثریت غریب لاچارسسکتے بلکتے ایڑھیاں رگڑتے مریضوں کی ہے ۔جن کیلئے یہ قیمتیں تین سوسے سات سو،تین ہزارسے سات ہزار،اورتین لاکھ کی دوائی سات لاکھ کی ہوچکی ہے ۔ یہاں کے مریض پورے دن میں صرف ایک گولی نہیں کھاتے بلکہ خودساختہ ریاست مدینہ میں اطباء خواتین وحضرات گولیوں ،سیرپوں، انجکشنوں اورڈرِپوں کی صورت میں ایک گٹھری مریض کے سرپردھردیتے ہیں ۔اس بوجھ تلے غریب ولاچارمریض کی جھکی کمرادھ مواہوجاتی ہے ۔آپکی حکومت توصحت کارڈکے ڈھنڈورے پیٹ رہی ہے مگرایک توصحت کارڈابھی ریاست کے ہرشہری تک پہنچانہیں، دوسرے یہ صحت کارڈگزشتہ حکومت کامنصوبہ ہے ،تیسرے صحت کارڈپرتمام قسم کاعلاج دستیاب نہیں ۔بہرحال بات دنیاکے سستے ترین ملک کی ہورہی تھی توواقعی عالی جاہ !آپکی بات بلکہ ارشادبجااوردرست وصحیح ہے ۔آپکی سلطنت واقعی دنیاکاسستاترین ملک ہے۔ مگرگنتی کے چندمخصوص افرادیعنی اشرافیہ کیلئے ہے ۔باقی نوے فیصدتک عام شہری جان کنی کے عذاب جیسی زندگی جی رہے ہیں۔یہاں رعایاکوجان کے لالے پڑے ہوئے ہیں ، لوگ بچے بیچنے پرمجبورہورہے ہیں ،گردے بیچے جارہے ہیں ، ماں بچوں سمیت دریاؤں میں چھلانگ ماردیتی ہے ،بچوں کوزہردیکرماردیتی ہے ، ریاست کے ناروا،ناجائز، ظالمانہ ، سنگدلانہ ٹیکسوں نے شہریوں کوبھوکاسونے پرمجبورکردیاہے ۔ سفیدپوش طبقہ غریب جبکہ غریب مزیدغریب اورغربت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھنساجارہا ہے ۔ لوگوں کیلئے جسم وجاں کارشتہ برقراررکھنامشکل ترہورہاہے ۔ معیشت اوپرجانے کی باتیں ، سروے سے غربت ختم یاکم ہونے کی نویدیں ،دنیا بھرمیں مہنگائی کی کہانیاں اورسلطانی ماہرینِ معیشت کے رٹے رٹائے جملوں سے غریب کی مشکلات کم نہیں ہونگیں ۔اوپرسے دنیاکاسستاترین ملک ؟ خداکیلئے ہوش کے ناخن لیجئے ،انہی عوام یارعایانے آپکوبڑے مان اورچاؤکیساتھ اقتدارکے سنگھاسن تک پہنچایا۔آپ دوسروں کے کرپشن کی داستانیں سناتے رہے ، غریب کو”اوپراٹھانے “کے دعوے فرماتے رہے، ریاست ِ مدینہ ،دنیاکی بڑی بڑی سلطنتوں اورممالک کی حکایات سناتے رہے ۔دنیاکی تاریخ میں جس حکمران نے ”رنگیلاشاہی“ کواپنایا۔وہ ملک بھی تباہ ہوا،وہ ریاست وسلطنت بھی تباہ ہوگئی اوروہ ایمپائربھی ز میں بوس ہوئے ۔ صدافسوس کامقام ہے جس ملک کے شہری بھوک ، بیروزگاری ،غربت ،ننگ ،افلاس ،بجلی اورگیس کی ناروابندش ، ظالمانہ ٹیکس اورسماج دشمن عناصرکوبھگت رہے ہیں۔اس ملک کے حکمران فرماتے ہیں کہ ”ان“ کاملک دنیاکاسستاترین ملک ہے ۔نجانے اس ملک کی سیاست ،حکومت اورمعاشرت کب جھوٹ کے بے پایاں سمندرسے باہرنکلے گی ؟ خان صاحب پاکستان واقعی دنیاکاسستاترین ملک ہے۔ مگریہ آپ جیسے دس بیس ارب کے مالک طبقہء اشرافیہ کیلئے ہے ۔باقی رہ گئی اس ملک کی خانماں بربادنوے فیصدعوام، توان کیلئے یہ سستاترین نہیں بلکہ مہنگاترین ملک ہے اوراس مہنگائی کی وجہ بھی آپکی حکومتی نااہلی ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*